Wednesday, June 03, 2026
 

فلاپ فلم، فلاپ جمہوریت

 



پاکستانی فلمی تاریخ میں ایک فلم تھی’’شیریں فرہاد‘‘ بظاہر یہ ایک رومانوی داستان تھی، مگر اس کی ناکامی کے اندر ہماری سیاست، جمہوریت اور اجتماعی نفسیات کی پوری کہانی پوشیدہ تھی۔ عجیب اتفاق دیکھیے کہ محمد علی اور زیبا کی مقبول ترین جوڑی کے باوجود ’’شیریں فرہاد‘‘کامیاب نہ ہو سکی، بالکل اسی طرح پاکستان میں مقبول چہروں کی سیاست بھی قوم کو کامیاب جمہوریت نہ دے سکی۔  یہ وہ دور تھا جب پاکستانی فلم انڈسٹری اپنے شباب پر تھی۔ فلم ساز دلاور ملک نے سوچا کہ ایران کی کلاسیکی داستان’’شیریں فرہاد‘‘کو فلمی قالب میں ڈھالا جائے۔ منصوبہ بڑا تھا، سرمایہ بڑا تھا اور خواب اس سے بھی بڑے تھے۔ ہدایت کار شریف نیر سے مشاورت ہوئی تو ایک’’ انقلابی‘‘ خیال سامنے آیا کہ کیوں نہ فلم کے مرکزی کردار عوامی رائے سے منتخب کیے جائیں۔ یوں گویا فلمی دنیا میں جمہوریت کا تجربہ شروع ہوگیا۔  فلم بینوں سے خطوط کے ذریعے رائے طلب کی گئی۔ عوام نے اپنے محبوب اداکاروں کو ووٹ دیے۔ فرہاد کے کردار کے لیے محمد علی سب سے آگے رہے، وحید مراد دوسرے نمبر پر آئے، پھر ندیم، شاہد، سدھیر اور دیگر۔ شیریں کے لیے رانی اور زیبا برابر ووٹ لے کر نمبر ون قرار پائیں۔ خسرو کے کردار میں طالش سب پر بھاری رہے۔  اب یہاں ایک دلچسپ موڑ آیا۔ عوامی رائے تو رانی کے حق میں بھی تھی، مگر چونکہ اس زمانے میں محمد علی اور زیبا کی جوڑی فلمی دنیا کی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی تھی، اس لیے فیصلہ ہوا کہ محمد علی کے ساتھ رانی نہیں بلکہ زیبا ہی ہوں گی۔ گویا’’عوامی رائے ‘‘کے اوپر بھی مارکیٹ اور مقبولیت کی سیاست غالب آگئی۔فلم مکمل ہوئی۔ بڑے سیٹ لگے، سرمایہ پانی کی طرح بہایا گیا، تشہیر کا شور مچا، ٹریلر نے دھوم مچا دی۔ مگر جب 9 مئی 1975 کو فلم سینماؤں میں پہنچی تو صرف چار ہفتے بعد اس کا چراغ بجھنے لگا۔ فلم سلور جوبلی تک تو پہنچی، مگر مجموعی طور پر ناکام قرار پائی۔ ناقدین نے اس ناکامی کی کئی وجوہات بیان کیں۔ محمد علی کا گیٹ اپ فلم بینوں کو عجیب لگا۔ وہ فرہاد کم اور مکرانی کردار زیادہ محسوس ہوتے تھے۔ پھر کہانی میں وہ کشش نہ تھی، سیٹ مصنوعی لگتے تھے، ہدایت کاری میں جان نہ تھی۔ گویا عوام کے پسندیدہ چہرے موجود تھے، مگر فن، مہارت اور وژن کا فقدان تھا۔  اصل سبق یہی تھا کہ صرف مقبول چہرے کسی منصوبے کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ عوام اکثر ظاہری شخصیت، شہرت اور تاثر کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، مگر کسی شعبے کی اصل کامیابی کے لیے تجربہ، مہارت اور تکنیکی فہم درکار ہوتی ہے۔ ایک کامیاب فلم صرف خوبصورت اداکاروں سے نہیں بنتی، جیسے ایک کامیاب ریاست صرف خوبصورت نعروں اور مقبول سیاست دانوں سے نہیں چلتی۔  پاکستان کی جمہوریت کا المیہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ یہاں عوام ہر انتخاب میں خوبصورت چہرے ڈھونڈتے ہیں۔ کوئی اچھی تقریر کرلے، کوئی جذباتی نعرہ لگادے، کوئی اسٹیج پر جوش دکھادے تو قوم اسے اپنا نجات دہندہ سمجھ لیتی ہے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد یہی مقبول چہرے اکثر مسائل کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔  اس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارے ہاں وزارتیں بھی قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کس وزارت کا اہل ہے، کون عوام کو بہتر نتائج دے سکتا ہے؟ مثال کے طور پر 2013سے اب تک وفاقی وزارت صحت کے سربراہ کے لیے جن افراد کو منتخب کیا گیا ان میں سے صرف 43 فیصد کا تعلیمی پس منظر اور تجربہ کا تعلق متعلقہ شعبے سے تھا باقی 57فیصدکا پس منظر اور تعلیم وغیرہ میڈیکل سے تعلق نہیں رکھتی تھی، ان کا پس منظر صرف سیاسی تھا۔ 2013سے 2019 تک جو دو وفا قی وزرا تھے ان کا پس منظر کاروباری اور سیاسی تھا میڈیکل کی تعلیم یا صحت کا نہیں تھا۔ موجودہ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا بھی یہی معاملہ ہے۔ مصطفی کمال کراچی کے میئر رہ چکے ہیں اور ان کی کارکردگی اچھی رہی ہے اصولاً تو ان کو ان کے تجربے کے مطابق ہی وزارت دینی چاہیے تھی تاکہ اس ملک اور قوم کو کوئی فائدہ پہنچتا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں وزارت دیتے وقت وزارت کی کامیابی کے حوالے سے نہیں سوچا جاتا کہ کون سی شخصیت کس وزارت کے لیے کامیاب رہے گی۔ اسی طرح ایک اور اہم وزارت، تعلیم کی ہے یہاں نظر ڈالیں تو یہاں بھی صورتحال مختلف نظر نہیں آتی۔ یہاں بھی پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون تحریک انصاف اورنگران حکومت (2023 - 2024) میں وفاق کی سطح پر جتنے بھی وزیر تعلیم آئے،ان میں سے صرف 20 فیصد تعلیم یا اکیڈمک شعبے سے براہ راست تعلق رکھتے تھے یعنی 80 فیصد کا پس منظر تعلیم یا اکیڈمی شعبے سے نہیں رہا۔ اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ہماری جامعات اور تعلیمی ادارے سب سے پیچھے کیوں ہیں؟ ہماری تعلیمی پالیسیوں کے سبب حد تو یہ ہے کہ اسکولوں کے اساتذہ کے بعد اب جامعات کے اساتذہ بھی سڑکوں پر اپنے مسائل کے لیے آئے دن احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔اسی طرح اگر ہم وزارت سائنس  اینڈ ٹیکنالوجی کا 1990 سے 2025 تک کا جائزہ لیں، معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صرف 33 فیصد سربراہ متعلقہ شعبے کا پس منظر اور تجربہ رکھتے تھے جب کہ غیر سائنسی اور سیاسی پس منظر اور تعلق رکھنے والے67فیصد تھے۔  مختلف حکومتی معاشی پالیسیوں کا اور وزرات خزانہ کی پالیسیوں کا سب سے زیادہ اثر عوام پر مہنگائی کی شکل میں پڑتا ہے حیرت انگیز طور پر ہمارے ہاں وزارت خزانہ میں بھی جو لوگ اس ملک پر مسلط کیے گئے ان کی بھاری اکثریت متعلقہ شعبے کی تعلیم اور تجربے سے دور تھی۔ اگر اس قسم کی اہم وزارتوں میں تجربہ کار اور ملک و قوم سے وفادار لوگوں کو ذمے داریاں سونپی جاتی تو آج ملک کا یوں بیڑا غرق نہ ہوتا۔آج اسی خرابی کے سبب عوام آٹے، گیس اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے انتہائی تنگ آچکی ہے اور خودکشیوں کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ بہر کیف اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے جمہوریت کو صرف ووٹ تک محدود کردیا ہے، حالانکہ جمہوریت صرف بیلٹ بکس کا نام نہیں، بلکہ درست آدمی کو درست جگہ بٹھانے کا شعور بھی جمہوریت ہی کا حصہ ہے، اگر عوام صرف چہرے منتخب کریں گے اور حکمران صرف وفاداریاں دیکھ کر وزارتیں بانٹیں گے تو پھر نتائج بھی’’شیریں فرہاد‘‘جیسے ہی نکلیں گے، شور بہت ہوگا، تشہیر بہت ہوگی، مگر فلم آخرکار فلاپ ہوجائے گی۔ پاکستان کو آج شاید ایک نئی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ایسی بصیرت جو چہروں سے آگے بڑھ کر صلاحیت کو دیکھے، نعروں سے آگے بڑھ کر وژن کو سمجھے اور مقبولیت سے آگے بڑھ کر اہلیت کو ترجیح دے۔ ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ ہماری سیاست بھی ہر پانچ سال بعد ایک نئی’’شیریں فرہاد‘‘بناتی رہے گی، جس کا ٹریلر تو قوم کو مسحور کردے گا، مگر انجام پھر وہی ناکامی ہوگی اور ہماری جمہوریت کی فلم ہمیشہ فلاپ ہی رہے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل