Loading
ایرانی عدلیہ کے فیصلے کی تعمیل میں 21 سالہ ساسان آزادوار جونغانی کو پھانسی دیدی گئی۔
ایران کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ میزان پر دستیاب معلومات کے مطابق 21 سالہ نوجوان کو اصفہان سے احتجاجی مظاہروں کے دوران جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔
نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے احتجاجی مظاہروں کے دوران سیکیورٹی افسران کی بس پر ڈنڈے برسائے، شیشیے توڑے اور افسران پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔
21 سالہ نوجوان کو پھانسی دینے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایرانی عدلیہ کا کہنا تھا کہ رواں برس جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا مقصد اسلامی حکومت کا ’تختہ اُلٹنا‘ تھا۔
ساسان آزادوار جونغانی کو سزائے موت اصفہان کی عدالت نے سنائی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا۔ جس کے بعد آج سزا پر عمل درآمد کردیا گیا۔
دوسری جانب وکلا کہنا ہے کہ اگر اس نوجوان نے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا، تب بھی اس نے کسی ہتھیار کا استعمال نہیں کیا تھا اور نہ کسی کو جانی نقصان پہنچایا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل