Monday, May 04, 2026
 

خاتون گائنا کالوجسٹ کی جانب سے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری

 



پشاور ہائیکورٹ میں خاتون گائنا کالوجسٹ کی جانب سے جسٹس آف پیس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا گیا، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی قانون (KPHCC ایکٹ) کی موجودگی میں عام فوجداری قانون کا سہارا لینا قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ طبی غفلت ایک تکنیکی معاملہ ہے جس کے لیے پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والا فورم ضروری ہے اور قانون کے مطابق متاثرہ شخص کو ہیلتھ کیئر کمیشن سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس آف پیس کی جانب سے میڈیکل غفلت پر خاتون گائنا کالوجسٹ کے خلاف جوڈیشل انکوائری کا حکم قانون کے منافی ہے، کیونکہ طبی غفلت کا نتیجہ محض اندازوں پر نہیں نکالا جا سکتا اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر کا عمل پیشہ ورانہ معیار کے مطابق تھا یا نہیں۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قیام کا مقصد یہی ہے کہ ایسے معاملات کو ایک خودمختار اور ماہر فورم دیکھے، جبکہ طبی عملے کی غفلت کا تعین کرنا پولیس یا عام عدالتوں کا کام نہیں بلکہ ایک ریگولیٹری اتھارٹی کا دائرہ اختیار ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے معاملات کے لیے مخصوص فورم موجود ہے اور اگر فوجداری نظام کا سہارا لیا جائے تو یہ خصوصی قانون کے مقصد کو زائل کر دیتا ہے۔ فیصلے کے مطابق متاثرہ شخص کا مؤقف تھا کہ اس کی اہلیہ حمل کے آخری مراحل میں تھی اور اسے متعلقہ گائناکالوجسٹ کے نجی مرکز لے جایا گیا، جہاں مبینہ غفلت اور ناقص نگہداشت کے باعث اس کی حالت بگڑ گئی۔ پولیس کی جانب سے مقدمہ درج نہ کرنے پر متاثرہ شخص نے 22-A کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے ہدایت کی کہ متاثرہ شہری نئے سرے سے ہیلتھ کیئر کمیشن میں شکایت درج کرے اور کمیشن اس شکایت کو میعاد ختم ہونے کی بنیاد پر مسترد نہ کرے، جبکہ واضح کیا کہ محض اندازوں پر ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی بلکہ پیشہ ورانہ معیار کو مدنظر رکھنا لازمی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل