Monday, May 11, 2026
 

بھارت کا خطرہ ٹلا نہیں ہے

 



پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کے بگاڑ نے نہ صرف ان دونوں ممالک بلکہ خطہ کی مجموعی صورتحال پر ایک بڑا سیاسی سطح کا ڈیڈ لاک پیدا کیا ہوا ہے۔اس وقت ایسی کوئی صورتحال دیکھنے کو نہیں مل رہی جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ فوری طور پر دونوں ممالک کی سطح پر تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑا مثبت بریک تھرو ہوسکے گا۔معرکہ حق کے تناظر میں نریندر مودی کی حکومت کی پاکستان مخالف سیاسی مہم جوئی نے جہاں بھارت کو شکست ، سیاسی یا دفاعی تنہائی میں مبتلا کیا ہے وہیں اس میں پاکستان مخالف جذبات کو اور زیادہ مضبوط کردیا ہے ۔ اس وقت بھارت کسی نہ کسی سطح پر پاکستان سے معرکہ حق کی بنیاد پر اپنی سیاسی اور دفاعی برتری چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ پس پردہ اپنے سخت گیر سیاسی یا جنگی عزائم رکھتا ہے۔کیونکہ مودی حکومت معرکہ حق پر ناکامی کے بعد داخلی سیاست میں دباؤ میں ہے۔خود بھارت کے لوگ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ مودی کی پالیسی نے بھارت کے عالمی بالخصوص علاقائی طاقت کے تصور کو کمزور کیا ہے اور اس کا فائدہ پاکستان کو ہوا ہے۔اسی بنیاد پر مودی حکومت کی منصوبہ بندی ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی ایسی نئی مہم جوئی پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر کرے تاکہ بھارت میں یہ سوچ دوبارہ پیدا کی جاسکے ہم آج بھی بڑی طاقت ہیں ۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر سطح پر سفارت کاری،باہمی تجارت،دو طرفہ مذاکرات،نقل و حمل،ویزوں پر پابندی اور ایک دوسرے کے ملکوں میں کھیلنے پر ڈیڈ لاک ہے ۔بھارت بدستور اپنے اس موقف پر قائم ہے کہ پاکستان ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے۔حالانکہ پہلگام واقعہ پر پاکستان کی جانب سے دو طرفہ تحقیقاتی کمیشن یا تھرڈ پارٹی کمیشن بنانے کی تجویز بھی دی گئی تھی جسے بھارت نے مسترد کردیا تھا ۔اسی طرح عالمی قوتوں نے بھی پہلگام واقعہ پر بھارت کے لگائے گئے الزامات اور پیش ہونے والے شواہد کو کافی کمزور قرار دیا تھا اور بھارت کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا ۔یہ ہی وجہ ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو بہت سے عالمی ممالک نے بھارت کے اس طرزعمل کو غیر ذمے دارانہ قرار دیا اور پاکستان کے مجموعی کردار کو ایک بڑی ذمے دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ بھارت کا ایک مسئلہ یہ بھی بنا کہ امریکا سمیت دیگر عالمی ممالک نے جنگ کے ماحول میں بھارت کے مقابلے میں پاکستان کے سیاسی ،سفارتی اور دفاعی معاملات کو بہت زیادہ پذیرائی دی جو یقینی طور پر بھارت کے لیے قابل قبول نہیں تھا ۔کیونکہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ ان واقعات کے بعد پاکستان کی سفارت کاری کے محاذ پر جو عالمی اور علاقائی سیاسی تنہائی تھی وہ ختم ہوئی ہے اور بھارت کو ان معاملات پر سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ۔ اسی طرح اس علاقہ میں جو بھارت کی بالادستی کی خواہش تھی وہ بھی متاثر ہوئی ہے۔یہ سب کچھ بھارت کے سخت گیر ہندوؤں، بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیے قابل قبول نہیں ہے جو نہ صرف پاکستان سے دشمنی رکھتے ہیں بلکہ ان میں مسلم دشمنی بھی غالب نظر آتی ہے۔حال ہی میں بھارت کی چند ریاستوں میں بی جے پی یا مودی بیانیہ کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ ان کا بھارت کی داخلی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیہ کمزور نہیں بلکہ اور زیادہ مضبوط ہوا ہے ۔ اس لیے ان حالات میں یہ سمجھنا کہ بھارت پاکستان کے خلاف خاموش ہوکر بیٹھ جائے گا ممکن نہیں اور وہ اپنے بدلے کی آگ میں آخری حد تک جانے کی منصوبے بندی رکھتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے عالمی سفارت کاری کے محاذ پر بھارت کا پاکستان مخالف بیانیہ آج بھی پہلے کی طرح مضبوط ہے۔پاکستان کے لیے اس وقت دو چیلنجز ہیں۔اول، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی سردمہری اور بگڑتے تعلقات میں جنگ کے حالات۔دوئم، بھارت اور افغانستان تعلقات جس کی بنیاد پاکستان دشمنی یا پاکستان مخالف پراکسی کی صورت میں نظر آتی ہے۔اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بھارت مستقبل میں افغانستان کی مدد سے پاکستان مخالف پراکسی کو بنیاد بنا کر نہ صرف دہشت گردی کو سہولت فراہم کرے گا بلکہ پاکستان کو مسلسل غیر مستحکم کرنے کی پالیسی کو بھی برقرار رکھے گا۔ اسی طرح بھارت کی یہ کوشش بھی ہوگی کہ وہ کسی بھی طرح سے پاکستان اور افغانستان تعلقات میں بہتری کو پیدا نہ ہونے دے،یہ اس کے مفاد میں ہے اور اس سے خود پاکستان کو بھی محتاط رہنا ہوگا اور بھارت کے ان عزائم سے نمٹنا ہوگا۔ایسے میں خطرہ یہ ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے موجودہ حالات میں کسی بھی ملک میں دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی ہوتی ہے تو اس سے حالات اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوں گے اور دونوں طرف سے الزامات اور کشیدگی کی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ اس لیے ان حالات میں یہ ڈر اور خوف موجود ہے کہ بھارت کی کوئی جنگجویانہ مہم حالات کو مزید خراب کرنے میں اہم کردار اداکرسکتی ہے۔اس لیے فوری طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری یا مذاکرات کی بحالی کے امکانات بہت کم ہیں اور کشیدگی کا پہلو زیادہ غالب نظر آتا ہے۔اگرچہ فوری طور پر براہ راست جنگ کے امکانات محدود نظر آتے ہیں لیکن کئی ماہرین اس پر بات کررہے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں بھارت کی طرف سے پاکستان کو کسی نئی جنگی مہم جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ امریکا کے معروف تھنک ٹینک سی ایف آر کے بقول پاکستان اوربھارت کے درمیان دوبارہ حالات خراب ہوسکتے ہیں اور اس امکان کو دو پہلوؤں کی بنیاد پر دیکھا جارہا ہے کہ بھارتی نئی مہم جوئی کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے ،اوردوئم، اگر مذاکرات کا راستہ نہیں کھلے گا تو جنگ مزید پھیل بھی سکتی ہے۔ اصل میں پاکستان اور بھارت اس وقت جہاں کھڑے ہیں وہاں ان ملکوں میں ایک دوسرے کے بارے میں سخت بداعتمادی پائی جاتی ہے یا وہ ایک دوسرے کی قبولیت کا راستہ تلاش کرنے کے لیے تیارنہیں۔اس میں بھارت کا طرزعمل زیادہ سخت ہے جو تعلقات کی بحالی میں رکاوٹ پیدا کررہا ہے۔اس لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری میں اس وقت تین بڑی قوتیں جن میں امریکا ،چین اور روس شامل ہیں اور ان کی شمولیت اور ثالثی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں فوری طور پر بہتری کے امکانات کم ہیں۔لیکن کیا یہ تینوں بڑے ممالک اس اہم معاملے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارت کاری کی بنیاد پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور کیا وہ بھارت کو اس بات پر راضی رکھ سکیں گے۔ تعلقات کی بحالی کے بغیر یہ خطہ آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ اس وقت جنگ مسئلے کا حل نہیں ہے۔بھارت جو ایک بڑا ملک ہے اسے سمجھنا ہوگا کہ اس کی پاکستان مخالف آخری مہم جوئی بھی ناکام رہی تو ایسے میں وہ اپنے پاکستان مخالف طرز عمل پر نظر ثانی کرے اور کچھ ایسے اقدامات کی طرف بڑھے جس سے کم ازکم مذاکرات میں موجود جو سیاسی اور سفارتی ڈیڈ لاک ہے وہ تو ٹوٹے اور مذاکرات کا راستہ بحال ہو۔کیونکہ مذاکرات کی بحالی کے بعد ہی ان تحفظات پر بھی بات ہوسکتی ہے جو ایک دوسرے کے درمیان پائی جاتی ہے۔لیکن اگر مذاکرات کا راستہ ہی بند رہتا ہے تو پھر تعلقات کی بحالی تو محض ایک خواب ہی رہ جائے گا۔ اسی طرح یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری محض ان دونوں ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا مجموعی مثبت اثر خطہ کی سیاست پر ہوگا۔اسی طر ح پاکستان اور بھارت تعلقات کی بہتری پاکستان اور افغانستان تعلقات میں بہتری سمیت کئی ممالک کے لیے نئے سیاسی اور معاشی راستوں کو بھی کھولنے کا سبب بنے گی ۔چین جو خود اس خطہ میں معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا چاہتا ہے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ خطہ میں موجود ممالک مل کر دہشت گردی کے خاتمے اور سیکیورٹی کے حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔اس لیے بھارت کو اپنی موجودہ جنگی جنوں کی سیاست سے باہر نکل کر حالات کو بہتر بنانے کے لیے ایک بڑے امن کے فریم ورک پر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت خطہ کی سیاست جن بڑے اہم مسائل کا شکار ہے اس سے نمٹنے کے لیے تنازعات اور جنگیں درکار نہیں ہیں ۔ہمیں ان سے خود بھی باہر نکلنا ہے اور باقیوں کو بھی جنگ کے کھیل سے نکالنا ہے۔ پاکستان اور بھارت کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزم درکار ہیں اوریہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے امکانات کو پیدا نہ کریں۔الزامات اور ڈیڈ لاک کی سیاست پیدا کرکے ہم کچھ بہتر نہیں کرسکیںگے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل