Sunday, September 06, 2026
 

گمنام غلاموں کا خون

 



اسلامی فکر کا مطلب بھی یہی ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونا اور واقعی یہ ایک زندہ انسان کا اپنے پانچ ہزار سال پرانے غلام دوست سے ایک مکالمہ ہے۔ شریعتی ان قبروں پر بیٹھ کر اپنے اسی گمنام دوست کو بتا رہے ہیں کہ مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا تھا۔ مجھے اس جھوٹی تاریخ نے دھوکا نہیں دیا۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب کسی انسان کو یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کی ساری روشن تاریخ جس پر وہ بچپن سے فخر کرتا تھا وہ دراصل ظلم کی ایک بھیانک داستان ہے تو اس پر کیا گزرتی ہو گی۔ وہ اس سچ کا بوجھ کس طرح اٹھاتا ہے۔ یہ بالکل آسان نہیں ہوتا جب آپ کے عقائد اور آپ کی بنائی ہوئی دنیا کا شیشہ ٹوٹتا ہے تو انسان کے اندر ایک خلا اور ایک شدید تنہائی پیدا ہوتی ہے۔ ایک بہت گہرا تنہائی کا احساس ۔ آپ بھیڑ میں ہوتے ہوئے بھی اکیلے ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ سچ جو آپ کو نظر آ رہا ہے وہ باقی لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ لیکن ڈاکٹر شریعتی ہمیں سمجھاتے ہیں کہ یہ تنہائی ، یہ درد اور یہ بے چینی اصل میں فکری بیداری کی پہلی منزل ہے۔ جب تک آپ اس جھوٹے فخر کی کینچلی نہیں اتارتے آپ اپنے اصل وجود اور اپنی اصل آزادی کو نہیں پا سکتے۔ زندگی کے مقصد کو سمجھنے کے لیے یہ درد ضروری ہے۔ یہ بے چینی کا سفر بہت ہی تکلیف دہ ہے۔ اور اس بے چینی میں صرف شریعتی اکیلے نہیں تھے۔ ان غلاموں نے بھی تو آزادی کے خواب دیکھے تھے۔ سورس میٹیریل اس سفر کو ایک بہت ہی حیرت انگیز ایک ڈسٹربنگ موڑ پر لے جاتا ہے۔ یہ حصہ سچ میں آنکھیں کھولنے والا ہے۔ ان غلاموں کو بھی امید تھی کہ یہ رات کبھی تو ختم ہو گی۔ انھوں نے سوچا تھا کہ نئے رہنما، نئے مفکر جیسے بدھا کنفیوش زرو واسٹر اور مانی یہ سب آئیں گے۔ انھیں ان ظالم فرعونوں سے نجات دلائیں گے۔ انھیں لگتا تھا کہ یہ مقدس پیغام ان کی زنجیریں توڑ دیں گے۔ یہی اس تحریر کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ تاریخ کے سورس مٹیریل میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے کہ احورا یا مزدا کی آواز میں ابتدائی طور پر حق اور آزادی کا پیغام تھا۔ وہ ان کمزور پسے ہوئے لوگوں کی آواز تھے جنھوں نے فرعونوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ لیکن اگر ان رہنماؤں اور مفکروں کا پیغام اتنا واضح اور آزادی کا پیغام تھا تو اچانک بات الٹی کیسے ہو گئی۔ ان نئے فرعونوں نے اس پیغام کو ہائی جیک کیسے کر لیا۔ اور لوگوں نے اسے قبول کیسے کرلیا۔ انھیں نظر نہیں آ رہا تھا کہ مخصوص مذہبی رہنما ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ یہ وہ پوائنٹ ہے جو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ طاقتور طبقہ بہت ہوشیار ہوتا ہے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ بغاوت کو وہ طاقت سے نہیں روک سکتے اور یہ آزادی کا خیال ان کے نظام کو تباہ کر دے گا تو انھوں نے راستہ بدل لیا۔ "مطلب انھوں نے ان پیغمبروں کی مخالفت چھوڑ کر خود اسی مذہب کا لباس پہن لیا۔ جب اصلی نجات دہندہ دنیا سے چلے گئے تو ان کے نائب بن کر یہ ظالم آگے آ گئے۔ انھوں نے مذہب کو جو آزادی دینے آیا تھا اپنا ہتھیار بنا لیا۔ اور لوگوں نے اسے اس لیے قبول کیا کہ اب ظلم کسی راجہ کے حکم پر نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے نام پر ہورہا تھا۔ "انسان جسمانی ظلم کے خلاف تو لڑ سکتا ہے لیکن جب اس کے دماغ میں یہ ڈال دیا جائے کہ اس کی تکلیف ایک 'مقدس فرض ' ہے تو وہ خود اپنی زنجیروں کو چومنے لگتا ہے۔ یہ اتنے حیرت انگیز اور دل دہلا دینے والی بات ہے کہ اگر اسے ایک مثال سے سمجھا جائے تو یہ بالکل ویسی ہی بات ہوئی کہ "جو چابی غلاموں کی زنجیروں کو کھولنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ ان نئے فرعونوں نے اسی چابی کو پگلا کر ایسی زنجیریں بنا دیں کہ وہ جسم کے بجائے سیدھا روح کو جکڑ لیتی تھیں۔ یہ ایک بہترین مثال ہے۔ مذہب کے نام پر بت خانوں اور عبادت گاہوں میں انھی غلاموں سے مفت اور بیگار کام کروایا گیا۔ اور اب غلام خوشی خوشی کام کر رہا تھا۔ کیوں کہ اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے خدا کو راضی کر رہا ہے۔ جب کہ اصل میں وہ مذہبی ٹھیکیداروں اور پادریوں کے بینک اکاؤنٹ بھر رہا تھا۔ اور یہی پوائنٹ ڈاکٹر شریعتی کی اسلامک فلاسفی کا نچوڑ ہے۔ "انھوں نے ثابت کیا کہ جسم کی غلامی سے ذہن کی غلامی ایک ہزار گناہ زیادہ طاقتور اور خطرناک ہوتی ہے۔ یہ صدیوں پرانا گٹھ جوڑ ہے۔ فرعون یعنی سیاسی طاقت، قارون یعنی سرمایہ دارانہ طاقت اور مذہبی ٹھیکیدار جو ان دونوں کی کرپشن کو مذہبی جسٹی فکیشن فراہم کرتا ہے۔ جب یہ تینوں مل جاتے ہیں تو انسان بری طرح سے تباہ ہو جاتا ہے"۔ ڈاکٹر شریعتی یہی سمجھانا چاہتے تھے کہ حق انصاف اور اصل مذہب کو ان لوگوں سے بچانا ضروری ہے۔ جنھوں نے اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ مذہب جب اپنی شکل باقی رکھے مگر اندر سے کھوکھلا ہو جائے تو اس وقت کے برابر ہے جب مذہب تھا ہی نہیں۔ مطلب ایک ایسی عمارت جو باہر سے روحانی اور مقدس لگتی ہے لیکن اندر سے وہ صرف عوام کو کنٹرول کرنے اور ایک مخصوص طبقے کے مفاد کا ذریعہ بن چکی ہے۔ اشرافیہ یا طبقہ امراء کے اقتدار میں مزدوروں اور نچلے طبقات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ عہد قدیم میں جو سلطنتیں قائم ہوئیں،ان میں مزدوروں کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے تھے۔جس قوم کی حکومت ہوتی تھی ‘ اس قوم سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو تو شہری حقوق حاصل ہوتے تھے جب کہ دوسری اقوام کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا۔ غلاموں کو تو مزدوروں سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ غلاموں اور کنیزوں کے لیے سزاؤں کا کوڈ بھی الگ ہوتا تھا۔ان کے باہمی نکاح کا بھی کوئی کلچر نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی ان کے بچوں کے کوئی حقوق ہوتے تھے۔ غلاموں کا یہ طبقہ اپنے آقاؤں کے رحم و کرم پر ہوتا تھا، وہی ان کے حقوق کا تعین کرتے ‘ان کے معاوضے کا تعین بھی وہی کرتے تھے۔ ریاست اور بادشاہ کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں رکھا جاتا تھا۔آقا کی مرضی ہے کہ وہ کسی کنیز کو یا غلام کو اپنے طبقے کے کسی شخص کو بطور تحفہ دے دے یا اسے فروخت کر دے۔کنیزوں کو آقا اپنی ذاتی خدمت کے لیے بھی بلاتے رہتے تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل