Loading
وطنِ عزیز کے کئی مقتدر اور سینئر سیاستدان و حکمران اِس وقت بیرونِ ملک ہیں ۔ زیادہ تر لندن میں!کروڑوں پاکستانی رواں لمحات میں خطِ غربت سے بھی کہیں نیچے گر کر نہائت عسرت اور تنگدستی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور بنا دیئے گئے ہیں ۔
حکومت بجلی اور پٹرول و ڈیزل کے نرخ ہر روز بڑھا کر غریب عوام پر ہر روز نئی بجلیاں گرا رہی ہے۔ عوام کی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔ سبھی حکومتی و غیر حکومتی ادارے شہادتیں دے رہے ہیں کہ مہنگائی کا ہلاکت خیز گراف ہر روز بلند سے بلند تر ہو رہا ہے ۔
ایسے میں جب پاکستانی عوام یہ دیکھتے اور سُنتے ہیں کہ ہمارے حکمران ( مبینہ سیر سپاٹے اور علاج معالجے کے لیے) بیرونِ ملک روانہ ہو رہے ہیں تو عوام اپنے دل تھام کر رہ جاتے ہیں ۔ عوام اور حکمرانوں کے درمیان پھیلی اجنبیت اور لا تعلقی کی خلیج پہلے سے زیادہ پھیل جاتی ہے ۔ عوام بجا طور پر بیچارگی سے کہتے ہیں کہ ہمیں تو وطن کے سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹر میسر ہیں نہ دوائی، جب کہ ہمارے حکمرانوں کو چھینک بھی آتی ہے تو یہ مغربی ممالک کے مہنگے ترین اسپتالوں میں ترنت داخل ہو جاتے ہیں ۔
نون لیگ کے مرکزی قائد و صدر ، جناب محمد نواز شریف، مبینہ طور پر علاج معالجے کے لیے سنگا پور جا چکے ہیں۔ بعد ازاں شائد اُن کا دوسرا پڑاؤ لندن ہی ہو۔ اشتباہ انگیز سوالات پوچھے جا رہے ہیں کہ پہلے تو بغرضِ علاج نواز شریف صاحب لندن پدھارا کرتے تھے ، مگر اب کی بار سنگاپور کا انتخاب کیوں؟ 4ستمبر 2026 کو نون لیگی سیاستدان اور وفاقی وزیر امورِ کشمیر ، انجینئر امیر مقام، بھی اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتے ہُوئے لندن چلے گئے ۔
اُن کی وزارت نے بتایا ہے کہ وہ بھی بغرضِ علاج و میڈیکل معائنے کے لیے ہی برطانوی دارالحکومت میں موجود ہیں ۔ جس وقت یہ سطور اشاعت پذیر ہوں گی، وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف بھی لندن ہی میں موجود ہوں گی جہاں پہلے ہی اُن کے دو بھائی موجود ہیں۔ایون فیلڈ جن کا ماضی میں بڑا غلغلہ رہا ہے ، مگر اب گمنامی کی دھول میں معدوم ہو چکا ہے۔ شنید ہے کہ محترمہ مریم نواز شریف لندن اس لیے پہنچی ہیں کہ اُنہیں اپنی ایک صاحبزادی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کرنا ہے۔ یہ بھی ہمارے حکمران طبقات کی منفرد پہچان بن چکی ہے کہ وہ اپنے بیٹے بیٹیوں کو مغربی ممالک کے مہنگے تعلیمی اداروں میں پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ روٹی روزگار اور دوائی کو ترستے پاکستانی عوام اور پاکستانی حکمرانوں کے درمیان موجود خلیج کی یہ ایک اور نشانی ہے ۔
نون لیگی مقتدر لیڈرز لندن جا براجے ہیں تو پیپلز پارٹی کی قیادت بھلا پیچھے کیوں رہتی ؟ گویا پُر اسرار مقابلے کی ایک دوڑ لگی ہے ۔ صدرِ پاکستان ، جناب آصف علی زرداری ، بھی لندن میں ہیں ۔ مقتدر والدِ گرامی کے پیچھے پیچھے صاحبزادہ صاحب ، بلاول بھٹو زرداری، بھی لندن جا پہنچے ۔ صدرِ مملکت کی ایک صاحبزادی بھی لندن میں موجود ہیں ۔ اگلے روز تینوں (باپ ، بیٹے اور بیٹی) کی لندن میں گہری اور گُوڑھی ملاقات ہُوئی ہے ۔ وزیر داخلہ ، جناب محسن نقوی، بھی تو لندن ہی میں تھے تاکہ وہ لندن آئے ’’کسی‘‘ بڑے کو (نئے مجوزہ صوبوں کے حوالے سے) منا سکیں۔ لگتا مگر یہی ہے کہ ’’کوئی‘‘ مانا نہیں ہے ۔
شائد اِسی لیے محسن نقوی صاحب کو 5ستمبر2026 کو لاہور میں منعقد ہونے والے National Policy Diaglogueمیں صاف کہنا پڑا:’’ نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔‘‘ یعنی گل وَدھ گئی ہے ۔ لندن میں مقتدر پاکستانی بڑوں کی جو ملاقاتیں ہو رہی ہیں،بعض قیافہ شناس اِنہیں ’’نئے لندن پلان‘‘ کا عنوان دے رہے ہیں۔پچھلی نصف صدی کے دوران ’’لندن پلان‘‘ کے زیر عنوان پاکستانی اقتدار کے حصول بارے اتنی مبینہ سازشیں اور منصوبہ جات منصہ شہود پر آ چکے ہیں کہ اب کسی نئے لندن پلان کا نام سُنتے ہی ہم پاکستانی ڈر جاتے ہیں۔ ویسے بھی لندن کی کھلی فضاؤں سے ہمارے جملہ سیاستدان اور پاکستان کی اعلیٰ ترین اشرافیہ اتنی مانُوس ہے کہ وہ لندن ہی میں بیٹھ کر اپنے اور اپنی آل اولاد کے مستقبل بارے فیصلے اور منصوبہ بندیاں کرتے ہیں ۔ پاکستان کو تو اِن باوسائل اور طاقتور گروہوں نے اپنی شکارگاہ بنا رکھا ہے ۔
مذکورہ بالا مقتدر افراد ایسے وقت میں لندن پہنچے ہیں جب وطنِ عزیز میں نئے صوبوں اور مجوزہ انتظامی یونٹوں کی آوازیں یکا یک بلند سے بلند تر ہوتی سنائی دے رہی ہیں ۔ ہر گزرتے روز اِن آوازوں کی لَے میں شدت بھی آتی جا رہی ہے۔ مخالفت اور موافقت میں یکساں ۔ صدرِ مملکت اور اُن کے صاحبزادہ و صاحبزادی ( یعنی درحقیقت پوری پاکستان پیپلز پارٹی ) ایسے اوقات میں لندن میں موجود ہیں جب سندھ کی صوبائی اسمبلی میں سندھ کی ’’انتظامی‘‘ تقسیم کے خلاف آوازیں واضح طور پر سنائی دی گئی ہیں۔
جب صدرِ مملکت کی ہمشیرہ( محترمہ فریال تالپور)نے سندھ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ارکان ِ پیپلز پارٹی کو نہائت جذباتی اسلوب میں مخاطب کرتے ہُوئے پوچھا ہے : ’’اگر سندھ نئے صوبوں میں منقسم ہو گیا یا سندھ کے نئے انتظامی یونٹ بنا دیئے گئے تو تم سب لوگ اگلے جہان میں شہید بے نظیر بھٹو کو کیا جواب دو گے ؟۔‘‘ سیاسی و خاندانی مفادات بھی کیسے کیسے رنگ دکھا رہے ہیں؟ سب حیرت میں مبتلا ہیں کہ بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم کا پاکستان روز بروز کیا سے کیا شکل اختیار کرتا جارہا ہے ؟
پاکستانی سیاست میں ’’لندن پلان‘‘ ایک ایسا اصطلاحی اور سیاسی تکرار والا لفظ ہے جو مختلف ادوار میں مخالفین کی طرف سے اہم سیاسی فیصلوں ، جوڑ توڑ اور خفیہ معاہدوں کے پس منظر میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اقتدار کے حصول کے لیے ہمارے ماضی کے ایک سیاستدان( لندن میں بیٹھ کر) پاکستان بارے جو دل آزار بیانات کے گولے داغتے رہے ہیں، ہم سب بھُولے نہیں ہیں ۔
ماضی کا ایک ایسا ہی سیاستدان ( جو کبھی پنجاب کا گورنر بھی رہا اور وفاقی وزیر بھی) نے لندن میں اپنی خود ساختہ جلاوطنی کے دَور میں برطانیہ کے ایک مشہور جریدے میں مضمون لکھا تھا:’’ مَیں بھارتی ٹینکوں پر سوار ہو کر پاکستان واپس آؤں گا۔‘‘حیرت کی بات ہے کہ یہ صاحب واپس پاکستان آیا بھی ، جیل گیا اور رہا ہو کر پھر وفاقی وزیر بن گیا۔ یہ ہے ہماری سیاست۔ ایسے میں رواں لمحات کے دوران کسی موہومہ لندن پلان کی بازگشت عوام کے کانوں میں پڑتی ہے تو سبھی کے کان کیوں کھڑے نہ ہوں؟؟
سندھ اسمبلی( ستمبر2026کے پہلے ہفتے ) صوبے کی تقسیم کے خلاف قرار داد منظور کر چکی ہے۔ صوبہ سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، فریال تالپور ، نثار کھوڑو،سعید غنی ، شرجیل میمن وغیرہ نے جو کچھ بھی کہا ہے ، اُن سب کے الفاظ کو جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے قلب و ذہن کی آواز سمجھنا چاہیے ۔ سندھ اسمبلی میں صوبوں کی نئی تقسیم کی مخالف آوازوں کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور شریک چیئرمین کی خاموش تائید و نصرت حاصل ہے ۔ سبھی معاصرنے لندن کی ڈیٹ لائن سے یہ خبر شائع کی ہے کہ ’’لندن میں جناب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کی جو تفصیلی ملاقات ہُوئی ہے ، اِس میں دونوں صاحبان نے مبینہ طور پر سندھ کی تقسیم کے خلاف اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔‘‘ عجب گھڑمس مچا ہے ۔
نون لیگ کے اندر ( احسن اقبال اور خواجہ آصف کی شکل میں)نئے مجوزہ صوبوں کے حق میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں جب کہ رانا ثناء اللہ کا راگ مختلف ہے۔ دونوںنون لیگی مرکزی قائدین دانستہ مہر بہ لب ہیں۔ نواز شریف اور صدرِ مملکت کی وطن سے غیرحاضری کو بھی نئے معانی پہنائے جا رہے ہیں ۔ لندن میں پکنے والی کھچڑی بھی جَلد ہی کوئی نہ کوئی رنگ دکھانے والی ہے۔ اللہ خیر کرے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل