Loading
وزیر اعلیٰ سندھ سمیت متعدد بار اعلیٰ حکام جن میں کراچی کے پہلے جیالے میئر بھی شامل ہیں عرصہ دراز سے کہتے آ رہے ہیں کہ کراچی کے لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی سندھ حکومت کی ترجیح ہے۔ وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اس سلسلے میں متعدد اجلاس نہ صرف منعقد ہو چکے بلکہ اب بھی مسلسل ہو رہے ہیں اور عیدالاضحی کے فوراً بعد بھی وزیر اعلیٰ سندھ نے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کے ساتھ اجلاس میں ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ کراچی کے واٹر سپلائی نیٹ ورک کی بہتری کے لیے پرعزم ہیں اور شہر کی بڑھتی آبادی موثر واٹر مینجمنٹ سسٹم، شفاف طرز حکمرانی اور اسٹرٹیجک منصوبوں کی بروقت تکمیل انتہائی ضروری ہو چکی ہے اور سندھ حکومت زیر تکمیل منصوبوں کو بروقت مکمل کرانے میں مکمل تعاون کرے گی۔
اس موقع پر وزیر بلدیات سندھ نے بتایا کہ 4333 صارفین کے واٹر میٹرز کی تنصیب کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے میئر کراچی اور واٹر کارپوریشن کو ہدایت کی کہ کراچی کو صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے فور کی پیش رفت میں حائل تمام انتظامی اور تکنیکی رکاوٹیں فوراً دور کی جائیں۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے کراچی کے واٹر سیکٹر میں شفاف منصوبہ بندی، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار سرمایہ کاری کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہمارا مقصد ترقیاتی شراکت داروں کے مضبوط تعاون سے کراچی کے لیے جدید قابل اعتماد اور موثر واٹر سپلائی نظام قائم کرنا ہے۔
سندھ حکومت کی طرف سے سالوں سے ایسے خوشنما بیانات اور ہدایتیں سنتے شہریوں کے کان پک چکے ہیں بلکہ کراچی والے ایسے بیانات پر یقین ہی نہیں کرتے اور اپنے طور پر ہی کراچی میں پیدا کی جانے والی مصنوعی قلت سے نمٹ رہے ہیں جن سے کراچی کی واٹر مافیا سرکاری سرپرستی میں پانی کی منہ مانگی رقم سے فروخت سے اب تک اربوں روپے کما چکی ہے اور اب اس فروخت میں پانی کی بورنگ مافیا بھی شامل ہو چکی ہے۔ شہر کے جن علاقوں میں زیر زمین قابل استعمال پانی موجود ہے وہاں جگہ جگہ گہری بورنگ کرا کر پانی حاصل کیا جاتا ہے جس میں کیمیکل ملا کر اس پانی کو شفاف اور صحت مند قرار دے کر منہ مانگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے جن پر کوئی ٹیکس بھی نہیں ہے اور دن رات یہ بورنگ کا پانی فروخت کرنے والے بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں اور یہ منافع بخش کاروبار عروج پر ہے۔
ایک سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ زیر زمین پانی فروخت کرنے والوں سے ایک روپیہ فی لیٹر ہی ٹیکس لیا جائے مگر خود پانی فروخت کرانے والی سندھ حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ پانی فروخت کرانے والے ان دکانداروں سے قبل ہی مشروبات بنانے والی کمپنیاں اور دیگر اپنے برانڈ سے ڈیڑھ لیٹر اور چھوٹی بوتلیں مارکیٹ میں لا چکے تھے جن کی ڈیڑھ لیٹر کی بوتل ایک سو روپے سے بھی زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہے جب کہ بورنگ کرا کر پانی فروخت کرانے والی مختلف کمپنیوں اور بڑی بوتلوں میں 19 لیٹر کی بوتلیں سو روپے سے کم میں بھر کر دیتے ہیں جو سپلائی کرنے والے اپنے نرخوں پر یہ بوتلیں گھروں تک پہنچاتے ہیں۔
شہر میں سالوں سے جاری پانی کی قلت مصنوعی طور پر واٹر کارپوریشن کے کرپٹ اور عوام دشمن افسران ٹینکروں کے ذریعے واٹر ہائیڈرنٹس سے یہ ٹینکر بھروا کر منہ مانگے داموں فروخت کرا رہے ہیں اور یہ زیادہ تر ٹینکر سیاسی اور بااثر واٹر مافیا کے ہیں۔ بورنگ کا پانی اب چھوٹی پانی کی ٹنکیوں کے ذریعے فروخت ہو رہا ہے جو جلد مل جاتا ہے مگر ٹینکر مافیا ٹوکن پر پانی گھروں میں بہت زیادہ تاخیر سے اور نخروں سے پہنچاتی ہے جو مہنگا بھی پڑتا ہے۔
چند ماہ قبل کراچی کے پہلے جیالے میئر نے اعلان کیا تھا کہ سرکاری ہائیڈرنٹس سے ٹینکروں سے پانی کی سپلائی بند کر دی جائے گی مگر کراچی سے تعلق رکھنے والے بے بس میئر اپنے اعلان پر عمل کرانے میں ناکام رہے کیونکہ بااثر سرکار سے تعلق رکھنے والی واٹر مافیا میئر سے زیادہ پہنچ والی ہے جو اپنی یہ غیر شرعی اور غیر قانونی پانی کی فروخت کبھی بند نہیں کرے گی۔
سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں پانی کی قلت اور نایابی کی شکایات پر فاضل جج نے استفسار کیا تھا کہ’’ واٹر کارپوریشن کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے تو واٹر ٹینکروں کو کہاں سے پانی مل رہا ہے؟ جو شہر میں منہ مانگے داموں فروخت ہو رہا ہے‘‘ مگر کسی کے پاس فاضل جج کے سوال کا جواب نہیں ہے اور کراچی میں کسی کو نہیں پتا کہ واٹر کارپوریشن جو شہریوں کو لائنوں کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی قانونی طور پر پابند ہے وہ شہر میں پانی فراہم نہ کرنے کے باوجود ہر ماہ لوگوں سے نہ صرف بل وصول کر رہی ہے بلکہ ہر سال نرخوں میں اضافہ بھی کر رہی ہے اور لوگ سرکاری پانی نہ ملنے کے باوجود ہر ماہ واٹر بل اس امید پر جمع کرا رہے ہیں کہ شاید نلوں میں سرکاری پانی آ جائے۔
واٹر مافیا اور واٹر کارپوریشن کے عوام دشمن اور سنگدل افراد اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ عید پر بھی لوگوں کو پانی نہیں دیتے اور بعض علاقوں میں مہینوں سے فراہمی آب بند ہے۔ واٹر کارپوریشن کے پاس اتنا وافر پانی ہے کہ دباؤ سے بڑی واٹر لائنیں پھٹنا معمول ہے جس سے علاقہ زیر آب آ جاتا ہے مگر گھروں کو فراہم نہیں ہوتا اور ضایع ہوجاتا ہے مگر لائنیں پھٹنے کی تحقیقات ہوتی ہے نہ افسروں سے پوچھ گچھ کیونکہ یہ سب سندھ حکومت کے ملازمین ہیں اور مصنوعی قلت آب پیدا کرکے واٹر ٹینکر فروخت کراتے ہیں۔ یہ سلسلہ سالوں سے جاری ہے۔ فروخت کے لیے پانی ہے مگر عوام کے لیے نہیں، عوام کے لیے صرف دعوے کہ فراہمی آب ہماری ترجیح ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل