Friday, June 19, 2026
 

پاکستان نے جنگ کے دہانے سے دنیا بچائی

 



عالمی سیاست کے پُرآشوب منظرنامے میں بعض لمحات ایسے بھی وارد ہوتے ہیں جو تاریخ کے دھارے کو نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے مابین طویل کشیدگی، باہمی بدگمانی، اقتصادی پابندیوں، عسکری دھمکیوں اور بالواسطہ محاذ آرائی کے پس منظر میں حالیہ امن مفاہمت ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت کی اہمیت محض اس امر میں مضمر نہیں کہ دو متصادم قوتیں مذاکرات کی میز تک پہنچی ہیں، بلکہ اس میں زیادہ قابلِ ذکر پہلو پاکستان کا وہ فعال اور موثر کردار ہے جس نے اس دشوار مرحلے کو ممکن بنانے میں فیصلہ کن حصہ لیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی بصیرت، سیاسی فہم اور حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی سطح پر باوقار مقام دلایا ہے۔  امریکا اور ایران کے تعلقات قریب نصف صدی سے اضطراب اور تصادم کا شکار رہے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان اس حد تک گہرا ہو چکا تھا کہ ہر سفارتی کوشش بارہا تعطل کا شکار ہوئی۔ ایک طرف امریکا ایران کے جوہری عزائم، عسکری استعداد اور علاقائی اثر و رسوخ کو اپنے مفادات کے لیے چیلنج سمجھتا رہا، تو دوسری جانب ایران امریکی پالیسیوں کو اپنی خودمختاری اور قومی وقار کے لیے مسلسل خطرہ گردانتا رہا۔ یہی سبب ہے کہ ہر نئے بحران نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔ حالیہ بحران میں صورتِ حال اس قدر سنگین ہو چکی تھی کہ دنیا بھر کی نظریں آبنائے ہرمز پر مرکوز تھیں۔ یہ بحری گزرگاہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اگر اس راستے کی بندش واقع ہو جاتی تو توانائی کی رسد میں شدید تعطل، تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عالمی منڈیوں میں شدید اضطراب پیدا ہونا یقینی تھا۔ ایسے نازک لمحے میں پاکستان کی ثالثی سے جو ابتدائی معاہدہ سامنے آیا، اس نے نہ صرف جنگ کے فوری خدشات کم کیے بلکہ عالمی معیشت کو بھی گہری تشویش سے عارضی نجات عطا کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر جس صبر، متانت اور مسلسل رابطہ کاری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ سفارت کاری محض رسمی ملاقاتوں اور بیانات کا نام نہیں بلکہ اعتماد سازی، نفسیاتی فہم اور مخالف مؤقف رکھنے والے فریقین کے مابین مشترک زمین تلاش کرنے کا فن ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں پاکستان نے اپنی سیاسی بالغ نظری کا ثبوت دیا۔ اس کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ عصر حاضر میں عسکری قیادت صرف دفاعی تیاری تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی، پس پردہ روابط اور حساس سفارتی معاملات میں بھی اس کی ذمے داریوں کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ عالمی سطح پر عسکری اعتماد کا جو حلقہ تشکیل پاتا ہے، اس میں بعض اوقات وہ راستے کھل جاتے ہیں جو رسمی سفارت کاری کے لیے مسدود رہتے ہیں۔ یہ امر نہایت معنی خیز ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابتدا میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے اور سخت شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کرتے رہے، مگر سامنے آنے والے معاہدے نے امریکی موقف میں نمایاں نرمی کو آشکار کیا۔ ایران کو تیل کی برآمدات کی اجازت، مالیاتی سہولتوں کی بحالی اور منجمد اثاثوں کے حوالے سے پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا نے کم از کم وقتی طور پر اپنی سخت ترین شرائط میں لچک پیدا کی۔ سفارت کاری کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جب متحارب فریق اپنے ابتدائی اور انتہائی سخت موقف سے کچھ فاصلے پر آ جائیں تو مفاہمت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ایران نے بھی اس معاہدے کو شکست یا پسپائی کے بجائے قومی وقار کے تحفظ کے پیرائے میں پیش کیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ امن صرف باہمی احترام سے حاصل ہو سکتا ہے، ایرانی سیاسی مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔ ایران کے لیے اصل مسئلہ صرف اقتصادی پابندیاں نہیں بلکہ عزتِ نفس اور خودمختاری بھی ہے۔ ایرانی قیادت داخلی سطح پر ہرگز یہ تاثر قائم نہیں ہونے دینا چاہتی کہ اس نے دباؤ کے تحت سر تسلیم خم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم قیادت نے واضح کیا کہ مذاکرات کا مطلب دشمن کے موقف کی تسلیم و رضا نہیں۔اگرچہ اس معاہدے نے امید کی ایک نئی کرن روشن کی ہے، تاہم غیر یقینی کے بادل مکمل طور پر چھٹے نہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے عبوری مذاکرات کے متعلق تاحال ابہام موجود ہے۔ معاہدے کے فوراً بعد جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اس پر ایران کی سخت تنبیہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ خطے میں موجود متعدد محاذ اب بھی سلگ رہے ہیں۔ ایک محاذ پر کشیدگی میں کمی دوسرے محاذ پر اشتعال کو ازخود ختم نہیں کر دیتی۔یہی مقام اسرائیل کے کردار کو نہایت حساس بنا دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی، اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اسرائیلی قیادت اس معاہدے کو مکمل اطمینان سے نہیں دیکھ رہی۔ اسرائیل کی پالیسی طویل عرصے سے ایران کے عسکری اور جوہری امکانات کو اپنے وجودی خطرے کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ہر ایسی پیش رفت جس میں ایران کو سفارتی یا اقتصادی مہلت ملے، اسرائیلی حلقوں میں تشویش پیدا کرتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں خلیجی ریاستوں، روس اور چین کی جانب سے معاہدے کا خیر مقدم بھی خاص معنی رکھتا ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا معاشی بقا کا مسئلہ ہے۔ ان کی معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی ترسیل پر ہے۔ جب سعودی جہاز بحفاظت اس آبی گزرگاہ سے گزرے تو عالمی منڈیوں کو فوری نفسیاتی سکون ملا۔ خام تیل کی قیمت میں نمایاں کمی اس حقیقت کا مظہر ہے کہ سرمایہ کاروں نے جنگ کے امکانات میں کمی محسوس کی۔پاکستان کے لیے اس پیش رفت کے معاشی اثرات بھی نہایت اہم ہیں۔ پاکستان چونکہ توانائی درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت، زرِ مبادلہ اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، اگر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام قائم ہوتا ہے تو پاکستان کے اقتصادی دباؤ میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔ یوں یہ سفارتی کامیابی محض بین الاقوامی وقار کا مسئلہ نہیں بلکہ داخلی معاشی استحکام سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ تاہم یہ سمجھ لینا کہ تمام خطرات ٹل گئے، حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، اب بھی ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے باب میں محتاط ہیں۔ مغربی دنیا کی بنیادی تشویش ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی عسکری صلاحیت ہے۔ اگر آئندہ مذاکرات اس باب میں تعطل کا شکار ہوئے تو موجودہ مفاہمت کمزور پڑ سکتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں پاکستان کے لیے سفارتی کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔پاکستان کو اس کامیابی کو ایک وقتی واقعے تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے مستقل خارجہ حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایک کامیاب ثالثی یقیناً تاریخ میں جگہ بنا سکتی ہے، مگر پائیدار اثر اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاست اپنی سفارتی قوت کو ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار کرے۔ پاکستان کے چین، امریکا، خلیجی ممالک، ترکی اور ایران کے ساتھ روابط اسے ایک منفرد مقام عطا کرتے ہیں۔ اگر اس صلاحیت کو مسلسل بروئے کار لایا جائے تو پاکستان عالمی تنازعات میں ایک معتبر مصالحت کار کے طور پر ابھر سکتا ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ ثابت کیا کہ عسکری قوت کا اصل مقصد محض جنگی تیاری نہیں بلکہ امن کے امکانات کو محفوظ بنانا بھی ہے۔ طاقت کی اعلیٰ ترین صورت وہ ہے جو تصادم کو روکنے اور مفاہمت کو ممکن بنانے میں معاون ہو۔ پاکستان نے اس بحران میں یہی کردار ادا کیا ہے تو یہ اس کی ریاستی پختگی کا روشن اظہار ہے۔عالمی نظام اس وقت ایک نئے عبوری دور سے گزر رہا ہے۔ طاقت کا ارتکاز بتدریج منتشر ہو رہا ہے اور درمیانی قوتوں کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں وہ ممالک جو مختلف عالمی حلقوں کے ساتھ بیک وقت تعلقات استوار رکھ سکتے ہیں، غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ پاکستان کے پاس یہی موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی اہمیت کو سفارتی اثر انگیزی میں تبدیل کرے۔امن معاہدے کی اصل آزمائش اب شروع ہوئی ہے۔ اصل امتحان عمل درآمد، اعتماد سازی اور مسلسل سیاسی عزم کا ہے۔ لبنان، غزہ اور شام جیسے محاذ اگر دوبارہ شدید تصادم کی لپیٹ میں آئے تو یہ مفاہمت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں بہتری کافی نہیں، پورے خطے میں کشیدگی کے اسباب کا تدریجی خاتمہ ناگزیر ہے۔ تاریخ ہمیں یہی درس دیتی ہے کہ جنگیں اکثر غرور، خوف اور غلط اندازوں سے جنم لیتی ہیں، جب کہ پائیدار امن تدبر، تحمل اور مسلسل مکالمے سے حاصل ہوتا ہے، اگر پاکستان نے واقعی دو متصادم قوتوں کو جنگ کے دہانے سے مذاکرات کی میز تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے تو یہ قومی افتخار کا لمحہ ہے۔ تاہم یہ اعزاز اپنے ساتھ بڑی ذمے داری بھی لاتا ہے۔ پاکستان کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اپنے اس سفارتی وقار کو مزید مستحکم کرے اور عالمی سیاست میں ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد قوت کے طور پر اپنی شناخت کو گہرا کرے، یہ تسلسل برقرار رہا تو اسلام آباد محض ایک دارالحکومت نہیں رہے گا بلکہ عالمی مفاہمت اور سیاسی مصالحت کی ایک معتبر علامت بن سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل