Friday, June 19, 2026
 

سرداری نظام کے مظالم

 



ملک بھر میں جاگیرداروں، بڑے زمینداروں، سرداروں، نوابوں، بعض ارکان اسمبلی اور سرمایہ دار بااثر افراد کا نظام اب بھی رائج ہے جہاں  مختلف طریقوں سے جرگہ سسٹم کے تحت من مانے فیصلے غریبوں پر مسلط کیے جاتے ہیں اور وہ غریب ان غیر منصفانہ فیصلوں پر چوں چرا نہیں کرسکتے اور اپنے خلاف فیصلے ماننے پر مجبور ہیں جس پر اعتراض نہیں صرف عمل ہوتا ہے۔جرگہ سسٹم ملک بھر میں اب بھی چل رہا ہے جس کی اہم وجہ ملک کا عدالتی نظام ہے جہاں سالوں نہیں بلکہ عشروں میں بھی فیصلے نہیں ہوتے۔ عدالتیں اس تاخیر کی کبھی خود ذمے داری نہیں لیتیں بلکہ وکیلوں کو تاخیر کا ذمے دار قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں اور اس میں کافی حد تک حقیقت بھی ہے کیونکہ وکلا حضرات اگر عدالتوں میں تاخیری حربے استعمال نہ کریں تو ان کا روزگار اور عدالتوں کے نچلے عملے کی کمائی متاثر ہوتی ہے۔ جلد عدالتی فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے نچلی عدالتوں میں بہت زیادہ اور بڑی عدالتوں میں بھی بڑی تعداد میں مقدمات سالوں نہیں عشروں سے زیر سماعت اور فیصلوں کے منتظر ہیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ جھگڑوں، مختلف تنازعات، غیر قانونی سرکاری اقدامات، قتل، سزاؤں وغیرہ کے فیصلے نچلی عدالتوں میں غریب تسلیم کرنے پر مجبور ہیں اور جو فیصلوں کے خلاف بڑی عدالتوں میں اپیل کی مالی حیثیت رکھنے والے اعلیٰ عدالتوں تک جانے کے لیے وکیلوں کی فیسیں بھرتے رہتے ہیں۔ اچھے وکیل کرنے کے بعد بھی انھیں سالوں تک سماعت کے بعد فیصلے مل جاتے ہیں مگر چھوٹی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف بڑی عدالتوں میں اپیلیں مفت یا آسان نہیں ہوتیں۔ عدالتی فیصلوں کے حصول تک لوگوں کی جائیدادیں، زمینیں اور زیورات تک فروخت ہونے سے اچھے بھلے لوگ بھی کنگال ہو جاتے ہیں۔ سندھ کے مختلف اضلاع میں سرداروں سے متعلق شکایات اب اخباروں میں کم اور سوشل میڈیا پر زیادہ منظر عام پر آ رہی ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر سرداروں، سجادہ نشینوں اور بااثر افراد کے مظالم اور جانبدارانہ فیصلوں کی خبریں وہاں کے صحافی مجبوری میں نہیں دیتے کہ ایسا کرنے سے وہ بااثر ناراض ہو کر اسے نقصان پہنچا سکتا ہے کیونکہ اندرون سندھ متعدد صحافی ان سرداروں کے حقائق منظر عام پر لا کر شہید کیے جا چکے ہیں کیونکہ وہ حکومت کے قریب ہو کر پہلے سچ لکھنے والے صحافی پر پولیس سے جھوٹے مقدمات بنواتے ہیں اور باز نہ آنے پر انھیں مروا دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کیونکہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں اور متعلقہ پولیس بھی انھی کے حکم پر مقدمات قائم کرتی ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا میں ضلع جیکب آباد کے ایک گاؤں میں دو سرداروں کے کہنے پر گھروں کو آگ لگائے جانے کی خبروں سے متعلق مذکورہ گاؤں کے خاتون اور اس کے شوہر کے الزامات کی تفصیلات سامنے آئیں جن میں دونوں کا کہنا ہے کہ وہ مختلف ذاتوں سے تعلق رکھتے ہوئے انھوں نے پسند کی شادی کی تھی جس کی وجہ سے یہ بے گناہوں کے گھر جلائے گئے اور دونوں سردار اب ہم دونوں کو مروانا چاہتے ہیں ،اس لیے حکومت ہمیں تحفظ فراہم اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کرے۔یہی نہیں بلکہ سرداروں پر مخالفین کی زمینوں پر قبضوں، جھوٹے مقدمات میں پھنسوانے، جرگوں کے ذریعے من مانے فیصلے کرکے متنازعہ فیصلوں پر جبری عمل کرانے سمیت مختلف الزامات کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر آ رہی ہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسے مظالم کی خبریں دینے والوں کو ایسے سرداروں کا کوئی خوف نہیں ہوتا اور وہ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں جب کہ بعض اپنی شناخت بھی نہیں چھپاتے۔ ضلع قمبر شہداد کوٹ کے بعض سرداروں پر اپنی ہی ذات سے تعلق رکھنے والے مخالفین کی زمینوں پر قبضے کرانے کی خبریں سامنے آنے پر محترمہ فریال تالپور کی ناپسندیدگی کی خبریں میڈیا پر آئیں کہ محترمہ نے سردار کی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے سردار سے متعلق شکایات کی منصفانہ تحقیقات کا حکم دے کر مظلوموں کی دادرسی کی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے کیونکہ عام طور پر سرداروں کی باتوں پر یقین کر لیا جاتا ہے اور مظلوموں کی شنوائی نہیں ہوتی جس کا فایدہ سرداروں کو ہوتا ہے۔ سردار چونکہ بااثر ہونے کے ساتھ سیاسی اثر و رسوخ کے حامل ہوتے ہیں، اس لیے اکثر انھی کی سنی جاتی ہے اور ان کے من مانے اور ذاتی مفاد پر مشتمل جانبدارانہ فیصلوں سے ان کے مخالفین ہی متاثر ہوتے ہیں اور بعض جگہ دو سرداروں کی باہمی رقابت بھی قوموں میں خوں ریزی کا سبب بنتی ہے اور ہر سردار اپنے لوگوں کی حمایت کرتا ہے۔ ضلع شکارپور، ضلع جیکب آباد، ضلع کشمور اور ضلع گھوٹکی میں قبائلی جھگڑے سالوں سے جاری ہیں جن میں لاتعداد افراد قتل ہو چکے ہیں مگر وہاں کے سرداروں کی وجہ سے انتظامیہ قبائلی جھگڑے رکوانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی کیونکہ متعلقہ سردار نہیں چاہتے کہ یہ خونریزی رکے اور ان کی اہمیت ختم ہو۔ یہ شکایات بھی عام ہیں کہ اکثر سردار خود قبائلی تصفیے نہیں ہونے دیتے بلکہ خود بھی جھگڑے کراتے ہیں تاکہ ان کے ڈیرے آباد رہیں اور لوگ انھی کے پاس آ کر فیصلے کرائیں۔ کاروکاری اور قتل کے سرداری فیصلوں میں فریقین پر لاکھوں روپے کے جو جرمانے ہوتے ہیں ان میں سرداری حصہ بھی ہوتا ہے اور انھیں مالی مفادات حاصل ہوتے ہیں۔اگر پولیس غیر جانبدار اور عدالتیں جلد فیصلے کریں تو سرداری مفادات متاثر ہوتے ہیں اس لیے سرداری مظالم اور جانبدارانہ فیصلوں کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے اور لوگ بھی سرداری مظالم سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل