Loading
ایران کی معروف گلوکارہ پراستو احمدی اور ان کے ساتھ کام کرنے والے آٹھ افراد کو مبینہ طور پر 2024 میں نشر کیے گئے ایک آن لائن میوزک پرفارمنس کے بعد سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ایرانی عدالت نے گلوکارہ اور پروڈکشن ٹیم کے ارکان کو 74 کوڑوں، دو سال تک بیرونِ ملک سفر پر پابندی اور دو سال تک فنی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کی سزا سنائی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس لائیو کنسرٹ کے بعد کی گئی جس میں 29 سالہ پراستو احمدی نے دسمبر 2024 میں یوٹیوب پر نشر ہونے والی ایک پرفارمنس کے دوران حجاب کے بغیر وطن پرستانہ نغمہ ’’از خون جوانان وطن‘‘ پیش کیا تھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی اور بعد ازاں لاکھوں افراد نے اسے دیکھا۔
اطلاعات کے مطابق گلوکارہ اور چند موسیقاروں کو ویڈیو نشر ہونے کے فوراً بعد مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ بعد ازاں حکام نے ویڈیو کی اشاعت کے حوالے سے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کی۔
عدالتی دستاویزات کا جائزہ لینے والے انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکلا کا کہنا ہے کہ فنکاروں پر ’’عوامی اخلاقیات کے خلاف مواد‘‘ تیار اور شائع کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ایرانی عدلیہ کے سرکاری ذرائع نے ابھی تک فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکا میں قائم سینٹر فار ہیومن رائٹس اِن ایران کی نمائندہ بہار قندھاری نے کہا کہ صرف گانا گانے اور حجاب کے بغیر عوام کے سامنے آنے پر 74 کوڑوں کی سزا انسانی حقوق کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران میں اظہارِ رائے اور فنکارانہ آزادیوں پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔
انسانی حقوق کے وکیل معین خزائلی نے بھی اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی فوجداری قانون کے تحت خواتین کا گانا گانا یا موسیقی پیش کرنا بذاتِ خود جرم نہیں، اس لیے ایسی سرگرمیوں کو غیر اخلاقی مواد قرار دینا قانونی بنیادوں سے محروم دکھائی دیتا ہے۔
ادھر ایرانی نژاد برطانوی اداکارہ نازنین بنیادی اور جلاوطنی اختیار کرنے والی ایرانی اداکارہ ستارہ ملکی سمیت متعدد فنکاروں نے بھی پراستو احمدی کے حق میں آواز اٹھائی ہے۔ ستارہ ملکی کا کہنا تھا کہ پراستو احمدی کی پرفارمنس نے انہیں مزاحمت اور امید کا نیا حوصلہ دیا اور یہ ثابت کیا کہ ایرانی خواتین اپنے حقوق اور آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل