Loading
یاد کرو جب ایک مغرور متکبر اوردعویٰ برتری رکھنے والی آتشیں ریز، آتش فشاں اورآتش بدہان ہستی نے چیلنج دیا تھا، کہ ’’میں‘‘ آدمی خاکی کو کبھی چین سے رہنے نہیں دوں گا، اسے ہمیشہ اپنا نشانہ بناتا رہوں گا اورپھر اس نے اپنے اس عمل کی ابتداء پتھر کے ہتھیاروں اورپتھروں سے نکلنے والی آگ کا نشانہ بنانے سے کی، پھر دھاتوں کے دور میں اس نے ’’آگ ‘‘ کی مدد سے ہتھیار بنانا شروع کیے اورخون بہاتا رہا، پھر آگ برسانا شروع کی پھر اسی آگ کو بارود میں منتقل کیا ، ڈائنامائٹ وغیرہ ایجاد کیے اورپھر اس جوہری ہتھیاروں سے آتش ہتھیار بنائے اورآدم خاکی پر برسانے کی ابتداء کی۔ اس سارے سلسلے پر نظر ڈالیے ہردور میں ہرمقام پر اس کا ہتھیار آگ سے جڑا ہوا تھا اور ہے ،اوراب وہ اس مقام تک آگیا ہے کہ جہنم برسا دوں گا ، بھسم کردوں گا ، راکھ کردوں گا ،مٹادوں گا، کیوں؟ اس لیے کہ اب بھی اسے دعویٰ برتری ہے ،خدا بننے کا خبط، میری برتری مانو ورنہ …
ہم ایک عرصے سے سوچ رہے تھے کہ آخر اس امریکا کا مسئلہ کیا ہے، اسے ہوا کیا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں سے حماقت پر حماقت کیے جارہا ہے، ایک دلدل سے نکلتا تو دوسرے میں جا پھنستا ہے ،خود کو بھی مصیبتوں میں ڈالتا ہے اور دوسروں کو بھی مبتلائے آزارکرتا ہے ، جنگ عظیم اول دوم سے نکلا،کوریا میں جا اترا، اس جھوٹے نے تو ویت نام میں خود کو پھنسایا، ویت نام سے رو رو کر نکلا ،تو روس، چین پھر افغانستان ، عراق ،لبنان اوراب ایران، کیا اسے کوئی دائمی عارضہ لاحق ہے ،کسی پیچیدہ نفسیاتی کمپلیکس میں مبتلا ہے، کسی بددعا اورشراب کا شکار ؟ کسی کی آہ پڑی ہے یا کسی نے اس پر کوئی جادوٹونا یاکالاجادو کیا ہے ، ڈھونڈ ڈھونڈ مسائل تلاش کرتا ہے اوران میں خود کو الجھا کر رکھتا ہے ۔
اگر کوئی سوچے کہ مفادات حاصل کرنے کے لیے ۔ تو وہ غلط ہے کہ ہرامریکی باشندہ اپنے سر، داڑھی اورمونچھوں کے بالوں سے بھی زیادہ ڈالر کا مقروض ہے، دنیا میں ایسی کوئی سرزمین کم ہی ہے جہاں امریکیوں کی ہڈیاں نہ ہوں ،ان جنگوں میں مرنے والوں کی بیواؤں ،یتیموں اوربوڑھے والدین سے پورا امریکی معاشرہ بھرچکا ہے ،شاید ہردوسرے گھر کاکوئی نہ کوئی فرد اس آگ میں جلا ہے ۔
معاشرے کا یہ حال ہے کہ دولت کی انتہا نہیں لیکن دکھوں کی کوئی حد نہیں، سارے رشتے ناطے ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں، بھائی بھائی کو نہیں جانتا ،والدین اپنی اولاد کے لیے اور اولاد اپنے والدین سے کٹ چکی ہے، دیوار بہ دیوار لوگ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں ،یوں کہئے ’’جسم‘‘ تو جنت میں ہیں لیکن روحیں جہنم میں جل بھن رہی ہیں ۔
انسان ہیں حیواں یہاں بھی وہاں بھی
شہروں میں بیابان یہاں ہیں وہاں بھی
ہرشہر ہرگلی کوچے اورہرہرقدم پر یہی صورت حال ہے تو پھر؟ آخر کس لیے ؟ اورکیوں؟
اوران سوالات کا جواب حاصل کرنے اور ’’امریکی دہشت‘‘ سمجھنے کے لیے تھوڑا ہمیں تاریخ میں جھانکنا پڑے گا۔کولمبس نے جب امریکا دریافت کیا اوراس وقت کے عالمی تھانیدار برطانیہ نے اس پر قبضہ کیا تو اس قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے اپنی سلطنت سے سارے غنڈے، موالیوں، مجرموں، سزایافتہ قیدیوں کو اکٹھا کرکے یہاں آباد کیا۔ اس سے دوفوائد حاصل کرنا مقصود تھے ،ایک تو اپنے معاشرے سے ’’گند‘‘ کی صفائی اوردوسرا اس وسیع وعریض سرزمین پر قبضہ جمانا، اس جمع شدہ برطانوی کوڑے نے پہلا کام تو یہاں کے اصلی معصوم باشندوں کے ہولوکاسٹ کا کیا اورپھر آپس میں الجھ پڑے اوراس کاثبوت اس زمانے کی کاؤ بوائے فلموں میں موجود ہے، بات بات پر قتل وقتال اور غنڈہ گردی یہی اس امریکی معاشرت کی بنیاد تھی ۔اس جدی پشتی مجرمانہ خون سے یہی امریکی پیدا ہوسکتے تھے اورہوئے اورپھر ان کو ان ہی جیسا جنم جنم کا مجرم عنصر ملا ، دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا جانا پہچانا سمجھا اوربغل گیر ہوئے ۔
من تو شدم تو من شدی من جاں شدم تو تن شدی
ناکس نہ گوئد بعد ازیں من دیگرم تو دیگری
یہودی، جو خود کو انبیاء کی اولاد سمجھتے ہیں مگراس دنیا میں ہرناروا، ناجائز اورغلط کام کا حقدار سمجھتے ہیں لیکن خود اپنے اجداد کے ساتھ جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ سب کچھ خود ان کے اپنے نوشتے تورات میں موجود ہے اورتو اورخود اپنے سب سے بڑے محسن اورنجات دہندہ حضرت موسیٰ کے ساتھ انھوں نے کیا کیا، نافرمانیاں کیں۔ ویسے اس جھوٹی قوم کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ وہ انبیاء کی اولاد ہیں ۔ہیروڈوٹس فلپ خئی اوردوسرے کئی مورخین کا کہنا ہے کہ بنی اسرائیل ایک مخلوط قوم تھی، ان میں زیادہ خون ان غوشتیوں کا ہے جسے دنیا کی پہلی تاجر قوم کہا جاتا ہے لیکن وہ جس تجارت کے بانی مبانی تھے اس میں صرف نفع کو مقدم رکھا جاتا ہے، جائز یاناجائز کاکوئی سوال اس میں نہیں ہوتا اور اس غوشتی تجارت کا ثبوت بھی یہ خود ہیں کہ آج تک اس قوم کا مستقل اصول رہا ہے کہ صرف نفع پر نظر رکھو باقی سب کچھ جائز ہے ،اس یہودی قوم کی حقیقت جاننے کے لیے کہیں اورجانے کی ضرورت نہیں، خود ان کی اپنی کتاب ہی کافی ہے ۔
خیر تو امریکی غنڈوں کی اولاد اور یہی یہودی ایک ہوئے تو ساری دنیا کی ساری اقوام کے درپے ہوگئے ، وہی ابلیس وہی برتری کا دعویٰ لیے ہوئے ،آتشیں ہتھیاروں اورسرمائے کے ہتھیاروں سے وہی کچھ کررہا ہے جو اس کا مزاج ہے، فطرت ہے ،خاصہ ہے۔ اور اب ہم دنیا کی سچی ترین محفوظ ترین اورمعتبر ترین کتاب قرآن سے اس پر ایسی دلیل پیش کرتے ہیں جو سامنے واضح ہے ، قرآن کی ایک سورہ کاذکر کرتے ہیں جس میں ان کی تین واضح نشانیوں کا ذکر ہے ۔موجودہ سیاست، موجودہ سرمایہ داری ، ایٹم یاجوہری طاقت
ترجمہ’’ہلاکت ہے ہر غیبت کرنے والے طعنہ دینے والے کے لیے ۔جو مال جمع کرتا ہے اور اسے گن گن کر رکھتا ہے ۔شاید وہ خیال کرتا ہے کہ اس کا مال اس کی ہمیشہ کی زندگی کا موجب ہو گا۔‘‘
اسے ’’حطمہ‘‘ میں ڈالا جائے گا تم کیا جانو حطمہ کیا ہے ؟ اللہ کی آگ، دلوں کو چکناچور کردینے والی۔ اونچے اونچے ستونوں میں ۔
عام طورپر اس سورہ کو قیامت اورآخرت سے متعلق سمجھاجاتا ہے لیکن اس میں جو لفظ’’حطمہ‘‘ آیا ہے وہ بہت ہی قابل توجہ اورفکر انگیز ہے ۔
اکثر پڑھے لکھے اورلسانیات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ (ح) اور(ط) ایسی آوازیں ہیں جو صرف عربی میں ہوتی ہیں دوسری زبانوں میں اسے الف سے اورن یا ٹ سے ادا کیا جاتا ہے ۔جیسے حکم کو اکم، حکومت کو اکومت ،حکیم کو اکیم ،حلوا اورحلوائی کو الوا اور الوائی کہاجاتا ہے، یوں ہم ’’حطم‘‘ کی (ح) کو اے کردیں اورط کو ٹ تو بن جاتا ہے ۔ اے ٹی او ایم اورپھر معنی کریں تو اے۔۔ٹی او ایم۔۔ یعنی ایٹم بن جاتا ہے ۔توم (تقسیم) او آ یعنی آتوم یعنی ناقابل تقسیم، ناقابل تقسیم ذرہ ۔ جیسے ڈیمو کریتس ، دمیقراط نے دریافت کیا تھا اورپھر اونچے اونچے ستونوں میں بند، راکٹوں، میزائیلو اورٹریگیروں کاتصور کریں ۔اورمجموعی صورت حال پر غورکریں ، دوغلی سیاست، سرمایہ داری کے مظاہرے اور’’جنہم برسادوں گا ، بھسم کردوں گا ، مٹادوں گا‘‘۔اورکہنے والے کون ؟وہی جنم جنم کے بدمعاشوں اورسداسدا کے ثابت شدہ آدم کے دشمن جو کل بھی آگ تھا، آتش فشاں، آتش دہاں تھا اورآج بھی ہے، جو الہمزہ کی تینوں شرائط پوری کررہا ہے ، لعن طعن اوربرائیوں، منافقتوں اورسازشوں بھری سیاست ، وہی ظالمانہ سفاکانہ اورتباہ کارانہ سرمایہ داری اورآتشیں ہتھیار، آتشیں ہتھیاروں بلکہ ’’حطم‘‘ ۔ ایٹم کے بارے میں ایک بڑی دلچسپ اورغورطلب بات یہ ہے کہ وہی امریکا دوسرے ملکوں میں ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے پڑا رہتا ہے جب کہ خود اس کے ڈھیر لگا رکھے ہیں حالانکہ پابندی اس مجرم پرلگنی چاہیے جو ایک مرتبہ ’’جرم‘‘ کاارتکاب کرچکا ہو ۔دنیا میں امریکا ہی وہ واحدملک ہے جو معصوم اوربے گناہ شہریوں پر ایٹم بم گراچکا ہے اوردنیا کے ہرقانون میں یہ اصول ہے کہ ایک مرتبہ جرم کاارتکاب کرنے والا پھربھی اس جرم کاارتکاب کرسکتا ہے اوروہ مجرم صرف امریکا ہے تو پابندی بھی اس عادی مجرم پر لگنی چاہیے نہ کہ معصوموں پر۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل