Wednesday, June 03, 2026
 

نئی حکمت عملی کی ضرورت

 



کوئٹہ مسلسل دہشت گردی کا شکار ہے۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے تمام شہروں میں خودکش حملے اور بم دھماکے عام سی بات بن گئے ہیں۔ صرف کوئٹہ شہر گزشتہ 15 ماہ میں کئی دفعہ دہشت گردی کا شکار ہوا۔ کبھی کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس حملوں کی زد میں آئی تو کبھی بولان ایکسپریس پر حملہ ہوتا ہے اور پھر کبھی ایف سی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایک محتاط اندازہ کے مطابق صرف 15 مہینوں میں ان حملوں میں مرنے والے افراد کی تعداد تین ہندسوں سے زیادہ ہے۔ کبھی دہشت گرد بلوچستان کے مختلف شہروں کو ایک ساتھ نشانہ بناتے ہیں۔ عیدالاضحی سے کچھ دن قبل چمن ریلوے کراسنگ پر ریلوے لائن کو ایک بہت ہی طاقتور بم دھماکے سے اڑادیا گیا، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔ حملہ آور نے ریلوے لائن پر اس وقت دھماکہ کیا جب کوئٹہ چھاؤنی سے کوئٹہ ریلوے اسٹیشن جانے والی جعفر ایکسپریس اپنے کچھ ڈبوں کے ساتھ گزررہی تھی۔ اس حملے میں صرف ریل گاڑی میں سوار مسافر ہی شہید نہیں ہوئے بلکہ ریلوے کراسنگ کے قریب غریبوں کی آبادی فقیر آباد اور چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے سرکاری ملازمین کی بستیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ایک رپورٹ کے مطابق چمن کراسنگ کے ساتھ ایک گنجان آباد بستی فقیر آباد قائم ہے۔ فقیر آباد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد آباد ہیں۔ دھماکہ سے فقیر آباد کے بیشتر مکانات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے اور 70 فیصد مکانات بم کے شیل لگنے سے تباہی کے قریب پہنچ گئے۔ فقیر آباد کے ایک فلیٹ میں مقیم دو افراد فوری طور پر جاں بحق ہوگئے اوردیگر رشتہ دار شدید زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد فقیر آباد کی بجلی، پانی اور ٹیلی فون لائن اور کیبلز بند ہوگئے۔ ٹیلی فون موبائل سروس بند ہونے سے انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل ہوگئی جو کئی دنوں تک معطل رہی۔رہائشی آبادی کے بیشتر مکانات کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ گئیں اور دیواروں پر دراڑیں پڑ گئیں۔ کوئٹہ کے شہری کہتے ہیں کہ سال کے بیشتر دنوں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند ہونا اب عام سی بات ہوگئی ہے۔دھماکے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کوئٹہ آئے اور وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ایک اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کا اعلان کیا۔ وہ عید کے دن متاثرین کے پاس بھی گئے مگر ماضی کی طرح بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی واضح اعلان نہ ہوا۔ بلوچستان کی صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے ماضی کی تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ بلوچستان انگریزوں کے دور سے مسلسل سرکشی کا شکار رہا۔ پاکستان بننے کے بعد بلوچستان میں حالات معمول پر نہیں رہے۔ جب قلات کو پاکستان میں شامل کر نے کا فیصلہ ہوا تو خان آف قلات کے بھائی شہزادہ عبدالکریم اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان چلے گئے تھے اور بلوچستان میں پہلا آپریشن ہوا تھا۔ جب صدر اسکندر مرزا نے ریاست قلات کو ضم کرنے کے لیے فوج بھیجی تو سردار نوروز خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے۔ اس دوران جنرل ایوب خان ملک کے صدر بن گئے۔ بعد میں سردار نوروز خان، ان کے بیٹے اور بھتیجوں کو حیدرآباد جیل میں پھانسی دیدی گئی۔ پھر 1974 میں وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت کو برطرف کیا اور نیپ کی قیادت کو گرفتار کر کے حیدرآباد سازش کیس کے عنوان سے حیدرآباد میں خصوصی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تو اس وقت پھر ایک فوجی آپریشن ہوا جو 1977 تک جاری رہا۔ جنرل ضیاء الحق نے اس آپریشن کو ناگزیر قرار دیا تھا مگر جب انھوں نے 5 جولائی 1977 کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تو حیدرآباد ٹریبونل توڑ دیا گیا۔ قیادت کو رہا کردیا گیا تھا۔ بعد میں انھی جنرل ضیاء الحق نے حیدرآباد سازش کیس کو 90 فیصد سیاسی قرار دیا۔ بعد میں بھی برسراقتدار آنے والی حکومتوں  نے بلوچستان کے بارے میں غلط پالیسی اختیار کی۔ نواب اکبر بگٹی اپنی زندگی کی آخری رمق تک پاکستان کے حامی رہے۔ نواب بگٹی کے قتل کے بعد سرمچاروں کو طاقتور ہونے کا موقع ملا۔ 2013میں نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر مالک بلوچ وزیر اعلیٰ بنے تو انھوں نے جلاوطن رہنماؤں سے سنجیدگی سے مذاکرات شروع کیے۔ ڈاکٹر مالک اور میر حاصل بزنجو جلاوطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کے بارے میں خاصے پرامید تھے۔ڈاکٹر مالک کے بعد کسی رہنما نے دوبارہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا۔ 2018اور 2023 کے انتخابات میں پارلیمانی نظام میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماکامیاب نہیں ہو سکے۔ ڈاکٹر مالک بلوچ ، سردار اختر مینگل اور محمود اچکزئی وغیرہ ابھی تک سیاسی منظرنامے پر موجود ہیں۔ پارلیمنٹ کو ان رہنماؤں پر مشتمل کمیشن قائم کرناچاہیے اور اس کمیشن کی رپورٹ پر مکمل طور پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے باعث چین کی مدد سے تیار ہونے والا سی پیک منصوبے کے متوقع نتائج سامنے نہیں آرہے۔ بلوچستان میں قیام امن کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل