Loading
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تاریخِ انسانی کے وہ درخشندہ ستارے اور مقدس ترین جماعت ہے جس کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت خود کائنات کے سب سے عظیم استاد، نبی کریم حضرت محمد مصطفیﷺ نے فرمائی۔ یہ وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنھوں نے حق کی آواز پر لبیک کہنے میں رتی برابر دیر نہ کی اور کفر و ضلالت کے گھور اندھیروں میں ایمان کی شمع کو اپنے خونِ جگر سے روشن کیا۔
اللہ رب العزت نے کائنات کے اس بہترین گلدستے کو اپنے نبیِ مکرمﷺ کی رفاقت کے لیے خود منتخب فرمایا، ان کے سینوں کو تقویٰ کے لیے پرکھا، قرآن مجید میں ان سے اپنی ابدی رضا اور جنتوں کے وعدے کا اعلان فرمایا اور انھیں رہتی دنیا تک کے لیے ہدایت کا مینار بنا دیا۔ انھی قدسی صفات ہستیوں کے عظیم الشان اور فضائل کے بیکراں سمندر میں سے ایک نہایت تابندہ، باوقار اور منور قطرہ امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی ذاتِ گرامی ہے، جن کی سیرتِ مطہرہ اور فضائلِ جلیلہ رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انھی قدسی صفات ہستیوں میں ایک نہایت تابندہ ذات امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفانؓ کی ہے، جن کا نسب قریش کے معزز قبیلے بنو امیہ سے ملتا ہے۔
آپ کی ولادت واقعہ فیل کے چھ سال بعد طائف میں ہوئی اور مکہ میں اسلام کا سورج طلوع ہوتے ہی آپ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر 39 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ آپ کا شمار "السابقون الاولون" میں ہوتا ہے اور آپ ان خوش نصیب عشرہ مبشرہ میں شامل ہیں جنھیں رسول اللہﷺ نے نام بہ نام جنت کی ابدی بشارت سے سرفراز فرمایا تھا۔ تاریخِ اسلام میں آپ کو متعدد ایسے اعزازات حاصل ہیں جو ان کی انفرادی شان کو ممتاز کرتے ہیں۔ آپ امتِ مسلمہ کے وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے اپنے مخلص اہل خانہ کے ساتھ راہِ خدا میں حبشہ اور مدینہ کی طرف دو ہجرتیں کیں۔
وحی کے نزول سے قبل آپ نے نبی کریمﷺ کی لختِ جگر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، جن کا انتقال غزوہ بدر کے دنوں میں ہوا۔ اس کٹھن وقت میں رسول اللہﷺ کے حکم پر آپ ان کی تیمارداری کے لیے مدینہ منورہ میں رکے تاہم آپﷺ نے سیدنا عثمانؓ کو اجر و فضیلت اور مالِ غنیمت میں بدر کے حاضرین میں ہی شمار فرمایا۔ سیدہ رقیہ کی وفات کے بعد نبی کریمﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کر دیا۔ کائنات میں عثمانؓ کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو صاحبزادیاں آئی ہوں، اسی بے مثال اعزاز کی بدولت آپ کو تاریخ میں "ذو النورین" (دو نوروں والا) کہا جاتا ہے۔
آپ پہلے حکمران ہیں جنھوں نے مسجدِ نبوی میں خوشبو کی دھونی دینے کا آغاز کیا، جمعہ کے دن لوگوں کی کثرت کے پیشِ نظر دوسری اذان کا اضافہ فرمایا اور امن و امان کے لیے سب سے پہلے پولیس کا مستقل محکمہ (صاحبِ شرطہ) قائم کیا۔ جسمانی اوصاف میں آپ میانہ قد، انتہائی خوبرو، گندمی مائل بہ سرخی رنگت، گھنے بال اور گنجان داڑھی کے مالک تھے جو آپ کی شخصیت کو بے پناہ رعب اور حسن عطا کرتی تھی۔ آپ کے فضائل کا احاطہ ممکن نہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہﷺ تشریف فرما تھے جب سیدنا عثمانؓ نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپﷺ نے فوراً سیدھے ہو کر اپنے کپڑے درست فرما لیے اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ "اے عائشہ! کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں"۔ اسی طرح ایک مرتبہ احد پہاڑ لرزنے لگا جب کہ اس پر نبی کریمﷺ، ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ موجود تھے تو سرورِ کائناتﷺ نے اپنے مبارک قدم کی ضرب لگا کر فرمایا کہ "اے احد! ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی نہیں ہے"۔
سیدنا عثمان غنی ؓ نے رسول اللہﷺ سے دو مرتبہ پوری کی پوری جنت خرید لی۔ ایک بار جب انھوں نے بئرِ رومہ یعنی رومہ کا میٹھا کنواں بھاری رقم دے کر خریدا اور مسلمانوں کے لیے تاقیامت وقف کر دیا اور دوسری بار جب انھوں نے جیشِ عسرت یعنی غزوہ تبوک کے تنگدستی کے لشکر کے لیے سیکڑوں اونٹ مع ساز و سامان اور ایک ہزار سونے کے دینار حضورﷺ کے قدموں میں ڈھیر کر ڈالے۔ رسول اللہﷺ ان دیناروں کو الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور متبسم ہو کر فرمایا کہ "آج کے بعد عثمان جو بھی عمل کرے، اس پر کوئی گرفت نہیں اور اسے کوئی کام نقصان نہیں پہنچائے گا"۔
رسول اللہﷺ نے آپ کی تعریف میں یہ بھی فرمایا کہ عثمان میری امت میں سب سے زیادہ حیا دار اور سب سے زیادہ سخی ہیں۔ امتِ مسلمہ پر آپ کا سب سے بڑا اور لازوال احسان قرآن کریم کو ایک سرکاری مصحف میں جمع کر کے امت کو تفرقے سے بچانا ہے۔ جب اسلامی سلطنت دور دراز کے عجمی علاقوں تک پھیل گئی اور قرأت کے طریقوں میں اختلاف بڑھنے لگا تو آپ نے کبار صحابہ کی ایک جماعت کو جمع کیا، ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے حضرت ابو بکر صدیق کے دور کے بنیادی صحیفے منگوائے اور کمالِ حکمت سے اسے قریش کی فصیح لغت پر یکجا کر کے مستند نسخے تیار کروائے۔ اسی وجہ سے آپ کو "جامع القرآن" کہا جاتا ہے۔ ان تمام بلند صفات حلم، علم اور بے پناہ سلطنت و دولت کے باوجود آپ تواضع اور عاجزی کا مجسمہ تھے۔ آپ رات کے وضو کا پانی خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے تھے تاکہ خادم آرام کر سکیں۔
خلیفہ وقت ہونے کے باوجود آپ مسجد کے صحن میں عام لوگوں کی طرح زمین پر قیلولہ فرماتے تھے جس سے آپ کے پہلو پر کنکریوں کے نشانات پڑ جاتے تھے۔ آپ سرکاری مہمانوں کو لذیذ کھانے کھلاتے اور خود اپنے گھر تشریف لے جا کر عاجزی کے ساتھ سرکہ اور زیتون کا تیل کھا کر شکر ادا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ روزے سے رہتے اور رات بھر قیام و عبادت فرماتے تھے۔سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کے بعد آپ کے عہدِ خلافت کا باقاعدہ آغاز ہوا جو بارہ سال کے طویل اور کامیاب عرصے پر محیط رہا۔ آپ کی خلافت کے دوران جزیرہ قبرص (سائپرس)، کرمان، سجستان ، کابل اور افریقہ کے وسیع و عریض علاقے فتح ہوئے اور اسلامی سلطنت کی حدود چار دانگِ عالم میں پھیل گئیں، لیکن جب حکومت مستحکم ہو گئی تو مدینہ منورہ کے پرامن ماحول میں حاسدین اور فتنہ پروروں کی سازشیں بڑھ گئیں اور انھوں نے خلیفہ وقت کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔
رسول اللہﷺ نے آپ سے پہلے ہی عہد لیا تھا کہ "اگر منافقین خلافت کی قمیص اتارنے کا کہیں تو مت اتارنا"۔ چنانچہ آپ نے باغیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے سے سختی سے منع فرمایا تاکہ مدینہ میں خون نہ بہے۔ اس کٹھن وقت میں سیدنا علی مرتضیٰؓ نے اپنے لختِ جگر حسن و حسینؓ کو تلواریں دے کر عثمانؓ کے دروازے پر پہرے کے لیے بھیجا۔ افسوس کہ کچھ فتنہ پرست لوگ پچھلی طرف سے دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہو گئے۔
اس وقت آپ روزے سے تھے اور انتہائی خشوع کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔ ان ظالموں نے آپ پر تلوار سے وار کیا، آپ کی وفادار زوجہ نائلہ آپ کو بچانے کے لیے اوپر گر پڑیں جس سے ان کی انگلیاں کٹ گئیں اور وہ مظلوم خلیفہ، پیکرِ حیا، 18 ذی الحجہ 35 ہجری بروز جمعہ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اپنے ہی خون میں نہلا کر شہید کر دیے گئے۔ سیدنا عثمان نے اپنے قتل سے پہلی رات خواب میں رسول اللہﷺ، ابو بکرؓ اور عمرؓ کو دیکھا تھا جنھوں نے فرمایا تھا کہ "عثمان صبر کرو، تم اگلی رات ہمارے پاس افطار کرو گے"۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان سے راضی ہو اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل