Loading
خبر یہ آئی کہ اس بار ہندوستان کی سیکولر حکومت نے مسلمانوں کو کھلے میدانوں میں عید کی نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ بھلا مسلمانوں کے میدانوں میں نماز پڑھنے سے جہاں ٹریفک کو بھی کوئی دشواری نہ ہو رہی ہو، ہندوؤں کو کیا کیا تکلیف ہو سکتی ہے مگر بھارت کے متعصب وزیر اعظم طرح طرح سے مسلم اقلیت کو ہراساں کرنے میں ہی ہندوتوا کی خیر سمجھتے ہیں۔ اور بھلا ان کے پاس ہے کیا۔
ہندو مذہب کے ذریعہ حکمرانی کے کچھ ’’سنہری اصول‘‘ ہونا چاہیے تھے جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں۔ کمیونزم کے کچھ اصول ہیں جس پر کمیونسٹ سوسائٹی کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی اور رکھی گئی۔ سوشلزم کے کچھ اصول تھے، اس طرح اسلام کے اصولوں پر معاشرہ کو مرتب کیا جا سکتا ہے اور ماضی میں کیا جاتا رہا ہے مگر ہندو دھرم کے پاس حکمرانی کے ایسے واضح اصولوں کا فقدان ہے ، ہندوتوا کچھ ظاہری طریقہ بود و باش، کچھ اپنی طے کردہ مذہبی روایات کی ادائیگی پر مشتمل ہے اور ان کے پاس کچھ ایسا راہ عمل نہیں جس پر چل کر کسی منزل تک پہنچا جا سکے۔
پھر ہندو دھرم بھی صرف ہندوستان تک محدود ہے، اس سے آگے ہندو دھرم کہیں اپنی آب و تاب کے ساتھ تو کیا برائے نام بھی موجود ہیں۔ اب ہندوستان میں ہندو اکثریت کے باوجود ایک معقول اقلیت مسلمان کی حیثیت سے موجود ہے، وہ مسلم اقلیت اگرچہ اچھی خاصی تعداد میں ہے مگر اتنی بھی نہیں کہ ہندوتوا (اگر وہ کوئی فلسفہ ہو تو) کے لیے خطرے کا باعث بنیں۔
مگر مودی جی اور ہم نوا ہندوؤں کی اکثریت مسلم اقلیت سے خوف زدہ رہتی ہے اور مسلمانوں کونقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ اسی رویے کا نام اب ہندوتوا رکھ لیا گیا ہے ورنہ ہندوتوا کی دوسری تعریفات بھی کی جا سکتی تھیں۔
گاندھی جی اور پنڈت نہرو نے یہ بات سمجھ لی تھی کہ ہندوؤں کے پاس حکمرانی کے واضح اصول موجود نہیں اور جو کچھ ہیں وہ قابل عمل نظر نہیں آتے، اس لیے انھوں نے آزادی کے بعد جب کہ مسلمان علیحدہ ’’مسلم مملکت‘‘ کا نعرہ لگا رہے تھے ،وہ بھی ایک ’’عظیم ہندو مملکت‘‘ کا نعرہ بلند کر سکتے تھے مگر انھوں نے سمجھ لیا تھا کہ ہندوتوا ہندو حکمرانی کی بنیاد نہیں بن سکتا اور ہندوستان کے سارے باسیوں کو ہندو نہیں بنایا جاسکتا اس لیے خیر اسی میں تھی کہ بھارت کو ایک سیکولر اسٹیٹ قرار دیا جائے جہاں ہندوؤں کے علاوہ دیگر اقلیتوں جن میں مسلمان، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ شامل رہ سکیں اور اپنے اپنے دین و مسلک پر رہتے ہوئے زندگی گزارتے رہیں، یہی درست طرز فکر تھی مگر نیک نظر ہندو حکمرانوں کے حلق سے یہ کڑوی گولی نہیں اتر سکی اور وہ اپنی آمریت پر اتر آئے۔
مسئلہ یوں بھی ہے کہ مسلمان اس ملک پر ایک طویل مدت تک حکمران رہے، ان کی رواداری کو نظرانداز کرکے اقلیت ہوتے ہوئے حکمرانی کی سزا ان کو دینا ضروری سمجھا گیا۔ حالانکہ آزادی کے بعد جب ملک تقسیم ہوا تو مسلمانوں کی بڑی تعداد پاکستان چلی گئی اور اب ان کا ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں رہا۔ اس معروضی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے مسلم اقلیت کو جو بجا طور پر خاصی بڑی اقلیت ہے خود ہی ہوّا قرار دے لینا کہاں کی عقل مندی ہے۔
پنڈت نہرو اور ان کے ہم خیال ہندوؤں نے ہندوتوا کے پاس حکمرانی کے اصول و ضوابط کے فقدان کے باعث عافیت اسی میں سمجھی تھی کہ وہ سیکولر انداز میں حکومت کریں اور ملک میں رہنے والی اقلیتوں کو زندگی بسر کرنے کی مہلت دیتے رہیں، مگر اس نسل کے بعد آنے والی نسل نے اس طرز فکر کو پس پشت ڈال کر تمام اقلیتوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی ٹھانی اور ضم کرنے کا انداز بھی ایسا اختیار کیا جو ان اقلیتوں کو قریب لانے کے بجائے اور دور لے گیا۔ اب ایک کشمکش جاری ہے، ظاہر ہے کہ مسلمان بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اس لیے ان کی اپنی اہمیت ہے۔
ان کا کلچر ہندو کلچر سے جدا، ان کا مذہب ان کے مذہب سے الگ، ان کا طرز فکر ان کے طرز فکر سے مختلف ہے اس سب کے باوجود اگر ہندو اکثریت کو، جو غالب اکثریت ہے اور شعار دل نوازی اختیار کرنے کی توفیق مل جاتی تو بھارت ایک عظیم قوت بن کر ابھرتا مگر وہ تو صرف اپنے ہی لوگوں کو ’’غیر ‘‘ بنانے پر تلا بیٹھا ہے اور ایسے میں وہ فوائد کیسے حاصل ہو سکتے ہیں جو دل کو ملانے سے حاصل ہوتے۔ آپ اپنی سب سے بڑی اقلیت کو جس طرح ’’خوار‘‘ کرنا چاہتے ہیں اسے دیکھ کر دیگر اقلیتیں بھی اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے میں حق بجانب ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل