Loading
پاکستان کو مالی سال 2025-26 کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلاتِ زرکی مد میں تقریباً 34 ارب ڈالر موصول ہوئے، ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ سعودی عرب، عرب امارات اورخلیجی ممالک پر بڑھتا انحصارملکی معیشت کیلیے بڑاخطرہ بنتا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق اپریل2026 میں ترسیلاتِ زر 3.54 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 11 فیصدزیادہ ہیں، البتہ مارچ 2026 کے مقابلے میں 8 فیصدکمی ریکارڈ کی گئی۔
مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں ترسیلاتِ زر 33.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،جوسالانہ بنیاد پر 8.5 فیصد اضافہ ظاہرکرتی ہیں۔
اعدادوشمارکے مطابق سعودی عرب،عرب امارات و دیگرخلیجی ممالک نے 18 ارب ڈالرسے زائد رقوم پاکستان بھیجیں، جو کل ترسیلات کانصف سے بھی زیادہ حصہ بنتی ہیں۔ سعودی عرب سے 7.93 ارب ڈالر،یو اے ای سے 7 ارب ڈالر موصول ہوئے۔
معاشی ماہرین کے مطابق خلیجی خطے پر اس حد تک انحصار پاکستان کو بیرونی جھٹکوں کیلیے غیرمعمولی طور پر حساس بنا رہا ہے،خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی وسیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
یو اے ای کی جانب سے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالرکی سپورٹ سہولت واپس لینے اور بعض پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں نے بھی خدشات میں اضافہ کردیاہے۔
جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی کاکہناہے کہ اگر خلیجی ممالک سے ترسیلات میں کمی آئی تو پاکستان کاکرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں جاسکتا، تیل کی بلندقیمتیں اور بڑھتی درآمدات بیرونی کھاتوں پر دباؤڈال رہی ہیں،جبکہ زرمبادلہ ذخائرکے اہداف بھی نیچے آچکے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب برآمدات کے بجائے افرادی قوت کی برآمد پرزیادہ انحصارکررہی ہے،جوطویل مدت میں خطرناک ثابت ہوسکتاہے۔
دوسری جانب یورپی یونین سے ترسیلات 18فیصد اضافے کے ساتھ 4.35 ارب ڈالر جبکہ برطانیہ سے 5.17 ارب ڈالر رہیں، جو ہنرمند پاکستانیوں کی یورپ،کینیڈااورآسٹریلیاکی جانب بڑھتی ہجرت کااشارہ ہے۔
ماہرین نے خبردار کیاہے کہ اگر پاکستان نے برآمدات،صنعتی پیداوار اور بیرونی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدانہ کیا تو معیشت مستقبل میں بیرونی بحرانوں کے باعث شدید دباؤکاشکارہوسکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل