Wednesday, June 03, 2026
 

ریلیف کی امید میں عوام، ٹیکس کی تلاش میں بجٹ

 



جس دن وفاقی بجٹ پیش کیا جائے گا اس روز دارالحکومت کے ایوان چمکتے ہوئے ہندسوں، اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں اور معاشی نمو کے فرضی دعوؤں سے جگمگا اٹھیں گے۔ ٹھیک اسی وقت اس دیس کے کروڑوں کچے مکانوں میں لکڑی کے دھوؤں سے اٹھتی ہوئی سسکیاں الگ تاریخ لکھ رہی ہوں گی۔عام آدمی کے لیے صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ ممکن ہے اسے پہلے سے زیادہ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑے اور اس کے مالی بوجھ میں کہیں زیادہ اضافہ ہو۔  اس سال10 جون کو بجٹ 2026-27 کے نام پر جادوئی پٹاری کھولی جائے گی۔ بہت سی چیزیں لوگوں کے لیے حیران کن ہوں گی کہ کس طرح کونوں کھدروں سے ٹیکس اکٹھا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سال گزشتہ بھی 10جون کو بجٹ پیش کیا گیا تھا۔اب بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔کیا عجیب حسن اتفاق ہے۔ پاکستان میں بجٹ دستاویز اشرافیہ کے چراغ تو روشن کر سکتی ہے لیکن اکثریتی عوام پر ٹیکس کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔اشرافیہ پر بھی جو ٹیکس لگایا جاتا ہے وہ گھوم گھما کر واپس عام آدمی تک پہنچ جاتا ہے اور وہی اس کی ادائیگی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کو اب اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ’’بجٹ کب آئے اور کب جائے‘‘ اسے تو یہ فکر ہے کہ آج شام کی روٹی پکے گی یا نہیں۔ اس سال کی بجٹ تقریر میں بھی وفاقی وزیر خزانہ کی طرف سے واضح کیا جائے گا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے بلکہ بہت تیزی سے دوڑ بھی رہا ہے۔ پاکستان میں وہ لوگ جن کو اعداد و شمار میں غریب عوام کی اکثریت کا نام دیا جاتا ہے، بجٹ کے آنے کے بعد مہنگائی، بے روزگاری، کسمپرسی، کم آمدنی کے مرض میں مبتلا رہتے ہیں۔پڑھے لکھے لوگوں کی بیروز گاری پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے جب کہ ملک کے ہنر مند بھی بے روز گاری کا شکار رہتے ہیں لیکن کاغذات میں بتایا جاتا ہے کہ کتنے لوگوں کو روز گار مہیا کر دیا گیا ہے اور آیندہ کتنے مزید لوگوں کو روزگار دیا جائے گا۔ اب پتہ نہیں یہ برسرروز گار لوگ کن شہروں میں بسے ہیں ان لوگوں کے گھروں میں بجٹ کا مطلب ترقیاتی منصوبوں، شرح افزائش، افراط زر سے زیادہ دال، آٹا، چینی اور بجلی کے بل وغیرہ وغیرہ ہوتے ہیں۔عام آدمی کو تو یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ بجٹ کس چیز کا نام ہے۔فی کس آمدنی کیا ہوتی ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ جی ڈی پی وغیرہ کیا ہوتا ہے اور شرح خواندگی کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ زرمبادلہ کیا ہوتا ہے اور افراط زر کیا ہوتا ہے۔ یہ سب پڑھے لکھے لوگوں کی مصروفیت ہوتی ہے۔عام آدمی تو بس مزدوری کرتا ہے۔ اس مرتبہ وفاقی بجٹ میں عالمی منظرنامہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ امریکا ایران کشیدگی نے ہر شخص کو متاثر کیا ہیے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاحال کشیدگی جاری ہے ۔خلیج ہرمز بدستور بند ہے بلکہ اب تو ایران نے کویت اور بحرین میں ان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کشیدگی مزید بڑھے گی۔ وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد اعداد و شمار کے پھول کھلتے ہیں۔ معاشی اشاروں کے قوس و قزح بن رہے ہوتے ہیں۔ ترقی کے دعوؤں کے کبوتر اڑائے جاتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ فلاں منصوبے کے لیے اتنے ارب مختص کر دیے گئے ہیں جب کہ غریبوں کو اتنے ارب مختلف اسکیموں کے تحت دیے جائیں گے۔لوگوں کو گھر بنا کر دیے جائیں گے۔ مگر غریبوں کی جھونپڑیوں میں کچھ اور ہی منظر ہوتا ہے۔ یہاں بارش آ جائے تو کچے گھر گر جاتے ہیں اور وہ دوبارہ گھر تعمیر نہیں کر سکتے ۔ بچارہ پنشنرز یہ سوچ رہا ہوتا ہے کہ مہنگائی میں عظیم اضافے کے بعد پنشن میں قلیل سا اضافہ اب کیا معنی رکھتا ہے۔ سرکاری ملازم کے سامنے دودھ والے کا بل، بجلی کا بل، گیس کا بل، پانی کا بل دھرا رکھا ہے۔ اتنے میں ٹی وی اینکر کی آواز گونجتی ہے ملک شاہراہ ترقی پر گامزن ہے۔ وہ سوچتا ہوگا کہ شاید یہ شاہراہ ہمارے علاقے سے کہیں دور سے گزرتی ہوگی۔ ہر بجٹ مہنگائی لے کر آتا ہے تو کچھ لوگ بجٹ کا مقابلہ مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی افرادی قوت میں اضافہ کر لیتے ہیں اور ان کو کسی کام پر لگا دیتے ہیں۔ نہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ نہ صحت کے بجٹ میں حسب ضرورت اضافہ کیا جاتا ہے۔ اسپتالوں میں دوائیاں کہا تو جاتا ہے مل جاتی ہیں لیکن عملی صورت حال میں ایسا نہیں ہوتا۔ ابھی میں یہ کالم تحریر کر رہا تھا کہ ایک قاری کا میسج آیا کہ کسی گورنمنٹ اسپتال میں وینٹی لیٹر کے حصول کے لیے کچھ کوشش کر دی جائے۔ اس میں شک نہیں کہ حکومت صحت کے شعبے میں کچھ بہتر کام کر رہی ہوگی، لیکن وینٹی لیٹرز کی کمی ہونا عجیب بات ہے۔ ضرورت سے کچھ زائد وینٹی لیٹرز خریدنے میں اربوں روپے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بجٹ دستاویز کے سیکڑوں صفحات میں ہزاروں ضرورتوں کے لیے بجٹ مختص کیے جاتے ہیں، مگر ایک مرتے ہوئے مریض کے حصہ میں اضافہ نہیں آتا۔  ترقی کے بہت سے اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں لیکن تعلیم میں بہتری کا کوئی عدد نظر نہیں آتا۔ جس ملک میں بجلی کی شدید قلت پائی جاتی ہو۔ کہا جا رہا ہے کہ اب سورج کی روشنی جوکہ مفت میں ہے سولر پر مزید ٹیکس لگنے کی خبریں بھی عام ہیں۔ یہ سب کچھ آئی ایم ایف کی ایما پر ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کے ملکوں میں نہ بجلی کی قلت ہے نہ سولرز پر ٹیکس ہے۔ انھیں شاید معلوم نہیں کہ یہاں پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 12 گھنٹے تک جا رہا ہے تو ایسی صورت میں حکومت کی طرف سے سولر فری ٹیکس ہونا چاہیے، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ نظر آ رہا ہے۔ مفت کے سورج پر بھی لگے ہوئے ٹیکس میں مزید اضافہ ہوگا۔ بہت سے غریب موٹرسائیکل والے جو آئے روز پٹرول کی قیمتوں سے نالاں پریشان ہیں سوچتے تھے کیوں نہ الیکٹرک موٹرسائیکل قسطوں میں لے کر شاید مسائل حل ہوں، لیکن اب اس پر یہ امکانات واضح کیے جا رہے ہیں کہ الیکٹرک موٹرسائیکل اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہیں۔ اب تو ایسا معلوم دے رہا ہے کہ غریب اپنی زندگی کی آسانیوں کے لیے جو بھی راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، ان پر ٹیکسوں کا ٹول پلازہ قائم کیا جا رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک گرین انرجی، الیکٹرک گاڑیوں، ماحول دوست ٹیکنالوجی کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں، سبسڈیاں دی جا رہی ہیں، ٹیکس کم کیے جا رہے ہیں، لوگوں کو صاف توانائی کی طرف راغب کیا جا رہا ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد جب لوگ غور و فکر مکمل کر لیتے ہیں تو یہ سوال پورے ملک میں گردش کرنے لگتا ہے کہ کیا بجٹ صرف محصولات جمع کرنے کا نام ہے یا عوام کو سہولیات دینے، مہنگائی سے بچانے کا نام بھی ہے۔ غریب عوام کی اکثریت سرکاری ملازم پنشنرز، عام مزدور اور کسان اور غریب جھونپڑیوں میں رہنے والے نے یہ بتایا کہ یہ بجٹ عجیب ہے کہ ان کے لیے ایک اور لمبی رات بس مہنگائی کی چادر پھیلا دی گئی ہے۔ کیا حکومت ایسا بجٹ لا سکتی ہے جو حقیقی معنوں میں عوام پر ٹیکس کا بوجھ لادنے کے بجائے عوام کو ریلیف دینے والا بجٹ ہو۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل