Loading
بلوچستان حکومت نے صوبائی دارالحکومت سمیت پورے صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے نئے اوقاتِ کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت دکانیں، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے بند ہوں گی، جبکہ ریسٹورنٹس اور کیفے رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
حکومت کے مطابق یہ اقدام عوامی سہولت، ٹریفک کے دباؤ میں کمی، سیکورٹی کے بہتر انتظامات اور توانائی کی بچت کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے جاری ہونے کے بعد تاجروں، کاروباری برادری اور عام شہریوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔عام دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور بازار: رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے اور اس کے بعد بند کرنا لازمی ہوگا۔
شادی ہالز، مارکیز اور تقریباتی مقامات: انہیں رات 10 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ریسٹورنٹس، کیفے اور فوڈ آؤٹ لیٹس: رات 11 بجے تک کام کر سکیں گے۔
ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز: انہیں نئے اوقاتِ کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔حکومت نے کئی اہم شعبوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر رہیں۔ ان میں شامل ہیں:
فارمیسیز، اسپتال، کلینکس اور میڈیکل لیبارٹریزبیکریز، تندور اور دودھ و ڈیری کی دکانیں پیٹرول پمپس، سی این جی سٹیشنز اور الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنزجمنازیم، اسپورٹس کمپلیکس، آئی ٹی کمپنیاں اور کال سینٹرزذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے یہ نوٹیفکیشن تمام ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو بھیج دیا ہے۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے رہنما نے اس فیصلے پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے کہا کہ رات 9 بجے دکانیں بند کرنے سے چھوٹے تاجروں کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں جب لوگ دیر سے شاپنگ کرتے ہیں۔
تاہم کچھ تاجر اس اقدام کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے عملہ بروقت گھر پہنچ سکے گا اور سیکورٹی کے مسائل بھی کم ہوں گے۔
عام شہریوں کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹس کو 11 بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت اچھی ہے، لیکن شاپنگ مالز کے 9 بجے بند ہونے سے فیملیز کو سہولت ملے گی یا نہیں، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ یہ فیصلہ صوبے میں قانون و نظم و ضبط کو بہتر بنانے اور رات کی معاشی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لیے کیا گیا ہےاستثنیٰ والے شعبوں کو اس لیے چھوڑا گیا ہے کہ شہریوں کو 24 گھنٹے بنیادی ضروریات میسر رہیں۔
نئے اوقاتِ کار آج سے نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ حکومت نے شہریوں اور تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے کی مکمل پابندی کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل