Monday, May 04, 2026
 

آبنائے ہرمز میں کسی امریکی جہاز پر حملہ نہیں ہوا؛ آمد رفت جاری ہے؛ سینٹکام کا دعویٰ

 



یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی فوج کے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا کا ایک جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں میزائل حملے کا نشانہ بنا اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ ایرانی دعوے کی تردید سینٹکام نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کی جس میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ تمام جنگی جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج پروجیکٹ فریڈم کے تحت خطے میں تعینات ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور سمندری گزرگاہ کو فعال بنانا ہے۔ یاد رہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان کردہ ایک نیا بحری آپریشن ہے جس کے تحت امریکا ان بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کی جانب سے عملی طور پر قائم کردہ ناکہ بندی کے باعث رکے ہوئے ہیں۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکی نیوی کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اس وقت خلیج عرب میں موجود ہیں اور انھوں نے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے۔ دریں اثنا اپنے ایک اور بیان میں یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو بھی بحفاظت اس راستے سے گزار دیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے سینٹکام کے اس تازہ بیان کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے تاہم ایران بارہا متنبہ کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز سے کسی تجارتی جہاز کو بغیر پیشگی اجازت اور سیکیورٹی کلیئرنس کے جانے نہیں دیا جائے گا، واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی تھی لیکن امریکا اسرائیل حملوں کے ردعمل میں ایرانی بندش کے باعث یہ آمدورفت بند ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل