Loading
پیو ریسرچ سینٹر کے ایک نئے عالمی سروے میں گزشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں اسرائیل اور اس کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی مقبولیت میں شدید کمی آئی ہے یہاں تک کہ امریکا اور جرمنی جیسے قریبی اتحادی ممالک کے عوام میں بھی ان کے خلاف ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ تحقیقی ادارے 'پیو' کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ فروری سے مئی 2026 کے دوران، خاص طور پر ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے، دنیا کے بیشتر ممالک میں اسرائیل کے حوالے سے رائے عامہ مزید سنگین اور منفی ہو گئی ہے۔
سروے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ سال 2025 کے مقابلے میں رواں برس 2026 کے دوران اسرائیل کو ناپسند کرنے والے افراد کی شرح میں درج ذیل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جرمنی، اٹلی، ارجنٹائن اور نائجیریا میں اسرائیل کے خلاف منفی خیالات رکھنے والوں میں 9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ جنوبی کوریا میں جہاں اسرائیل کے خلاف منفی جذبات میں سب سے زیادہ یعنی 10 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
اسی طرح برطانیہ میں 8 فیصد جبکہ امریکا میں 7 فیصد مزید شہریوں نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی افریقا، انڈونیشیا اور پولینڈ میں بھی منفی خیالات میں 5 سے 8 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ میں جہاں پہلے ہی 93 فیصد عوام اسرائیل کے خلاف تھے۔ اس تازہ ترین سروے میں یہ تعداد بڑھ کر 97 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
کسی بھی ملک میں اکثریتی ہمدردی حاصل کرنے میں ناکامی
سروے میں شامل تمام 36 ممالک میں سے ایک بھی ملک ایسا نہیں ملا جہاں کی اکثریت (50 فیصد سے زائد) اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتی ہو۔ اس فہرست میں کینیا واحد ملک رہا جو 50 فیصد مثبت رائے کے ساتھ اسرائیل کے سب سے قریب نظر آیا۔
بینجمن نیتن یاہو پر عدم اعتماد کا عالمی رجحان
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی قیادت پر بھی دنیا بھر کے عوام نے شدید عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
دنیا کے صرف دو ممالک ایسے ہیں جہاں کی اکثریت کو نیتن یاہو پر اعتماد ہے جن میں کینیا (56 فیصد) اور فلپائن (53 فیصد) شامل ہیں۔
یورپ میں نیتن یاہو کے خلاف سب سے شدید غصہ اٹلی میں دیکھا گیا جہاں 88 فیصد عوام نے ان پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی ملک امریکا میں 59 فیصد عوام نے نیتن یاہو پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جبکہ صرف 27 فیصد نے ان کی حمایت کی۔
واضح رہے کہ یہ سروے 8 فروری سے 13 مئی 2026 کے درمیان دنیا کے 36 ممالک میں 3,500 سے زائد افراد سے کیے گئے سوالات پر مبنی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل