Monday, May 11, 2026
 

معرکہ حق، قومی عزم اور دفاعی استحکام کی داستان

 



معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور جراتمندانہ فیصلوں کو معرکہ حق کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا جب کہ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستانی قوم کو نہ مرعوب کیا جا سکتا ہے نہ جھکایا جا سکتا ہے، جب کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ دشمن جان لے پاکستان کے خلاف آیندہ مہم جوئی کے اثرات محدود نہیں بلکہ انتہائی خطرناک، دُور رس اور تکلیف دہ ہوں گے۔معرکہ حق میں فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں پر وقار یادگاری تقریب سے اپنے تاریخی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ معرکہ حق، آپریشن بنیان مرصوص میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے پاکستان، عوام اور مسلح افواج کو بے مثال کامیابی ملی، معرکہ حق دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا جس میں حق فتح یاب اور باطل ہزیمت سے دوچار ہوا۔  جنوبی ایشیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اس خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ عسکری تیاری، سیاسی استحکام، سفارتی بصیرت اور قومی وحدت کے امتزاج سے برقرار رہا ہے۔ جب بھی کسی ریاست نے محض عددی برتری، معاشی حجم یا جارحانہ بیانیے کے سہارے اپنے ہمسایوں کو زیر ِ نگیں لانے کی کوشش کی، خطے میں بے یقینی، بداعتمادی اور تصادم نے جنم لیا۔ پاکستان کے لیے گزشتہ برس پیش آنے والا’’معرکہ حق‘‘محض ایک عسکری مقابلہ نہ تھا بلکہ یہ قومی ارادے، ریاستی استحکام، عسکری مہارت اور اجتماعی شعور کا امتحان تھا۔ ایک سال مکمل ہونے پر ریاستی قیادت کی جانب سے دیے گئے پیغامات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان اس معرکے کو محض ایک جنگی کامیابی کے طور پر نہیں بلکہ قومی خودمختاری، نظریاتی استقامت اور دفاعی عزم کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہے۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے بیانات میں جو مشترک نکتہ نمایاں ہے وہ قومی اتحاد اور مسلح افواج پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ریاستی اداروں کی سطح پر یہ تاثر دینا ضروری تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں سیاسی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں سیاسی کشیدگی اکثر ریاستی بیانیے کو متاثر کرتی رہی ہے، وہاں یہ امر خاص اہمیت رکھتا ہے کہ دفاعی معاملات پر منتخب قیادت اور عسکری ادارے ایک صفحے پر دکھائی دیں۔ اس نوعیت کے پیغامات صرف داخلی استحکام ہی نہیں بلکہ بیرونی دنیا کے لیے بھی واضح اشارہ ہوتے ہیں کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے معاملے میں داخلی انتشار کا شکار نہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خطاب نے اس پورے بیانیے کو ایک وسیع تر تزویراتی تناظر فراہم کیا۔ ان کے خطاب میں محض عسکری کامیابی کا ذکر نہیں تھا بلکہ مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی، سفارتی ترجیحات، دہشت گردی کے خطرات، علاقائی سیاست اور قومی استقامت جیسے کئی پہلو شامل تھے۔ یہ امر اہم ہے کہ انھوں نے معرکۂ حق کو’’دو نظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ‘‘قرار دیا۔ اس جملے میں محض جذباتی اپیل نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی و نظریاتی مفہوم پوشیدہ ہے۔ پاکستان اپنی بقا اور سلامتی کو صرف جغرافیائی سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک نظریاتی ریاست کے طور پر اپنے وجود اور شناخت کے تحفظ سے بھی جوڑتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کوئی نئی حقیقت نہیں۔ دونوں ایٹمی طاقتیں کئی جنگیں لڑ چکی ہیں اور متعدد بار تصادم کے دہانے تک پہنچ چکی ہیں۔ تاہم گزشتہ برس پیش آنے والے حالات نے یہ واضح کر دیا کہ جدید جنگیں اب صرف روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ فضائی برتری، میزائل ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت مستقبل کی جنگی حکمت عملی کے بنیادی عناصر بن چکے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے’’ملٹی ڈومین آپریشنز‘‘کا ذکر دراصل اسی بدلتے ہوئے عسکری منظرنامے کی طرف اشارہ ہے۔ دنیا بھر کی افواج اب محض زمینی طاقت پر انحصار نہیں کر رہیں بلکہ معلوماتی جنگ، ڈیجیٹل نگرانی، الیکٹرانک حملوں اور خودکار نظاموں کو بھی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اگر اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہوئے اپنی دفاعی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے تو یہ مستقبل کی ضروریات کے مطابق ایک ناگزیر پیش رفت ہے۔ اس خطاب کا ایک اہم پہلو پاکستان کی سفارتی حکمت عملی سے متعلق بھی تھا۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی رد عمل پر مبنی ہے، مگر حالیہ برسوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان نے نسبتاً متوازن اور فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اسٹرٹیجک دفاعی معاہدے کا حوالہ ہو یا امن مذاکرات کی میزبانی، یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنے تزویراتی تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بدلتی ہوئی عالمی سیاست میں صرف عسکری طاقت کافی نہیں رہتی؛ اقتصادی روابط، سفارتی ساکھ اور علاقائی تعاون بھی قومی طاقت کے اہم ستون بن چکے ہیں۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کو درپیش اصل چیلنج صرف بیرونی خطرات نہیں بلکہ داخلی عدم استحکام بھی ہے۔ بنوں میں دہشت گرد حملہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے پولیس چوکی کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گرد عناصر اب بھی ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں۔ یہ حملہ محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے وسیع تر منظرنامے کا حصہ ہے، جہاں بیرونی دشمن اور داخلی دہشت گردی کے درمیان روابط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔خیبر پختونخوا اور بلوچستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ ان علاقوں کے عوام، پولیس، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی ایک کثیرالجہتی مسئلہ ہے جس کی جڑیں علاقائی عدم استحکام، انتہاپسند بیانیوں، غربت، سیاسی محرومی اور بیرونی مداخلت تک پھیلی ہوئی ہیں، اگرچہ فوجی کارروائیاں دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کرتی ہیں، مگر پائیدار امن کے لیے سیاسی استحکام، معاشی ترقی، تعلیمی اصلاحات اور مؤثر گورننس بھی ناگزیر ہیں۔ افغانستان کا معاملہ بھی اسی تناظر میں انتہائی حساس ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ کرے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرتی ہیں۔ زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں شدت پسند عناصر کی نقل و حرکت اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہاں پاکستان کے لیے سفارتی توازن برقرار رکھنا آسان نہیں۔ ایک طرف وہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور خطے میں استحکام چاہتا ہے، دوسری طرف اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔پاکستانی قوم کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب بھی ملک کو بیرونی یا داخلی خطرات کا سامنا ہوا، عوام اور افواج کے درمیان تعلق مزید مضبوط ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ شہداء اور غازیوں کا ذکر قومی بیانیے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ معرکہ حق کے ایک سال مکمل ہونے پر جس انداز میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، وہ دراصل قومی نفسیات کا اظہار ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو مسلسل سیکیورٹی چیلنجز سے نبردآزما ہو، وہاں قربانی، ایثار اور دفاعِ وطن کے تصورات اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ شہداء کی قربانیوں کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ان کے خاندانوں کی فلاح، زخمیوں کی بحالی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیر ِ نو کو بھی ریاستی ترجیحات میں شامل رکھا جائے۔ پاکستان کے لیے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا مسلسل سیکیورٹی خطرات کے ماحول میں معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی عسکری طاقت اس وقت تک مکمل طور پر موثر نہیں ہو سکتی جب تک اس کی معیشت مضبوط نہ ہو۔ پاکستان اس وقت مہنگائی، قرضوں، بیروزگاری اور سرمایہ کاری کے بحران جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں قومی سلامتی کا تصور صرف سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ معاشی خودمختاری بھی اس کا لازمی جزو بن جاتی ہے، اگر ملک معاشی طور پر کمزور ہو تو بیرونی دباؤ، سفارتی تنہائی اور داخلی بے چینی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے بیانیے کو اقتصادی استحکام، صنعتی ترقی، توانائی کے تحفظ اور انسانی وسائل کی بہتری کے ساتھ جوڑا جائے۔کشمیر کا مسئلہ بھی اس پورے تناظر سے الگ نہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کا بنیادی مسئلہ ہے۔ جب تک اس تنازع کا منصفانہ حل نہیں نکلتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل