Loading
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں مزید کمی ہوگئی ہے اور شرح 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو ان کے سیاسی کیریئر کی اب تک کی کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
رائٹرز کے ایک تازہ سروے کے مطابق امریکی عوام میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے۔ سروے میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو ان کی مقبولیت میں کمی کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ملک میں مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے بھی ناخوش ہے۔ تقریباً 71 فیصد امریکیوں نے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے صدر کے طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری جاری ہے۔ ان انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ سمیت اہم سیاسی مقابلے ہوں گے، اس لیے صدر کی مقبولیت اور عوامی رائے کو دونوں جماعتیں خاص اہمیت دے رہی ہیں۔
رائٹرز کے سروے میں آزاد ووٹرز کے رجحان سے بھی ڈیموکریٹس کو تقویت ملتی دکھائی دی ہے۔ سروے کے مطابق 36 فیصد آزاد ووٹرز نے کہا کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کے حق میں اپنی ترجیح ظاہر کی۔
امریکی سیاست میں آزاد ووٹرز کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ ووٹرز ہر انتخاب میں لازماً کسی ایک جماعت کے ساتھ وابستہ نہیں رہتے۔ ان کا رجحان کئی اہم ریاستوں اور انتخابی حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک اہم وجہ ایران جنگ بھی بتائی جارہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی تنازع کے باعث امریکا میں جنگ کے اخراجات، امریکی فوجیوں کی تعیناتی اور تنازع کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل