Loading
حنا جاوید اور ہری پور میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والی معصوم بچی آیت کے کیسز میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے پولیس کی تحقیقات پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے دونوں کیسز کی ترجیح بنیادوں پر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرپرسن سید نوشین افتخار کی زیرصدارت ہوا۔
اجلاس میں سی پی او راولپنڈی نے حنا جاوید قتل کیس پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی شواہد سے واضح ہوگیا تھا کہ واقعہ ڈکیتی یا خودکشی نہیں بلکہ قتل ہے، تحقیقات میں سائنسی طریقہ کار استعمال کیا گیا۔۔۔ کرائم سین سے 80 شواہد اکٹھے کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب فارنزک ایجنسی کی رپورٹس کا انتظار ہے۔ اس پر کمیٹی نے سوال کیا کہ حنا جاوید کے سسر کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ جس پر سی پی او نے بتایا کہ سسر کو تین روز حراست میں رکھا گیا تھا تحقیقات کی تفصیلات فی الحال منظرعام پر نہیں لائی جاسکتیں۔
اجلاس میں ہری پور کی7سالہ بچی آیت نور سے زیادتی اور قتل کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ رکن کمیٹی بابر نواز نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہری پور پولیس پر اعتبار نہیں، پانچ افراد کے ملوث ہونے کا بتایا گیا، چار گرفتار ہوئے تو پانچواں کہاں ہے؟
ضلعی پولیس آفیسر ہزارہ کے مطابق آیت نور کو گھر سے باہر بلانے والا بچہ ساڑھے بارہ سال کا ہے، کیس میں نامزد چاروں ملزمان بھی کم عمر ہیں۔
پولیس نے 200 کیمروں کی فوٹیج مانیٹر کی جس میں سے صرف 25 کیمروں کی فوٹیج کارآمد قرار دی گئی۔
رکن کمیٹی زیب جعفر نے ایف آئی آر کے اندراج میں دو روز کی تاخیر پر سوال اٹھایا جبکہ سحر کامران نے پوچھا کیا آیت نور کیس میں زینب الرٹ قانون لاگو ہوا؟
چیئرپرسن کمیٹی سید نوشین افتخار نے کہا کہ ہمارے بچے کہیں محفوظ نہیں، 30 سے 35 کروڑ روپے خرچ کرکے سیف سٹی منصوبے پر توجہ دی جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل