Saturday, May 09, 2026
 

معرکہ حق کے بعد معرکہ معیشت بھی جیتنا ہوگا، احسن اقبال

 



وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ معرکہ حق کی کامیابی کے بعد اب پاکستان کو معرکہ معیشت جیتنا ہوگا، مضبوط دفاع کو مضبوط معیشت کے بغیر دیرپا نہیں بنایا جا سکتا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ 10 برسوں میں برآمدات، صنعتی ترقی اور معاشی اصلاحات پر توجہ دی جائے تو پاکستان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حالیہ سفارتی اور دفاعی کامیابیوں نے دنیا میں ملک کا وقار بلند کیا ہے، اب ضروری ہے کہ اسی جذبے کے ساتھ معاشی میدان میں بھی کامیابی حاصل کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ برآمدات ہی پاکستان کی پائیدار ترقی کا واحد راستہ ہیں اور حکومت غیر ضروری قوانین، سرخ فیتے اور کاروباری رکاوٹیں ختم کرکے برآمدات کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی نے پوری قوم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ اب معیشت کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کمزور معیشتیں طاقت ور دفاع کے باوجود قائم نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر برآمدات کے فروغ، صنعتی ترقی اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، 2035 تک 100 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف پاکستان کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا ایٹمی صلاحیت کا حصول تھا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے کے لیے مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن، بہتر پیکجنگ، مارکیٹنگ، برانڈنگ اور عالمی معیار کی سرٹیفکیشن پر توجہ دینا ہوگی،پاکستان دنیا کا چوتھا بڑا کھجور پیدا کرنے والا ملک ہے مگر ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کیا جا رہا، اسی طرح پاکستانی آم، کٹلری، پنکھا سازی، دستکاری اور دیگر مصنوعات میں عالمی سطح پر بڑی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین ہر سال تقریبا 2.8 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے مگر پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر ہے، اس لیے چینی مارکیٹ میں سنجیدہ اور منظم انداز میں داخل ہونے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور نجی شعبہ ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، حکومت کا کام سہولت فراہم کرنا جبکہ سرمایہ کاری اور معیشت کو آگے بڑھانا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس بمقابلہ مجموعی قومی پیداوار تناسب صرف 10.5 فیصد ہے جبکہ کامیاب ممالک میں یہ شرح 15 سے 16 فیصد تک ہوتی ہے۔ جب تک ٹیکس نیٹ وسیع نہیں ہوگا اور ٹیکس چوری کا خاتمہ نہیں ہوگا، ایمان داری سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل