Saturday, May 09, 2026
 

معرکہ حق ، جب قومیں صرف جنگ نہیں، تاریخ جیتتی ہیں

 



دنیا کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، بلکہ جذبوں، اتحاد، قربانی اور نظریاتی استقامت سے سرخرو ہوتی ہیں، وہ قومیں کبھی مکمل شکست نہیں کھاتیں جن کے دلوں میں وطن کی محبت، نظریے کی حرارت اور اجتماعی بقا کا احساس زندہ ہو۔ آج جب دنیا سیاسی انتشار، فکری یلغار اور داخلی تقسیم کے دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں’’معرکہ حق ‘‘اور’’بنیان المرصوص‘‘صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ قومی فلسفہ بن چکے ہیں۔ قرآنِ کریم میں’’بنیان المرصوص‘‘کی مثال ایسی مضبوط دیوار سے دی گئی ہے جو سیسہ پلائی ہوئی ہو، یعنی ایسی قوم جو اتحاد، نظم اور یقین کے رشتے میں بندھی ہو۔ یہی وہ تصور ہے جو کسی بھی قوم کو ناقابلِ تسخیر بناتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے ذاتی اختلافات، سیاسی تعصبات اور مفاداتی جنگوں سے اوپر اٹھ کر ایک مقصد کے لیے کھڑی ہو جائیں تو بڑی سے بڑی طاقتیں بھی ان کے عزم کو توڑ نہیں سکتیں۔آج کے دور میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا میں’’پانچویں نسل کی جنگ‘‘(Fifth Generation Warfare) کا دائرہ اب میڈیا، سوشل میڈیا، ذہن سازی، نفسیاتی دباؤ، جھوٹی خبروں اور نظریاتی حملوں تک پھیل چکا ہے۔اسی لیے اب محاذ صرف میدانوں میں نہیں، بلکہ ذہنوں، الفاظ، سچائی اور شعور میں بھی قائم ہوتے ہیں۔ ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا کی 70 فیصد سے زائد نوجوان آبادی اپنی رائے سوشل میڈیا سے تشکیل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قوموں کو صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ فکری اتحاد کی بھی ضرورت ہے، اگر قوم اندر سے تقسیم ہو جائے تو دشمن کو حملہ کرنے کے لیے بارود کی نہیں، صرف پروپیگنڈے کی ضرورت رہ جاتی ہے۔  یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے ٹینک، میزائل یا جنگی سازوسامان نہیں ہوتے بلکہ عوام کا اعتماد، قومی ہم آہنگی اور اجتماعی حوصلہ ہوتے ہیں۔ جب ایک سپاہی سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے صرف بندوق نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی دعائیں، ماؤں کی امیدیں، بچوں کے خواب اور شہداء کی قربانیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ معرکہ حق ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حب الوطنی صرف نعرہ لگانے کا نام نہیں بلکہ کردار، شعور اور ذمے داری کا تقاضا بھی ہے۔ہر شہری اپنی جگہ ایک مورچہ ہے۔استاد اپنے قلم سے، صحافی اپنی سچائی سے، نوجوان اپنے کردار سے، اور والدین اپنی تربیت سے قوم کی حفاظت کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ ممالک جہاں قومی یکجہتی مضبوط ہو، وہاں داخلی بحرانوں سے نکلنے کی صلاحیت 60 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کامیاب قومیں اختلاف رائے کے باوجود قومی مفاد پر متحد رہتی ہیں۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی بنیان المرصوص بن سکے ہیں؟ کیا ہم نے ذاتی انا، لسانی تقسیم، مذہبی منافرت اور سیاسی دشمنی سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی؟ کیونکہ دشمن ہمیشہ سرحد سے پہلے قوم کے اندر دراڑیں تلاش کرتا ہے۔ یہ وقت الزام تراشی، نفرت اور تقسیم کا نہیں بلکہ شعور، برداشت اور اتحاد کا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کی مصنوعی جنگوں سے نکل کر حقیقی قومی ذمے داری کو سمجھیں۔ نوجوان نسل کو مایوسی نہیں امید دی جائے، نفرت نہیں شعور دیا جائے، اور انتشار نہیں اتحاد کا پیغام دیا جائے۔ تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ آزمائشیں قوموں کو ختم نہیں کرتیں بلکہ انھیں مضبوط بناتی ہیں۔جاپان نے ایٹمی تباہی کے بعد ترقی کی نئی مثال قائم کی، ترکیہ نے داخلی بحرانوں کے باوجود خود کو سنبھالا اور کئی قوموں نے اتحاد کے ذریعے اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ پاکستان بھی ایک عظیم قربانی، نظریے اور ایمان کی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ یہ ملک صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ لاکھوں خوابوں، قربانیوں اور شہداء کے خون کی امانت ہے،اگر قوم ایک ہو جائے تو بڑے سے بڑا بحران، طاقتور سے طاقتور دشمن اور سخت سے سخت وقت بھی اس کے عزم کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے: ’’کیا ہم صرف تماشائی بن کر رہ جائیں گے یا بنیان المرصوص کی حقیقی تصویر بنیں گے؟‘‘ کیونکہ قومیں اسلحے سے نہیں، اتحاد سے زندہ رہتی ہیں۔ ’’اتحاد ایک طاقت نہیں، ایک معجزہ ہے۔‘‘ ’’قومیں تب تک ناقابلِ شکست رہتی ہیں جب تک ان کا حوصلہ زندہ رہتا ہے۔‘‘ ور شاید یہی معرکہ حق کا اصل پیغام بھی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل