Monday, September 07, 2026
 

ماحولیاتی کارکردگی عالمی منڈیوں تک رسائی کی اہم شرط

 



پاکستان کی برآمدی صنعتیں،خصوصاً ٹیکسٹائل،اسپورٹس گڈز اور لیدرسیکٹر، ایسے دورمیں داخل ہورہی ہیں، جہاں ماحولیاتی کارکردگی اب محض کاروباری ساکھ کامعاملہ نہیں رہی بلکہ بڑی عالمی منڈیوں تک رسائی برقراررکھنے کی اہم شرط بنتی جا رہی ہے۔ پاکستان کی برآمدی مسابقت پہلے ہی توانائی کی بلندقیمتوں، مالیاتی مشکلات،کمزور انفراسٹرکچر اور حکومتی  پالیسیوں کے باعث دباؤکاشکار ہے، ایسے میں صاف اورکم کاربن پیداوارکی جانب منتقلی صنعت کیلیے بڑامسابقتی موقع بھی بن سکتی ہے اور اضافی مالی بوجھ بھی،جس کاانحصار اس بات پر ہوگاکہ اس منتقلی کے اخراجات کس طرح تقسیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مالی سال 2025-26 میں ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات 17۔93 ارب ڈالررہیں، تاہم ان میں اضافہ صرف 0۔26 فیصد رہا۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران یہ شعبہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں 59۔7 فیصد کاحصہ رکھتا تھا۔یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، جہاں پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کاحصہ تقریباً 70 سے 76 فیصد تک ہے۔ پاکستان یورپی یونین کے جی ایس پی پلس پروگرام کاسب سے بڑامستفید ملک بھی ہے، جس کے تحت 2024 میں پاکستان کو تقریباً 732 ملین یوروکی ٹیرف رعایتیں حاصل ہوئیں، صورتحال میں کم کاربن اور پائیدار سپلائی چینزکی طرف منتقلی پاکستان کیلیے براہ راست معاشی اہمیت رکھتی ہے۔ عالمی خریدار اب پاکستانی مصنوعات کی قیمت اورمعیارکے ساتھ ساتھ یہ بھی جانناچاہتے ہیں کہ مصنوعات کس ماحول میں اورطریقہ کارکے تحت تیارکی گئی ہیں۔ کاربن اخراج، توانائی ذرائع،پانی کااستعمال،فضلے کاانتظام،سپلائی چین کی ٹریس ایبلٹی، مزدوروں کے حالات، ماحولیاتی ذمہ داری اور سرکلر اکانومی جیسے عوامل عالمی سورسنگ کے فیصلوں کاحصہ بنتے جا رہے ہیں۔ صورتحال میں پاکستانی مینوفیکچررزکوقابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، جدیداورکم توانائی استعمال کرنیوالی مشینری، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، کاربن اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی اور تربیت یافتہ افرادی قوت پر سرمایہ کاری کرناہوگی، تاہم پاکستان میں بالخصوص چھوٹے اوردرمیانے درجے کے اداروں کیلیے ایک ہی وقت میں اتنے بڑے اخراجات برداشت کرناآسان نہیں۔ ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان میں موسمیاتی، توانائی اور برآمدی پالیسی الگ الگ نہیں، بلکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت تشکیل دیناہوگا۔پاکستانی برآمدی صنعتوں کیلیے پیغام واضح ہے کہ اگر عالمی برانڈز صاف اور پائیدار سپلائی چین چاہتے ہیں تو انہیں اس عمل کی مالی معاونت میں بھی حصہ لیناہوگا، عالمی تجارت کے قواعد تیزی سے موسمیاتی منتقلی کے تحت تبدیل ہورہے ہیں،حکومت کوگرین سرمایہ کاری کیلیے سازگار توانائی اور پالیسی ماحول فراہم کرناہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل