Monday, September 07, 2026
 

مسلم نسل کشی پر اقوام متحدہ میں قید کاٹنے والے بوسنیا کے قصاب کی فوجی اعزاز کیساتھ آخری رسومات

 



مسلم نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم میں اقوام متحدہ کے زیر حراست عمر قید کی سزا کاٹنے کے دوران ہلاک ہونے والے 84 سالہ رَتکو ملادیچ کی آخری رسومات ادا کردی گئیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 84 سالہ رَتکو ملادیچ کی میت پیر کو سربیا کے دارالحکومت بلغراد کے سینٹ لیوک چرچ میں آخری دیدار کے لیے رکھی گئی جہاں ہزاروں افراد اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پہنچے۔ سرب النسل سابق فوجی کمانڈر رتکو ملادیچ کی لاش تابوت میں رکھی گئی جبکہ اس کی فوجی ٹوپی اور تلوار بھی تابوت کے ساتھ رکھی گئی۔ فوجی وردیوں میں ملبوس اہلکار تابوت کے اطراف موجود رہے۔ سربیا کے حکومت نواز ذرائع ابلاغ کے مطابق ملادیچ کو مکمل فوجی اعزاز دیا جائے گا جبکہ سرب آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ پیٹریارک پورفیریے آخری رسومات کی مذہبی تقریب کی قیادت کریں گے۔ ’بوسنیا کے قصاب‘ کو ہیرو سمجھنے والے بھی موجود رَتکو ملادیچ کو بوسنیا کی جنگ کے دوران اس کے کردار اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل میں ملوث ہونے کی وجہ سے بوسنیا کا قصاب کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود سربیا میں قوم پرست حلقوں کا ایک طبقہ آج بھی اسے ہیرو سمجھتا ہے۔ جنازے میں شامل سرب افراد کا کہنا تھا کہ رتکو ملادیچ نے اپنی پوری زندگی سرب عوام کے لیے وقف کردی تھی جب کہ بلغراد میں فٹ بال میچ کے دوران شائقین نے ملادیچ کی بڑی تصویر کا بینر آویزاں کیا اور اس کے نام کے نعرے لگائے۔ رَتکو ملادیچ کون تھا؟ رَتکو ملادیچ بوسنیائی سرب فوج کا اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر تھا۔ 1992 سے 1995 تک جاری رہنے والی بوسنیا کی جنگ میں اس نے سرب افواج کی قیادت کی۔ اقوام متحدہ کے تحت قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا۔ 2017 میں اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے اسے 1995 میں سربرینیتسا میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کے قتل، دارالحکومت سرائیوو کے طویل محاصرے اور دیگر سنگین جنگی جرائم کا ذمہ دار قرار دیا۔ ملادیچ 27 اگست کو نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں 84 برس کی عمر میں اس وقت ہلاک ہوا جب وہ اپنی عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ ملادیج نے مسلمان پناہ گزینوں کے قتلِ عام کی قیادت کی ملادیچ کے جرائم میں سب سے ہولناک واقعہ سربرینیتسا قتلِ عام تھا۔ جولائی 1995 میں سرب فورسز نے سربرینیتسا پر قبضہ کرلیا۔ یہ علاقہ اقوام متحدہ کی جانب سے بوسنیائی مسلمانوں کے لیے محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ ملادیچ کی سرب افواج نے قبضے کے بعد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو الگ کیا۔ ہزاروں افراد کو قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ بعد میں شواہد چھپانے کے لیے بعض لاشوں کو قبروں سے نکال کر دوسری جگہ منتقل کیا گیا۔ بین الاقوامی عدالتوں نے سربرینیتسا میں ہونے والے قتل کو نسل کشی قرار دیا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں نسل کشی کے طور پر تسلیم کیے جانے والے بدترین واقعات میں سے ایک تھا۔ سرائیوو کا محاصرہ بھی ملادیچ کے جنگی جرائم کا حصہ ملادیچ پر بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو کے طویل محاصرے کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی۔ سرب فورسز نے شہر کو برسوں محاصرے میں رکھا جس کے دوران شہری آبادی کو گولہ باری اور فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالت نے ملادیچ کو ان کارروائیوں سمیت غیر سرب شہریوں اور جنگی قیدیوں کے خلاف دیگر جرائم میں بھی مجرم قرار دیا۔ سربیا نے ملادیچ کی سرکاری سطح پر پذیرائی کی ملادیچ کی آخری رسومات کا انتظام باضابطہ طور پر اس کے خاندان نے کیا تاہم سربیا کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایک طیارہ بھیج کر اس کی میت دی ہیگ سے بلغراد منتقل کی۔ سرب فوجیوں نے قومی پرچم میں لپٹا تابوت وصول کیا جبکہ ہفتے کے روز سربیا کی فوج کے ایک سرکاری مقام پر ملادیچ کے لیے فوجی تقریب بھی منعقد کی گئی۔ سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ جنازے میں شریک نہیں ہو رہے۔ اس معاملے کو عوام کے جذبات کا اظہار قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ اس سوال سے متعلق نہیں کہ حکومت نے کسی چیز کی اجازت دی یا نہیں۔ یورپی یونین برہم ملادیچ کو سرکاری نوعیت کے فوجی اعزازات دیے جانے پر یورپی یونین نے سخت اعتراض کیا ہے۔ یورپی یونین کی توسیع کی کمشنر مارٹا کوس نے سربیا کا اپنا آئندہ دورہ منسوخ کردیا اور کہا کہ ملادیچ کی موت کے بعد اس کی ’’ہیرو کے طور پر پذیرائی‘‘ ان اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی جن پر سربیا کی یورپی یونین میں شمولیت کی کوشش قائم ہے۔ خیال رہے کہ سربیا یورپی یونین کا امیدوار ملک ہے تاہم اس کی رکنیت کی کوشش پہلے ہی جمہوری پسپائی اور روس کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں میں شامل نہ ہونے سمیت مختلف معاملات کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔ سربیا کا مؤقف سربیا نے بوسنیا کی جنگ میں اپنے کردار کے حوالے سے مغربی ممالک کی تنقید کو مسترد اور طویل عرصے سے مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ سرب عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا تھا۔ سربیا کے صدر ووچچ نے بھی مغرب پر سربوں کو کئی دہائیوں تک مظالم کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ سربیا نے اب تک سربرینیتسا میں ہونے والے قتل عام کو نسل کشی تسلیم نہیں کیا اور اسے ایک ’’ہولناک جرم‘‘ قرار دیتا ہے۔ بوسنیا کی جنگ میں کیا ہوا تھا؟ سابق یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد 1992 میں بوسنیا ہرزیگووینا میں جنگ شروع ہوئی۔ نسلی سرب فورسز نے بوسنیا کے وسیع علاقوں پر قبضہ کرکے انہیں سرب اکثریتی ریاست کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔ تقریباً تین سال جاری رہنے والی جنگ میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔ جنگ کا اختتام 1995 میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد ہوا۔ ملادیچ کی سرب فوج اور سیاسی قیادت پر اس جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر قتل، جبری بے دخلی، حراستی کیمپوں اور دیگر جنگی جرائم کے الزامات عائد ہوئے۔ جنگی مجرموں کو اعزاز دینے کی روایت پر سوال ملادیچ کو مکمل فوجی اعزاز دیے جانے کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ سربیا میں اس سے قبل بھی سزا یافتہ جنگی مجرموں کو سرکاری نوعیت کی رسومات دی جا چکی ہیں۔ گزشتہ برس سابق سرب فوج کے چیف آف اسٹاف نیبوئشا پاوکووچ، جو جنگی جرائم میں سزا یافتہ تھا، کو بھی ممتاز شخصیات کے لیے مختص قبرستان میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل