Monday, May 11, 2026
 

ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی مشکل آسان، 24 گھنٹے نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

 



طبی ماہرین نے ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی مشکل آسان کرتے ہوئے ایک ایسی ٹیکنالوجی تیار کرلی ہے جو 24 گھنٹے میں گلوکوز کی مسلسل نگرانی کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ماہرینِ امراضِ ذیابطیس نے کہا ہے کہ گلوکوز کی مسلسل نگرانی کرنے والی ایک نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ذیابطیس کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہے، جو چوبیس گھنٹے مریض کے خون میں شوگر کی سطح مانیٹر کرکے مریض اور معالجین کو فوری ریڈنگز اور مکمل ڈیٹا فراہم کرتی ہے، جس سے شوگر کی خطرناک حد تک کمی یا زیادتی کو بروقت کنٹرول کرنے اور پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد مل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ مسلسل گلوکوز نگرانی کی ڈیوائسز مریضوں کو اپنی خوراک، ورزش، ادویات اور روزمرہ معمولات کے شوگر لیول پر اثرات کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں، جس سے بیماری پر قابو پانے اور بروقت طبی امداد ممکن ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز پراجیکٹ کے تعاون سے منعقدہ ذیابطیس اسکریننگ کیمپ کے بعد نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ڈیوائسز مسلسل شوگر لیول مانیٹر کرتی رہتی ہیں اور شوگر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں فوری الارم دیتی ہیں، جس سے مریض اور ڈاکٹر بروقت اقدامات کر سکتے ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ یہ ڈیوائسز خاص طور پر انسولین استعمال کرنے والے مریضوں اور ہائپوگلائسیمیا کے خطرے سے دوچار افراد کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل مانیٹرنگ کے ذریعے ڈاکٹروں کو مریض کے شوگر پیٹرن کا مکمل ریکارڈ مل جاتا ہے، جس سے ادویات کو زیادہ مؤثر انداز میں ایڈجسٹ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر معروف ماہر امراضِ ذیابطیس پروفیسر عبدالباسط نے کہا کہ 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد ذیابطیس کا شکار تھے اور اب یہ تعداد مزید بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیوائسز مریضوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ان کے ذریعے خون میں شوگر کی سطح میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں فوری معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ڈیوائسز مریضوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ان کی خوراک، جسمانی سرگرمی اور ادویات شوگر لیول پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں۔ انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی نائب صدر ارم غفور نے کہا کہ ہر فرد کو اپنے شوگر اسٹیٹس سے آگاہ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جدید مانیٹرنگ ڈیوائسز ہر لمحہ شوگر لیول چیک کرتی ہیں اور شوگر کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں فوری خبردار کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے ادویات کے اثرات کا جائزہ لینا اور خطرناک تبدیلیوں کی بروقت نشاندہی کرنا آسان ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر قمر مسعود نے کہا کہ یہ ڈیوائسز ٹائپ ون ذیابطیس اور انسولین استعمال کرنے والے مریضوں کے لیے خاص طور پر فائدہ مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شوگر کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے مریضوں میں بھی ہائپوگلائسیمیا کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں یہ ڈیوائسز بروقت وارننگ دے کر مریضوں کو سنگین پیچیدگیوں سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔ پروفیسر مسرت ریاض نے کہا کہ یہ ڈیوائسز چوبیس گھنٹے شوگر لیول مانیٹر کرتی ہیں اور دنیا بھر میں کئی برسوں سے استعمال ہو رہی ہیں جبکہ پاکستان میں اب ان کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ڈیوائسز کے ذریعے حاصل ہونے والا مکمل شوگر ریکارڈ ڈاکٹروں کو ادویات اور علاج کو زیادہ مؤثر انداز میں ترتیب دینے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر حمل کے دوران شوگر مانیٹرنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حمل میں غیر متوازن شوگر ماں اور بچے دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر سمیرا جبیں نے کہا کہ بچوں میں بھی تجرباتی بنیادوں پر یہ ڈیوائسز استعمال کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی افادیت اور فوائد کا جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلسل گلوکوز نگرانی کی ڈیوائسز کو سستا اور آسانی سے دستیاب بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ذیابطیس کے مریض اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل