Loading
رومانیہ نے روسی قونصل جنرل کو ملک بدر کرتے ہوئے بحیرہ اسود کے ساحلی شہر کونستانتسا میں روسی قونصل خانہ بند کر دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب روس نے رومانیہ پر ڈرون حملہ کیا جو ایک رہائشی عمارت سے ٹکرایا اور 2 افراد زخمی ہوگئے۔
رومانیہ کے صدر نے سیکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی صدارت کی جس میں اہم فیصلے کیے گئے اور روس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس واقعے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے معذرت کرے۔
اس اہم اجلاس کے بعد ہی رومانیہ میں موجود روس کے قونصل جنرل کو “پرسونا نان گراٹا” قرار دیکر ملک بدر کردیا گیا جبکہ کونستانتسا میں روسی قونصل خانے کو بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رومانیہ کی وزارتِ دفاع نے روسی ڈرون سے متعلق واقعے کی تفصیلات بتاتئ ہوئے کہا کہ روسی ڈرون رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور گالاتسی شہر کی دس منزلہ رہائشی عمارت کی چھت سے ٹکرا کر پھٹ گیا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو ادارے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 افراد کو عمارت سے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہیں جنہیں معمولی زخم آئے۔
رومانیہ کی فضائیہ نے خطرے کا پتا چلتے ہی دو ایف-16 لڑاکا طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر روانہ کیا تاہم حکام کے مطابق ڈرون بہت کم بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور ایسی صورت حال میں اسے مار گرانے سے شہری آبادی کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
رومانیہ کی وزارتِ خارجہ نے اس واقعے کو روس کی سنگین اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف رومانیہ بلکہ نیٹو کی فضائی حدود کی بھی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اس واقعے سے آگاہ ہیں جبکہ روسی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رومانیہ کے فیصلے پر جلد اپنا ردِعمل دے گی۔
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس کے مطابق روسی کابینہ رومانیہ کی جانب سے قونصل جنرل کی ملک بدری اور دفاتر بند کرنے کے اقدام کے ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے رومانیہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اپنے تمام رکن ممالک کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
یورپی یونین کی قیادت نے بھی روسی ڈرون کے نیٹو رکن ملک میں گرنے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع نہیں کہ روسی ڈرون رومانیہ کی حدود میں داخل ہوئے ہوں تاہم یہ پہلا بڑا واقعہ ہے جس میں رومانیہ کے شہری زخمی ہوئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل