Loading
چار مرلہ زمین کیلئے باپ کو قتل کرنے والے بیٹے کی صلح کی بنیاد پر رہائی کے کیس میں سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس سامنے آگئے۔
تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس ہاشم کاکڑ کر رہے تھے، میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنہور بھی شامل تھے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں 11 کیسز میں سے 10 کیس بیوی کو قتل کرنے کے تھے، دو مردوں کی لڑائی میں بیویوں کو قتل کر دیا گیا، کوئی مسئلہ تو علیحدگی اختیار کرلو، بیوی کو قتل کرنے دینے کا کیا جواز ہے؟۔
مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس فساد فی الارض میں نہیں آتا، ملزم کے دماغ کی خرابی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اگر دماغی خرابی تھی تو ملزم خود کو گولی مار لیتا یا چھت سے چھلانگ لگا لیتا، باپ کو گولی مارنا ذہنی بیماری کیسے ہو سکتی ہے؟۔
انہوں نے سوال کیا کہ والد کو مارنے کے بعد ملزم کو بریت کا سرٹیفکیٹ کیوں چاہیے اور اس کا مستقبل کیا ہے؟ کیا اس نے کوئی امتحان دینا ہے یا سیاست میں آنا ہے؟.
مجرم کے وکیل نے کہا کہ عدالت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھے میرا موکل 2015 سے جیل میں قید ہے، جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ گیارہ سال سے زائد قید کاٹنے پر آپکے موکل کو الزام سے بری کردیا جائے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ اس کیس کے فیصلے کا پورے ملک پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک قتل پر ملزم 15 سال سزا کاٹ کر باہر آ جاتا ہے جبکہ دس قتل کرنے والا بھی 15 سال بعد رہا ہو جاتا ہے جو ایسے ہے جیسے قتل کا لائسنس دے دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر قانون کا یہی حال رہا تو یہ جنگل کا قانون بن جائے گا جہاں جس کا دل چاہے وہ قتل کرتا پھرے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں دشمنی میں بچوں اور عورتوں کو قتل نہیں کیا جاتا، مگر ہمارے ہاں ہر کسی کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے صلح کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بااثر افراد اکثر کمزور فریق سے زبردستی صلح نامہ لکھوا لیتے ہیں، جس سے انصاف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔
عدالت نے خواجہ حارث اور شاہ خاور کو بطور عدالتی معاونین تحریری گزارشات جمع کرانے کی ہدایت کی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 20 اپریل تک ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل