Friday, June 19, 2026
 

بر صغیر کے لیجنڈز گلو کار: جب آوازیں بھی ڈیجیٹل ہوجائیں

 



زمانہ بدل گیا ہے۔ پہلے افواہیں محفلوں میں جنم لیتی تھیں، چائے خانوں میں پرورش پاتی تھیں اور آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی تھیں، مگر آج کا دور ایسا نہیں رہا۔ اب افواہیں’’ کلپ ‘‘ بن کر جنم لیتی ہیں،’’شیئر‘‘ہو کر پھیلتی ہیں اور’’ وائرل ‘‘ہو کر سچائی سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہیں۔یوٹیوب، ٹک ٹاک اور اے آئی کے اس دور میں اب آوازیں بھی دوبارہ’’ پیدا‘‘کی جا رہی ہیں اور یہیں سے وہ سوال اٹھتا ہے جس کا جواب آسان نہیں یعنی کیا ہم وہی سن رہے ہیں جو حقیقت تھا، یا وہ جو ہمیں سنایا جا رہا ہے؟اب لیجنڈز کی آوازیں نئی فریب کاری کے ساتھ میدان میں ہیں اور یہ سب جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ برصغیر کی موسیقی میں چند نام ایسے ہیں جنھیں محض گلوکار کہنا مناسب نہیں ہے۔ محمد رفیع، کشور کمار، لتا منگیشکر اور مکیش… یہ صرف آوازیں نہیں تھیں، یہ ایک عہد تھے مگر ڈیجیٹل دور میں انھی عہد ساز آوازوں کے ساتھ ایک نیا کھیل شروع ہو چکا ہے۔ یوٹیوب پر آج آپ کو ایسے گانے مل جائیں گے جن کے ساتھ لکھا ہوتا ہے Unreleased original song of Mohammed Rafi  یا Kishore Kumar AI voice new song سوال یہ ہے کہ یہ ’’ نیا ‘‘آخر ہے کیا؟ اکثر یہ حقیقت نہیں ہوتی بلکہ ایک ڈیجیٹل ترکیب ہوتی ہے۔پرانے گانوں کے ٹکڑے، AI سے بنائی گئی آوازیں اور جذباتی تھمب نیلز کا امتزاج، مگر عام سننے والا اسے تاریخ سمجھ لیتا ہے۔آج ہم اس مسئلے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ معروف گلوکار محمد رفیع سب سے زیادہ استعمال ہونے والی آواز ہے یعنی اگر اس ڈیجیٹل دھوکے کی فہرست بنائی جائے تو محمد رفیع کا نام سرفہرست نظر آتا ہے۔ ان کی آواز اتنی قدرتی، اتنی جذباتی اور اتنی انسانی تھی کہ AI کے ذریعے لوگوں نے اسے آسان ہدف بنا لیا۔آج یوٹیوب پر ان کے نام سے’’نئے گانے‘‘ اپلوڈ ہو رہے ہیں، کبھی انھیں کسی فرضی فلم سے جوڑا جاتا ہے، کبھی کسی زندہ گلوکار کے ساتھ’’ ڈیجیٹل جوڑی‘‘بنا دی جاتی ہے۔ حقیقت اور فریب کے درمیان لکیر تقریباً مٹ چکی ہے۔ گزشتہ دو تین برسوں میں محمد رفیع کی آواز کو AI کے ذریعے دوبارہ تخلیق کرکے متعدد نئے اور پرانے گانوں پر استعمال کیا گیا، جس سے یہ بحث شروع ہوئی کہ کہاں خراجِ عقیدت ختم ہوتا ہے اور کہاں ڈیجیٹل فریب شروع ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر 2006 کی فلم فنا کا مشہور گانا ’’چاند سفارش‘‘اصل میں شان اور کیلاش کھر نے گایا تھا، لیکن 2024 میں موسیقار انشومان شرما اور آدتیہ کلوے نے AI کی مدد سے اسے محمد رفیع اور کشور کمار کی آوازوں میں دوبارہ پیش کیا۔ بہت سے سامعین نے اسے سن کر ابتدا میں حقیقی ریکارڈنگ سمجھ لیا۔اسی طرح فلم اینیمل کے مقبول گیت ’’ پہلے بھی میں‘‘ کا AI ورژن محمد رفیع کی آواز میں تیار کیا گیا۔ یہ انسٹاگرام، یوٹیوب پر بے حد مقبول ہوا۔ یوٹیوب پر متعدد ویڈیوز موجود ہیں جن میں جدید گانوں کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ گویا محمد رفیع نے انھیں گایا ہو۔ بعض ویڈیوز کے عنوانات ہی۔  ''If this song was sung by Mohammed Rafi' جیسے ہوتے ہیں۔ ایک اور بڑی دلچسپ بات یہ کہ 2025 میں گلوکار سونو نگم نے ایک کنسرٹ میں AI کے ذریعے تخلیق کردہ محمد رفیع کی آواز کے ساتھ ’’ڈیجیٹل ڈوئیٹ‘‘ پیش کیا۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ AI اب صرف سوشل میڈیا تجربہ نہیں بلکہ اسٹیج پرفارمنس کا حصہ بھی بن رہا ہے۔مسئلہ صرف ’’جعلی گانے‘‘ نہیں بلکہ ڈیجیٹل شناخت (Digital Identity) کا ہے۔ آج سامع کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ جو آواز وہ سن رہا ہے وہ واقعی محمد رفیع کی تاریخی ریکارڈنگ ہے یا کسی جدید AI سافٹ ویئر نے چند منٹ میں تیار کی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کرنا مشکل تر ہو جاتا ہے۔ AI نے محمد رفیع کو دوبارہ زندہ نہیں کیا، بلکہ ان کی آواز کا ایک ایسا عکس تخلیق کیا ہے جو بظاہر اصلی محسوس ہوتا ہے مگر حقیقت میں مصنوعی ہوتا ہے۔کشور کمار ہمیشہ سے غیر روایتی تھے۔ ان کی شخصیت میں مزاح بھی تھا اور بغاوت بھی۔ شاید اسی لیے ڈیجیٹل دنیا نے انھیں بھی’’دوبارہ زندہ ‘‘کر دیا ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ یوٹیوب پر ان کے نام سے ایسے گانے موجود ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ’’ نایاب دریافت‘‘ ہیں۔ حقیقت میں اکثر یہ AI-generated آوازیں یا فین ایڈیٹس ہوتے ہیں۔ یہ دلچسپ مگر خطرناک رجحان ہے کہ ایک فنکار جو دنیا سے جا چکا ہے، اسے ٹیکنالوجی نے دوبارہ اس انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے کہ پہچان مشکل ہو گئی ہے کہ یہ یاد ہے یا ایجاد؟لتا منگیشکر کا معاملہ ایک اور زاویہ رکھتا ہے۔ ان کے بارے میں سب سے زیادہ افواہ’’گانوں کی تعداد‘‘پر ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے 25 ہزار، کبھی 30 ہزار اور بعض اوقات 50 ہزار تک۔ڈیجیٹل دور نے ان کے گائیکی کے ورثے کو بھی اعداد کے کھیل میں بدل دیا ہے، جہاں ہر پوسٹ ان کے فن سے زیادہ’’ نمبرز‘‘پر گفتگو کرتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں افسانہ حقیقت پر غالب آ جاتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل