Sunday, September 06, 2026
 

مکالمہ جو ہوا ہی نہیں!

 



الف: یہ پاکستان میں سیاسی و معاشی حالات خاصے خراب ہیں۔ غربت‘ مہنگائی اور جرائم نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اوپر سے رشوت… پیسے دیے بغیر کوئی جائز کام بھی نہیں ہوتا۔ س : کیا کہہ رہے ہیں، آپ! کتنے آرام سے فرما دیا کہ صورت حال مخدوش ہے۔ جناب! بین الاقوامی سطح پر ہمارے ملک نے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیئے ہیں۔ حد درجہ اہمیت کے تجارتی معاہدے تو سب کے سامنے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ نا شکرے ہیں ‘ اس لیے تو اپنے ملک کے حوالے سے منفی باتیں کر رہے ہیں۔ ج: معلوم پڑتا ہے کہ آپ دونوں حقیقت شناسی سے دور ہی ہیں۔ عوام نے جدوجہد کرکے ملک میں جمہوریت بحال کرائی ہے۔ اسی وجہ سے ملک کو آئین ملا ہے۔ عوام نے قربانیاں دی ہیں۔سیاسی رہنماؤں نے خون نچھاور کیا ہے۔ ملک کا کوئی بھی صوبہ ترقی کر رہا ہے تو پاکستان کا ہی صوبہ ہے۔ اگر ہمارا بندرگاہ والا شہر ملک کو نہ پالے ‘ تو سوچیں معیشت کا کیا ہوگا۔ الف: درست‘ بالکل درست فرمایا : لیکن ملک کے غریب عوام کے لیے دو وقت کی روٹی پورا کرنا مشکل ہوچکا ہے جب کہ امراء کی دولت کی بھوک ! خدا کی پناہ ۔ پ: بھئی کیا بات کر رہے ہیں۔ یہ ساری افواہیں ‘ ہمارے دشمنوں نے اڑائی ہیں۔ کسی سے بھی معلوم کر لیجیے۔ ن: میرا خیال ہے ۔آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمرانی کے کلچر میں کسی برائی کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا۔ سب کچھ ہی فری در فری ہے۔ ذرا غور کریں اور دیکھئے! ملک میں موٹر ویز‘ ایئرپورٹ اور سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کا انفراسٹرکچر تو بین الاقوامی سطح کا ہے۔ آئے دن‘ ہمیں تیر رفتار ترقی کے بین الاقوامی ایوارڈ ملتے ہیں۔ لگتا ہے‘ آپ کی بینائی قدرے کمزور ہے۔ اورنج ٹرین‘ انڈرپاس‘ بائی پاس‘ اسپتال‘ یہ سب کچھ ہوا میں تو نہیں ہے؟ الف: حضور! بڑے منصوبوں میں کمیشن بھی بہت ہوتا ہے ناں؟ اسی لیے عوام میں پذیرائی حاصل کرنے کے لیے یہ کھیل کھیلا جاتا ہے‘ اب تو دنیا کے ہر ملک میں ہمارے ملک کے اشراف کی جائیدادیں ہیں۔ لندن کیا‘ پیرس کیا‘ ہر جگہ یہی فسانے ہیں۔ د : بھائی درست بات کر رہے ہو۔ حکمران طبقے نے تو سب کوسبق دیا کہ کھانے کے لیے لگانا بہت ضروری ہے؟ ٹ : دیکھیے! حد سے نہ بڑھیے۔ ہمارے لیڈروں نے جلاوطنی کا عذاب سہا ہے۔ در بدر کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ یہ سب کچھ انھوںنے جمہوریت کی خاطر کیا ہے۔ ح : آپ لوگ کیسی مہمل باتیں کر رہے ہیں۔ یہ کوئی جلسہ گاہ نہیں ہے۔ ویسے ہمارے سیاستدان ڈنڈے کے لائق ہیں، ڈنڈے والے انھیں حکومت میں لاتے ہیں، پھر کچھ دیر سیدھے رہتے ہیں، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنی حرکتوں پر واپس آجاتے ہیں۔ اسی لیے ان  کی اوقات کچھ بھی نہیں ہے۔ ج اورد : دیکھئے‘ عوام اور جمہوریت کی توہین نہ کریں۔ سیاستدانوں نے اس ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ اگر عوامی مینڈیٹ نہ چھینا جائے، مارشل لاء نہ لگے‘ جمہوریت چلتی رہے تو آج پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کے برابر ہوتا ۔ بس سیاستدانوں کو کام نہیں کرنے دیاجاتا۔ ح: زیادہ باتیں نہ بنائیں‘ سب کو پتہ ہے کہ سیاسی لیڈروں اور جماعتوں نے کیا کیا کارنامے انجام دیئے ہیں ‘ بلاوجہ تو حکومتوں سے فارغ نہیں ہوتے۔ ج د: یار! ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ تم نے نہیں دیکھا، ایک صحافی بھی ہماری باتیں سن رہا تھا، اسے اصل خبر تو نہیں دینی تھی۔ ج: چلو! ٹھیک ہے۔ عام لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنی مرضی کی بات کو خبر بنانے کا فن صحافیوں سے زیادہ آپ لوگوں کے پاس ہے۔ ش: بھائی میری بھی تو سنو! عوام میں مقبولیت تو میرے اسیر لیڈر کو حاصل ہے۔ بس تھوڑے دن کی بات ہے۔ وہ جیل سے باہر ہو گا۔ اور اقتدار بھی اس کے پاس ہوگا۔ اس پر محفل میں موجود سب ہنس دیئے‘ بھئی یہ عوامی طاقت کیا ہوتی ہے؟ یاد رکھو! ووٹ کی عزت تو بالکل بھی نہیں ہوتی؟ بھائی جان! آپ بہت سادہ ہیں! بلکہ طفل مکتب ہیں۔ ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے تو عوام کو خوش کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ اور اس لیے بھی کہ ٹی وی ٹاک شوز میں ذرا بہتر بات ہو سکے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سات دہائیوں سے صرف اشرافیہ کا اقتدار ہے۔ اسے ہی عزت حاصل ہے، باقی تو سب سرجھکا کے جینا سیکھ چکے ہیں۔ بیک گراؤنڈ میں طبلچی اور آرکسٹرا ’’راگ درباری‘‘ بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ حاضرین محفل موسیقی پر تالیاں بجا کر دھمال ڈالنی شروع کر دیتے ہیں۔ پھر آواز آتی ہے، یہ ہم کیا تاریخی باتیں کرنا شروع ہو گئے۔ بھئی ماضی تو گزر گیا۔ اب واپس تو نہیں آ سکتا! حالات حاضرہ پر کچھ بحث ہو جائے۔ ذرا بتایئے کہ یہ سب کچھ لندن میں کیوں جمع ہیں؟کیا ہونے جارہا ہے؟ د: کیا بات فرما رہے ہیں۔ سیاسی منافقت پر کیا بات کریں۔ چھوڑیئے۔ آرام سے انجوائے کریں۔ پس پردہ سرگرمیوں پر بحث سے گریز کریں۔ اطمینان سے مل بیٹھ کر کھایئے ۔ آج تک ان سیاسی لیڈروں کو گرم ہوا تک نہیں لگی ۔ لندن پر کیا بات کرنی؟ تمام گھاگ لیڈر ہیں‘ کوئی لندن پلان 2 ترتیب دے رہے ہوں گے! پتہ نہیں یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ ج : بالکل قیاس آرائی ہے۔ سنا ہے کہ ایک صاحب تو تھوڑے سے علیل ہیں‘ اس لیے علاج کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ ف: ویسے برا نہ منائیے گا۔ آپ کے لیڈر اب صحت مند ہیں۔ لیکن اکثر وعدہ بھول جاتے ہیں؟ د : جناب ! جو لندن گئے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے خرچ پر گئے ہیں۔ الف: ہیں جی! ویسے تو قومی خزانہ حکمرانوں کے لیے ہی ہوتا ہے۔ ف: بار بار کہہ رہا ہوں۔ فضول گفتگو سے پرہیز کریں مل جل کر بیٹھیں۔ ج: یہ ایک اہم ترین وزیر لندن‘ کیا کرنے گیا تھا۔ سنا ہے کوئی پیغام تھا اور کسی کو دینا تھا۔ بھلا‘ اس کی کیا ضرورت تھی؟ فون پر ہی بتا دیتے۔ ادھر سے کون سا انکار ہو جانا تھا؟ د: جناب! آپ معاملہ کی نزاکت کو نہیں سمجھتے ۔ اب کبوتروں کے ذریعے پیغام دینے کا زمانہ نہیں رہا۔ اہم باتیں۔ ایک دوسرے کے سامنے ہی کی جاتی ہیں۔ ورنہ معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے۔ ص: آپ کبھی نہیں سدھرو گے۔ دیکھو‘ ہم نے کتنے اچھے بچے کو تخت پر بٹھایا ہوا ہے۔ ہر روز صرف نئے سوٹ پہن سکتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ حکمران اچھے بچے بن چکے ہیں ،کبھی شکایت کا موقعہ نہیں دیں گے۔  محفل میں قہقہ بلند ہوا، سب یک زبان ہوکر بولے! وہ تو ‘ وہ کام بھی کر دیتے ہیں جو بڑوںکے ابھی ذہن میں ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ ‘ اگلا سیٹ بھی یہی رہے گا۔ کچھ منچلے بولے ، بھائی! ابھی اگلے سیٹ کی بات نہ کرو! اس کا فیصلہ تو وقت کے مطابق ہوگا۔ بس وقت کا انتظار کرنا ہی سمجھداری ہے۔ اتنی دیر میں ایک ملنگ محفل میں داخل ہوتاہے۔ آرکسٹرا‘دوبارہ ‘راگ درباری بجانا شروع کر دیتاہے۔ اور سب دھمال ڈالنا شروع کر دیتے ہیں۔ (اس افسانوی مکالمے کا ہمارے سیاسی حالات سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل