Friday, June 19, 2026
 

بجٹ اور فلاح و بہبود اور غربت میں اضافہ

 



دنیا کی مختلف معیشتوں میں بعض اوقات ایسے لمحے آتے رہتے ہیں جب اعداد و شمار اور انسانی زندگی کی فلاح و بہبود آمنے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر انھی ممالک نے فلاح پائی جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے یکسو ہو جاتے ہیں۔ ایک طرف گراف، اعداد و شمار، چارٹ، مالیاتی خسارہ یہ سب باتیں آئی ایم ایف کو معیشتوں پر شکنجہ سخت سے سخت کرنے کی طرف راغب کرتا ہے جس سے عوام نڈھال ہو جاتے ہیں، غربت میں اضافہ ہو جاتا ہے، مہنگائی کا عفریت عوام کو نگلنے لگتا ہے، لوگ غربت کی لکیر سے نیچے گرنے لگتے ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب ریٹائرڈ استاد، بوڑھا کلرک، بوڑھی خاتون یہ سب لوگ اس صف میں شامل ہو رہے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے ہیں۔ ااسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ معیشت میں استحکام کے آثار پیدا ہوئے ہیں، شرح نمو 3 فی صد سے زائد رہی، افراط زر پہلے کی نسبت کم رہا، زرمبادلہ کے ذخائر پہلے کی نسبت بہت بہتر ہوئے، لہٰذا حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے شرح نمو کا ہدف 4 فی صد اور افراط زر کا ہدف 8.2 فی صد رکھا ہے۔ کاغذ پر یہ اعداد و شمار انتہائی خوشنما نظر آتے ہیں، لیکن اصل حقیقت بازار جا کر کھلتی ہے کیونکہ بازار دہائی دیتا ہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے تو خریدار کہاں ہیں؟ دنیا کے نام ور معیشت دانوں نے اپنے جو نظریات بیان کیے ہیں ان کو ان الفاظ میں بیان کر سکتے ہیں کہ معیشت کا انجن صرف کارخانے نہیں، صارفین کی قوت خرید ہے۔ مزدور شام کو گھر جاتے ہوئے کیا خرید کر لے جا رہا ہے؟ ایک ریڑھی والا رات کو گھر جاتے ہوئے کیا خرید رہا ہے، ایک نجی ملازم نے اپنے گھریلو اخراجات پر کتنی رقم خرچ کی، ایک پنشنر کی رقم کتنے دن کے بعد اس کا ساتھ چھوڑ گئی، مہینے کے باقی 10 دن یا 15 دن وہ بغیر دوا کے کیسے گزارا کر رہا ہے یا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے۔ جب عوام کے غریب طبقے کے پاس خرچ کے لیے رقم ہوگی تو اس کی طلب کے بڑھنے سے ملکی پیداوار بڑھتی ہے۔ پیداوار سے روزگار پیدا ہوتا ہے اس طرح سے ترقی کا دائرہ مکمل ہوتا ہے۔ بہ صورت دیگر بہت سے ماہرین معاشیات نے اس کے برعکس دائرے کی تکمیل کو منحوس چکر قرار دیا ہے جس سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں غربت کی شرح چند سال قبل 21 فی صد تھی اور اب 29 فی صد ہو گئی ہے۔ اس مرتبہ حکومت نے پنشنرز کی پنشن میں محض 7 فی صد اضافہ کرکے ان کو مزید غریب بنا کر غربت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا ہے۔ اب معیشت کا منحوس چکر بار بار معیشت کو غربت کی جانب دھکیلتا رہے گا اور اسی طرح کا منحوس معاشی چکر چلتا رہے گا۔ امریکا، برطانیہ، جرمنی اور جاپان جیسے ممالک کی معیشت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ملکوں میں فلاحی اخراجات میں اضافے، پنشنروں کی پنشن میں اضافے، نجی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے باعث بھاری رقم فوری طور پر گھریلو اخراجات پر خرچ ہوتی رہی اور بالآخر ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی۔ کوئی بھی بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو اس میں عوام کی قوت خرید میں اضافے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں آئی ایم ایف کے مشوروں سے جتنے بھی بجٹ بنائے گئے، اس میں عوامی فلاح و بہبود کا نکتہ بہت کم نظر آتا ہے۔ آئی ایم ایف اپنے نقطہ نظر کو حال کی نظر سے دیکھتا ہے اور پاکستان کے درآمدی بل گھٹتی ہوئی برآمدات، کم ذرائع آمدن کے باعث زیادہ آمدن حاصل کرنے کے لیے اشرافیہ کے بجائے عام دکانداروں پر ٹیکس کا بوجھ لادے چلی جاتی ہے۔ مثلاً 14 جون کو جیسے ہی ایران امریکا کشیدگی میں کمی کے امکانات پیدا ہوئے چند دن میں ہی پٹرول کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ پاکستان کی حکومت چاہے تو انتہائی بولڈ اور پاکستانی عوام کی آواز والے اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ ایران سے بھی تیل کی خریداری اور گیس منصوبے کی تکمیل کا اعلان جس سے جیسے ہی پاکستان کو تیل اور گیس سستا حاصل ہوا، اس کا سب سے بڑا کھپت کا دائرہ صرف اور صرف صنعتوں کے لیے مخصوص ہو، تاکہ صنعتوں کو تیل اور گیس سستا ترین دستیاب ہو جس سے ملکی صنعتی پیداوار کی قیمت میں کمی ہو اور بیرون ملک پاکستانی مصنوعات کو پذیرائی حاصل ہو اور اس کے ساتھ جب یہاں پر توانائی سستی ہوگی تو ایسی صورت میں غیر ملکی سرمایہ کار کی آمد میں اضافہ ہوگا اور ملکی سرمایہ کار جوکہ توانائی کی قیمت میں اضافے سے مجبور ہو کر بیرون ملک شفٹ ہو گئے تھے وہ بھی واپسی پر مجبور ہو جائیں گے۔  پاکستان کی معیشت کو دوراہے پر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک طرف مالیاتی استحکام کی ضرورت ہے اور دوسری طرف عوامی قوت خرید کی بحالی کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف صرف ایک رخ معاشی استحکام کے حصول کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ معاشی پالیسی کی اصل کامیابی یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور سماجی انصاف کے درمیان توازن پیدا کیا جائے، کیونکہ معیشت اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے نہیں چلتی، یہ تو بازار میں دکاندار کی مسکراہٹ سے چلتی ہے۔ اب اس کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کے کم درجے والے طبقے کے لیے آسانیاں فراہم کی جائیں، جن میں نجی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے اقدامات، پنشنرز کی پنشن میں اضافہ، حکومت کے اپنے فضول اخراجات کو کم کرنا، درآمد کے ذریعے اشیائے تعیش اور لگژری گاڑیوں کی درآمد کی حوصلہ شکنی اور برآمدات میں اضافے کے لیے کوشش کرتے رہنا۔ دیگر بہت سے معاشی فلاحی اقدامات کے ذریعے ملک کے لیے روزگار کے مواقع اور آمدن کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل