Thursday, June 04, 2026
 

خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور امن کی تلاش

 



جزیرہ قشم پر امریکی کارروائی، ایرانی الزامات، کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملے، بحرین اور خلیج عمان میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے اور ان دعوؤں کی تردید، یہ سب ایسے واقعات ہیں جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ خطہ محض روایتی عسکری کشمکش کا شکار نہیں بلکہ ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی مقابلے سے گزر رہا ہے۔ اس مقابلے میں طاقت کا اظہار، نفسیاتی دباؤ، سفارتی پیغام رسانی، اطلاعاتی جنگ اور معاشی مفادات ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاعی ضرورت قرار دیتا ہے جب کہ مخالف کی کارروائیوں کو اشتعال انگیزی اور جارحیت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی طرزِ عمل اکثر ایسے بحرانوں کو جنم دیتا ہے جو بعد ازاں قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ یہ امر قابل غور ہے کہ حالیہ بیانات میں عسکری لہجے کے ساتھ ساتھ سفارتی امکانات بھی واضح طور پر موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کے امکان کا ذکر، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے رابطوں کے تسلسل کی تصدیق اور مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی اطلاعات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ دونوں ممالک اپنے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھی مذاکراتی دروازے بند نہیں کرنا چاہتے۔ جدید عالمی سیاست میں یہ کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں۔ اکثر طاقتور ریاستیں ایک ہی وقت میں عسکری دباؤ اور سفارتی لچک دونوں کو استعمال کرتی ہیں تاکہ مخالف فریق سے زیادہ سے زیادہ سیاسی رعایتیں حاصل کی جا سکیں۔ امریکا کے موجودہ رویے کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن ایک وسیع اور طویل جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے امریکی خارجہ پالیسی سازوں کو یہ سبق دیا ہے کہ عسکری مداخلت کے نتائج ہمیشہ متوقع نہیں ہوتے۔ کھربوں ڈالر کے اخراجات، ہزاروں جانوں کا ضیاع اور طویل سیاسی عدم استحکام نے امریکی عوام اور سیاسی قیادت دونوں کو محتاط بنا دیا ہے۔ مزید برآں امریکا اس وقت چین کے ابھار، روس کے ساتھ عالمی رقابت، عالمی معیشت کے چیلنجز اور داخلی سیاسی تقسیم جیسے مسائل سے بھی دوچار ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئی بڑی جنگ واشنگٹن کی ترجیحات کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔  دوسری جانب ایران بھی ایسی ہمہ گیر جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا جو اس کی معیشت کو مزید نقصان پہنچائے۔ برسوں کی اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ اگرچہ ایران نے علاقائی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اقتصادی دباؤ اس کے لیے ایک مستقل چیلنج بنا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران طاقت کا تاثر برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سفارتی امکانات کو بھی زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات میں یہی دہرا رجحان واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف سخت ردعمل کی دھمکیاں اور دوسری جانب مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا اعلان۔خلیجی ریاستوں کی صورتحال اس بحران میں خاص طور پر اہم ہے۔ کویت، بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ریاستیں جغرافیائی اعتبار سے اس تنازع کے عین وسط میں واقع ہیں۔ ان ممالک کی اقتصادی خوشحالی، توانائی کی برآمدات اور سیاسی استحکام کا انحصار علاقائی امن پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کسی ایسی صورتحال سے خوفزدہ ہیں جس میں ان کی سرزمین یا فضائی حدود بڑی طاقتوں کے تصادم کا میدان بن جائیں۔ کویت کی جانب سے واضح اعلان کہ اس کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، دراصل اسی تشویش کا اظہار ہے۔ تاہم خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ایسی حقیقتیں ہیں جن کے باعث مکمل غیر جانبداری اختیار کرنا آسان نہیں۔اس بحران کا ایک اور اہم پہلو اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری تناؤ ہے۔ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ جنگ بندی کی کوششیں اگرچہ حوصلہ افزا ہیں، لیکن صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اسرائیل کی سلامتی سے متعلق خدشات اور حزب اللہ کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں جاری تنازع کسی بھی وقت دوبارہ تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے لبنان کے دفاع کا اعلان اور اسرائیلی قیادت کی سخت وارننگز اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ علاقائی سیاست میں لبنان کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت تک محدود نہیں۔ یہ ملک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے مفادات کا مرکز بھی ہے، اگر لبنان میں دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع ہوتی ہے تو اس کے اثرات شام، اسرائیل، خلیجی ریاستوں اور ایران تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مذاکرات کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین اپنے بنیادی اختلافات کو کس حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اگر کسی مرحلے پر اس راستے کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے تو اس کے نتائج صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی توانائی منڈیاں فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اسی تشویش کا نتیجہ ہے۔ برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ سرمایہ کاروں کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھاتی ہیں۔ صنعتی پیداوار مہنگی ہو جاتی ہے، نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور صارفین کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔ عالمی معیشت جو پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے حالات میں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔  مالیاتی منڈیوں کا ردعمل بھی اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کی اسٹاک مارکیٹوں میں دیکھے جانے والے اتار چڑھاؤ اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرمایہ کار صورتحال کو غیر یقینی تصور کر رہے ہیں۔ سرمایہ ہمیشہ استحکام اور پیش بینی کے ماحول کو ترجیح دیتا ہے۔ جب جنگ، پابندیوں، توانائی کی سپلائی اور سفارتی تعلقات کے بارے میں خدشات بڑھتے ہیں تو مالیاتی منڈیاں منفی ردعمل دیتی ہیں۔ پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں اس غیر یقینی صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے یہ بحران کئی حوالوں سے اہمیت رکھتا ہے۔ ملک کی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر منحصر ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ درآمدی بل کو بڑھا سکتا ہے، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور مہنگائی کے رجحانات کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔ اسی طرح عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال ،بیرونی سرمایہ کاری اور اقتصادی استحکام کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے، لہٰذا مشرق وسطیٰ میں رونما ہونے والے واقعات پاکستان سمیت متعدد ترقی پذیر معیشتوں کے لیے محض خارجی خبریں نہیں بلکہ داخلی اقتصادی چیلنجز کا پیش خیمہ بھی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں چین، روس اور یورپی طاقتوں کا کردار بھی قابلِ توجہ ہے۔ چین مشرق وسطیٰ سے توانائی کی فراہمی پر انحصار کرتا ہے اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے۔مشرق وسطیٰ اس وقت طاقت، مفادات، سلامتی اور سفارت کاری کے ایک پیچیدہ امتزاج سے گزر رہا ہے۔ تمام فریق بظاہر جنگ سے بچنا چاہتے ہیں لیکن اپنی طاقت اور عزم کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی تضاد موجودہ بحران کو خطرناک بناتا ہے، اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو نہ صرف ایک بڑی جنگ ٹل سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں اور علاقائی استحکام بھی کسی حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تاہم اگر کشیدگی کا موجودہ سلسلہ بڑھتا رہا تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سرحدوں سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔آج کے عالمی منظرنامے میں کوئی بھی جنگ محض دو ریاستوں کے درمیان تنازع نہیں رہتی۔ معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، توانائی کی منڈیاں عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہیں اور سیاسی بحران چند گھنٹوں میں بین الاقوامی مسئلہ بن جاتے ہیں۔ اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ بحران کو صرف ایک علاقائی تنازع کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ دراصل عالمی نظام کے استحکام، توانائی کی سلامتی، سفارت کاری کی افادیت اور طاقت کے استعمال کی حدود کا ایک اہم امتحان ہے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ بارود کی راہ اختیار کرتا ہے یا مذاکرات کی۔ لیکن اتنا واضح ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف تہران، واشنگٹن، تل ابیب یا بیروت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا اس کے نتائج محسوس کرے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل