Tuesday, September 15, 2026
 

تاریخ میں پہلی بار مکہ مکرمہ میں فضائی حملے کے خطرے کا الرٹ جاری؛ اب خطرہ ٹل گیا

 



سعودی عرب کے مختلف مقامات پر حوثیوں کے حملے کے تناظر میں مکہ مکرمہ میں پہلی بار فضائی حملے کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا گیا۔ یہ الرٹ سعودی سول ڈیفنس نے جاری کی ہے جس میں مکہ مکرمہ، جدہ اور طائف سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرے کے حوالے سے ہنگامی الرٹس جاری کیے تاہم کچھ ہی دیر بعد مکہ مکرمہ میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کردیا گیا۔ سعودی سول ڈیفنس کی جانب سے جاری الرٹ میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی۔ جس کے بعد حوثیوں کے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں پر تشویش مزید بڑھ گئی۔ تاہم تھوڑی دیر بعد ہی سعودی سول ڈیفنس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ مکہ مکرمہ میں خطرہ ٹل گیا ہے لیکن شہری احتیاطی تدابیر جاری رکھیں غیر ضروری اجتماعات اور متاثرہ مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ رپورٹس کے مطابق مکہ مکرمہ میں اس نوعیت کا الرٹ پہلی بار جاری کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سعودی سول ڈیفنس نے ملک کے 6 علاقوں میں بھی مختصر دورانیے کے فضائی خطرے کے الرٹس جاری کیے تھے۔ حوثیوں کا میزائل اور ڈرون حملہ یہ الرٹس ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے جب یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ایک حالیہ حملے میں 13 شہری زخمی ہوئے جبکہ جدہ، مکہ اور طائف میں الرٹس کے بعد سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سعودی قیادت نے کہا ہے کہ مملکت کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔  حوثیوں نے اس دوران جنوبی سعودی عرب میں واقع کنگ خالد ایئربیس سمیت مختلف اہداف پر درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز سے حملے کا دعویٰ کیا۔ سعودی قیادت کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں ہونے والے حملوں سے 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔  ایک مقامی رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ خمیس مشیط میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کچھ مقامات پر کافی دیر تک آگ لگی رہی۔ خیال رہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کو ملکی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ سعودی قیادت کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اس طرز عمل کو روکنے کے لیے ضروری عملی اقدامات کیے جائیں گے۔  حوثیوں کی جانب سے سعودی حملوں کے جواب میں حازم الاسد نے کہا کہ جب تک سعودی عرب یمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا، حوثیوں کا ردعمل بھی جاری رہے گا اور اس میں شدت آسکتی ہے۔  دوسری جانب حوثیوں کے دعوے کے مطابق سعودی عرب نے یمن میں گزشتہ دو روز کے دوران 50 سے زائد فضائی حملے کیے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ بحیرہ احمر اور باب المندب پر بھی خطرات یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی نے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ بحیرہ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق گروپ نے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے اہم راستے پر بھی کنٹرول مضبوط کرلیا جس سے عالمی بحری تجارت اور تیل کی ترسیل پر خدشات پیدا ہوئے ہیں۔  قطر نے بھی خبردار کیا ہے کہ باب المندب آبنائے کی بندش کے عالمی سطح پر انتہائی سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اہم بحری تجارتی راستہ ہے۔ امریکا نے سعودی درخواست مسترد کردی؟ اس کشیدہ صورتحال کے دوران امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں مداخلت کی درخواست کی تھی تاہم ٹرمپ نے مبینہ طور پر اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کو حوثیوں کے بارے میں انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معلومات فراہم کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔  رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت اب ایسے وقت میں اپنے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے جب حوثیوں کی تیز پیش قدمی اور حملوں نے خطے میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ واضح رہے کہ 2014 سے یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان جھڑپ میں 2024 میں کچھ کمی آئی تھی تاہم رواں برس جولائی سے دوبارہ شدت آگئی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل