Tuesday, May 12, 2026
 

اسلام آباد: ماربل فیکٹری منتقل کرنےسےمتعلق انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کےفیصلےکیخلاف اپیل پر سماعت 

 



اسلام آباد ہائی کورٹ میں رہائشی علاقوں میں ماربل فیکٹری منتقل کرنے اور کارروائی کرنے سے متعلق انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل میں شکایت کنندہ کے وکیل سے آئندہ سماعت پر تفصیلی دلائل طلب کر لیے۔ شکایت کنندہ کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ فیکٹریاں بغیر این او سی کے کام کر رہی ہیں، جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ بغیر این او سی لیے کام کیا جا رہا ہے؟ سی ڈی اے کیا کر رہا ہے؟ماربل فیکٹریوں سے ماحولیاتی اور دیگر آلودگی ہو رہی ہے۔ سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی آلودگی سے متعلق محکمے کام کر رہے ہیں، عدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے ڈی جی انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو مراسلہ لکھا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے درخواست پر فیصلہ کیا گیا، وکیل کے مطابق شہری کی درخواست پر سول کارروائی دائر ہوتی ہے، کرمنل نہیں۔ جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ کیا ثبوت چاہیے کہ یونٹس لگے ہوئے ہیں؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کسی بھی قسم کی آلودگی سے متعلق کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ آپ ثابت کریں کہ ماربل یونٹس سے کسی قسم کی آلودگی نہیں ہو رہی۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اُن کے پاس رپورٹ موجود ہے کہ یونٹس سے کسی قسم کی آلودگی نہیں ہو رہی۔ جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ ایک سوال کا جواب دے دیں کہ یہ فیکٹری مقررہ جگہ پر ہے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جب یہ فیکٹری قائم ہوئی تب یہ رہائشی علاقہ نہیں تھا، سی ڈی اے نے ماربل فیکٹریوں کیلئے کوئی جگہ مختص نہیں کی۔ جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں بھی یونٹس لگائے جا سکتے ہیں؟ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ یہ سب سیکٹر سی 17 میں نجی ٹاؤن آباد کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے، سرکاری سڑک پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے کیس پر آئیں، یہ ماحولیات کا معاملہ ہے، آپ کیس کو کہاں لے جا رہے ہیں؟ عدالت نے ہدایت کی کہ ٹریبونل میں دیے گئے ثبوتوں سے متعلق آئندہ سماعت پر تفصیلی دلائل دیے جائیں، عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل