Monday, May 11, 2026
 

عدالتیں وکلا کی غفلت پر سزائیں دینا شروع کر دیں؟ جسٹس کاکڑ

 



سپریم کورٹ نے خان پور میں دہشتگرد حملے کے ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا پراسیکیوشن ثابت نہیں کر سکا ملزم خودکش حملہ کرنے آیا تھا،عدالتیں اب وکلا کی غفلت پر سزائیں دینا شروع کر دیں؟ علاوہ ازیں  عدالت عظمیٰ نے ٹی آر جی پی ،ٹی آر جی آئی اور گرین ٹری ہولڈنگ کمپنی کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے اخراجات کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیدیا،جسٹس نعیم اختر نے  سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے حق مہر میں سسرکی جائیداد شامل کرنے سے متعلق قرار دیا کسی تیسرے شخص کی ملکیت کو مالک کی رضامندی کے بغیر حق مہرکا حصہ نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے پلاٹ کی ڈگری منسوخ کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا ریکارڈ سے ثابت ہوا حق مہر میں لکھا گیا ایک کنال کا پلاٹ درخواستگزار شیر عالم خان یعنی سسرکی ملکیت تھا۔ سپریم کورٹ نے نیب سے متعلق ایک فیصلے میں کہا غلطی یا انتظامی انحراف بذات خود بدنیتی کے زمرے میں نہیں آتا جب تک شعوری بدنیتی نہ ہو۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے کہا کسی فوجداری مقدمے میں فیصلے پر نظرثانی کرنے کا سپریم کورٹ کا اختیار محدود ضرور ہے لیکن یہ عدالت بے اختیار نہیں،قانون کا ماضی سے اطلاق نہیں کیا جاسکتا۔ سابق وفاقی وزیر انور سیف اللہ پر1996میں او جی ڈی سی ایل میں خلاف قانون بھرتیوںکا الزام تھا۔سپریم کورٹ نے نظرثانی پر فیصلہ دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل