Loading
پاکستانی فری لانسرز نے ملکی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی اہمیت مزید مستحکم کرتے ہوئے مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران مجموعی آئی ٹی برآمدات میں اپناحصہ 25 فیصد تک بڑھالیاہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے جاری اعداد و شمار کے مطابق فری لانسرزکی برآمدی آمدن پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوزکر گئی، جو ملکی تاریخ میں اہم سنگِ میل ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق جولائی تامئی کے دوران آئی ٹی اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ فری لانسرز نے 1.06 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ کمایا،جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 708 ملین ڈالرکے مقابلے میں تقریباً 49۔7 فیصدزیادہ ہے۔
پاکستان کی مجموعی آئی ٹی برآمدات بھی رواں سال 4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں فری لانسرزکاحصہ 20۔3 فیصد تھا،جو اب بڑھ کر 25 فیصد ہوچکاہے۔صنعتی ماہرین کے مطابق نوجوانوں میں فری لانسنگ کے بڑھتے رجحان، پاکستانی ڈیجیٹل خدمات کی عالمی طلب میں اضافے اورحکومتی سہولتوں نے اس نمایاں ترقی میں اہم کردار اداکیاہے،بہتر بینکاری نظام،آسان رپورٹنگ اور غیر ملکی آمدن کے انتظام میں لچک نے فری لانسرزکو باضابطہ مالیاتی ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) کے چیئرمین ابراہیم امین نے اس کامیابی کوفری لانس کمیونٹی کیلیے تاریخی قراردیتے ہوئے کہاکہ سازگار پالیسیوں کی صورت میں پاکستانی فری لانسرز آئندہ چند برسوں میں سالانہ 3 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے فری لانسرزکیلیے 0۔25 فیصد فائنل ٹیکس ریجیم (FTR) برقراررکھنے کے حکومتی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی فری لانسنگ پلیٹ فارمز اور ادائیگی سروسز پہلے ہی ان کی آمدن کا 25 سے 30 فیصد تک مختلف فیسوں اورکمیشنزکی مد میں وصول کر لیتی ہیں۔
ماہرین نے تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو بھی شعبے کی مسلسل ترقی کیلیے ناگزیرقرار دیاہے، اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جس کے باعث ملک دنیاکی بڑی فری لانس مارکیٹوں میں شمارہوتاہے۔
دوسری جانب اے آئی انٹیگریشن ریسرچر ڈاکٹر منور جاویداحمد نے کہاکہ مصنوعی ذہانت (AI) عالمی روزگارکے منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کررہی ہے، وہ فری لانسرز جو اے آئی ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں گے اور اسے اپنے کام کاحصہ بنائیں گے، مستقبل میں زیادہ کامیاب ثابت ہونگے۔
انہوں نے حکومت اور نجی شعبے پر زور دیاکہ فری لانسرزکیلیے مصنوعی ذہانت سے متعلق خصوصی تربیتی پروگرام، بوٹ کیمپس اور استعدادکار بڑھانے کے منصوبے شروع کیے جائیں، تاکہ پاکستانی فری لانسرز عالمی مارکیٹ میں اپنی برتری برقرار رکھ سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل