Wednesday, June 24, 2026
 

رفاقت تہران، بصیرت پاکستان اور عالمی امن

 



نور خان ایئربیس کی فضا میں جب اکیس توپوں کی گونج بلند ہوئی، پاک فضائیہ کے جے ایف-17 طیارے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے استقبال میں آسمان پر محوِ پرواز ہوئے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے ایک غیر معمولی گرم جوشی کے ساتھ تہران کے سربراہِ مملکت کا خیرمقدم کیا، تو یہ منظر محض سفارتی آداب کی ایک رسمی تصویر نہ تھا بلکہ اس پورے خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی بساط کا ایک معنی خیز استعارہ تھا۔ ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد مفاہمت کی ایک نئی راہ کھلتی دکھائی دے رہی ہے، اسرائیل اپنی عسکری حکمت عملی کو نئی شکل دے رہا ہے، لبنان ایک بار پھر عدم استحکام کے دہانے پر کھڑا ہے اور عالمی منڈی ہر لمحہ توانائی کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہی ہے، پاکستان کا کردار ایک فعال، ذمے دار اور متوازن ثالث کا بن چکا ہے۔  اسلام آباد میں ایرانی صدر کی موجودگی اور اس موقع پر ہونے والی ملاقاتوں نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات محض ہمسائیگی یا مذہبی و تہذیبی قربت تک محدود نہیں بلکہ اب یہ خطے کی وسیع تر سلامتی، معیشت اور سفارت کاری کے بڑے تناظر کا حصہ بن چکے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان کی امن کوششیں نہ ہوتیں تو آج یہ مرحلہ ممکن نہ ہوتا، محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے سیاسی وزن کا اعتراف ہے۔ یہ اعتراف اس لیے بھی اہم ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کو زیادہ تر داخلی سیاسی انتشار، معاشی مشکلات اور سلامتی کے چیلنجوں کے حوالے سے دیکھا جاتا رہا، مگر اس بار اس نے ثابت کیا ہے کہ ریاستوں کی اصل قوت صرف داخلی استحکام سے نہیں بلکہ خارجی بصیرت سے بھی متعین ہوتی ہے۔  وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت میں بیلسٹک میزائل پروگرام شامل نہیں اور اس معاملے میں دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے، دراصل موجودہ بحران کے مرکزی تضاد کو آشکار کرتا ہے۔ عالمی طاقتوں نے ہمیشہ دفاعی صلاحیتوں کے معاملے میں مختلف ممالک کے لیے مختلف اصول اپنائے۔ اسرائیل کی عسکری قوت، جوہری صلاحیت اور مسلسل جارحانہ پالیسیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، مگر ایران کے دفاعی نظام کو مسلسل نگرانی اور دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ یہی وہ دہرا معیار ہے جس نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ہمیشہ مشکوک بنایا۔ ایران کے لیے بیلسٹک میزائل پروگرام صرف ایک عسکری اثاثہ نہیں بلکہ قومی بقا کا ستون ہے۔ تہران جانتا ہے کہ اس کے گرد امریکی فوجی اڈے، اسرائیلی نگرانی اور علاقائی رقابتیں موجود ہیں، لہٰذا اپنی دفاعی صلاحیت پر سمجھوتہ اس کے لیے ممکن نہیں۔ایرانی صدر کا یہ دوٹوک اعلان کہ میزائل پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، اس امر کا اظہار ہے کہ ایران مفاہمت چاہتا ضرور ہے، مگر اپنی خودمختاری کی قیمت پر نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے، اگر امریکا ایران کے دفاعی خدشات کو سمجھنے کے بجائے محض اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کرے گا تو مفاہمت کا دروازہ زیادہ دیر کھلا نہیں رہ سکے گا۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی تکنیکی بات چیت اسی پس منظر میں خاص اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ پابندیوں کے خاتمے، جوہری امور، اقتصادی تعمیر نو اور نگرانی و عملدرآمد کے لیے چار الگ الگ ورکنگ گروپس کی تشکیل اس امر کا ثبوت ہے کہ مذاکرات اب علامتی سطح سے آگے بڑھ چکے ہیں، مگر اس کے باوجود بیانیے میں موجود تضاد تشویش ناک ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی قبول کر لی ہے، جب کہ تہران کے نمائندے اس دعوے کی مختلف انداز میں نفی کر رہے ہیں، یہ تضاد محض الفاظ کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا آئینہ دار ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں معاہدے اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتے جب تک دونوں فریق ایک ہی حقیقت کو ایک ہی انداز میں دیکھنے پر آمادہ نہ ہوں، اگر واشنگٹن اس عمل کو اپنی سیاسی فتح کے طور پر پیش کرتا ہے اور تہران اسے قومی وقار کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے عملدرآمد کے مراحل پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکرات کا سب سے بڑا امتحان دستاویز پر دستخط نہیں بلکہ ان دستخطوں کے بعد پیدا ہونے والا عملی اعتماد ہوگا۔  پابندیوں کا خاتمہ ایران کے لیے محض اقتصادی ضرورت نہیں بلکہ داخلی استحکام کا بنیادی تقاضا ہے۔ برسوں سے اقتصادی دباؤ، افراطِ زر، کرنسی کی کمزوری اور تجارتی رکاوٹوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے، اگر یہ پابندیاں نرم ہوتی ہیں تو ایران نہ صرف اپنی توانائی کی برآمدات کو بڑھا سکے گا بلکہ علاقائی تجارت میں بھی نئی جان ڈال سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا موقع ہو سکتا ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، جو برسوں سے سیاسی رکاوٹوں کا شکار ہے، دوبارہ متحرک ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ جیسے ہی آگے بڑھتا ہے تو پاکستان کے توانائی بحران میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔  یہی وہ پہلو ہے جو پاکستان کی ثالثی کو محض سیاسی نہیں بلکہ اقتصادی طور پر بھی اہم بناتا ہے۔ اسلام آباد جانتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان استحکام خطے میں تجارتی راستوں، توانائی کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے امکانات کو نئی زندگی دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے والوں کے سامنے آہنی دیوار کی طرح کھڑا ہوگا۔ یہ بیان سفارتی عزم کا اظہار ہے، مگر اس کے پس ِ منظر میں قومی معاشی مفادات بھی پوشیدہ ہیں۔  آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی انھی پیچیدگیوں کا ایک حساس پہلو ہے۔ عمان اور ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام اور خدمات کے عوض وصول ہونے والی فیس کا جائزہ لینے کا اعلان عالمی سطح پر غیر معمولی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر ایران اس راستے پر اپنی جغرافیائی حیثیت کو عسکری دباؤ اور معاشی فوائد اٹھانے کے لیے استعمال کرتا ہے تو عالمی معیشت شدید دباؤ میں آ سکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا سخت ردِعمل اسی خدشے کی عکاسی کرتا ہے۔ واشنگٹن جانتا ہے کہ ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں کو فوری طور پر اوپر لے جائے گی، مگر اس وقت خام تیل کی قیمتوں میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے۔ برینٹ کروڈ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں میں کمی یہ ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار فی الحال جنگ کے امکانات کو کم سمجھ رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ خوش آئند خبر ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں کمی براہِ راست مہنگائی، درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔لیکن یہ سکون عارضی بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ خطے کا دوسرا بڑا عنصر اسرائیل ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ اسرائیل کو امریکی فوجی امداد پر انحصار کم کر کے اپنی عسکری خود کفالت کی طرف جانا ہوگا، بظاہر ایک دفاعی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ اسرائیل اپنی عسکری صنعت کو اس حد تک مضبوط کرنا چاہتا ہے کہ مستقبل میں اسے کسی بیرونی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اور لبنان کے صدر جوزف عون کا یہ واضح مؤقف کہ مکمل اسرائیلی انخلا کے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں، اس امر کا اعلان ہے کہ لبنان کا محاذ ابھی بند نہیں ہوا۔ اگر یہ محاذ دوبارہ بھڑکتا ہے تو ایران، شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی ایک نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔  یہی وجہ ہے کہ ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی صرف دو ملکوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کا سوال بن چکی ہے۔ پاکستان اس صورت حال کو بخوبی سمجھتا ہے۔ ایک جانب ایران ہمارا ہمسایہ اور توانائی کا ممکنہ بڑا شراکت دار ہے، دوسری طرف امریکا عالمی مالیاتی اداروں اور سفارتی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ توازن کو کیسے برقرار رکھتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی راہ ہمیشہ کانٹوں سے بھری رہی ہے۔ ہر مفاہمت کے ساتھ کچھ ایسے عناصر ضرور موجود ہوتے ہیں جو اپنے سیاسی، نظریاتی یا عسکری مفادات کے لیے اسے ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ یہی وہ خطرہ ہے جس کی طرف وزیراعظم نے اشارہ کیا۔ اصل امتحان اب یہی ہے کہ آیا یہ مفاہمتی یادداشت ایک مستقل معاہدے میں ڈھل سکے گی یا نہیں،اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں ایک نئی جہت پیدا ہوگی بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون، توانائی کے بہاؤ اور سیاسی استحکام کے امکانات روشن ہوں گے اور اگر یہ ناکام ہوا تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی پرانی آگ میں جھلس سکتا ہے جس نے دہائیوں سے اس خطے کو بے یقینی، جنگ اور تقسیم کا شکار بنا رکھا ہے۔پاکستان نے اس مرحلے پر ایک مثبت کردار ادا کر کے اپنی سفارتی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ اب یہ خطے کے بڑے کھلاڑیوں پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع کو تاریخ کا موڑ بناتے ہیں یا ایک اور ضایع شدہ امکان۔ کیونکہ طاقت کے مظاہرے وقتی برتری تو دے سکتے ہیں، مگر قوموں کے مستقبل ہمیشہ مکالمے، تحمل اور بصیرت سے تشکیل پاتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل