Tuesday, October 27, 2026
 

بجلی بلوں میں 200 یونٹ کی شرط ختم کرنے پر کام کر رہے ہیں، اویس لغاری

 



وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے موجودہ نظام میں تبدیلی پر کام کر رہی ہے، جس کے تحت 200 یونٹ کی حد کے بجائے غربت کی بنیاد پر ریلیف دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ 200 یونٹ کی حد بڑھا کر 250 یونٹ تک کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، کیونکہ صاحبِ حیثیت افراد سولر سسٹم لگا کر اپنے بجلی کے یونٹ 200 سے کم کر لیتے ہیں اور رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ مستقبل میں یہ مسئلہ ختم ہو، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچ گئی، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں میں زیادہ تر صارفین شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ حکومت یونٹس کے بجائے غربت کی بنیاد پر بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے نظام پر کام کر رہی ہے، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو ریلیف دینے کے لیے منصوبے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے اجلاس کو بتایا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب روپے رہ گیا ہے اور آئندہ چار سال کے دوران گردشی قرضے ختم کرنے کا ہدف ہے، آئندہ چار سال میں گردشی قرضوں پر ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم ہو جائے گا۔ اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کے قیام کے وقت وزارت توانائی کو 1180 ارب روپے بجٹ سپورٹ ملتی تھی جبکہ وزارت توانائی کی بجٹ سپورٹ رواں سال کم ہو کر 700 ارب روپے رہ گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈسکوز کے نقصانات میں ہر سال کمی کی گئی ہے، ڈسکوز کے نقصانات میں کمی کا فائدہ ابھی تک صارفین کو نہیں پہنچ سکا۔ سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف کا تعلق پاکستان کے کروڑوں عوام سے ہے، پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بجلی کے بل بھی عوام کی بساط سے باہر ہیں، 200 یونٹ سے ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر بل اچانک دگنا ہو جاتا ہے، کیا ڈسکوز کی بجلی چوری کا بوجھ بھی غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ سینیٹ اجلاس میں حکومتی ارکان کی عدم موجودگی اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث کارروائی متاثر ہوئی، جبکہ اپوزیشن نے ایوان میں وزرا اور ارکان کی عدم موجودگی پر اعتراض اٹھایا۔ اجلاس میں صحافیوں نے بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کی پریس گیلریوں سے واک آؤٹ کیا، تاہم سینیٹرز کی یقین دہانی کے بعد صحافیوں نے احتجاج ختم کر دیا۔ پرائزائیڈنگ آفیسر سینیٹر عبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے دوران ارکان کی غیر حاضری پر اپوزیشن نے اعتراض کیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں، سوالات کے جواب کون دے گا؟ سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ ایوان کا مذاق بنایا جا رہا ہے، اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے باوجود حکومتی ارکان موجود نہیں ہیں۔ اس دوران سینیٹر محسن عزیز نے کورم کی نشاندہی کردی، جس پر گھنٹیاں بجائی گئیں، تاہم کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کیا گیا۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایک بار پھر کورم کی کمی سامنے آئی اور ایوان میں صرف آٹھ ارکان موجود تھے۔ کورم پورا کرنے کے لیے دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں، جس کے بعد اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس آگئے۔ ایک رکن کی آمد کے بعد کورم مکمل ہوا اور کارروائی دوبارہ شروع کر دی گئی۔ اجلاس کے دوران صحافیوں نے پارلیمنٹ کی پریس گیلریوں سے واک آؤٹ کیا۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ناصر بٹ اور تحریک انصاف کے سینیٹر مرزا محمد آفریدی صحافیوں کے مسائل سننے کے لیے پریس گیلری پہنچے اور انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد صحافیوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ دوسری جانب اجلاس کے دوران حکومتی بنچوں پر ارکان کی تعداد انتہائی کم رہی اور اس وقت حکومتی نشستوں پر صرف دو ارکان موجود تھے۔ سینیٹ کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل