Wednesday, June 24, 2026
 

کامیاب سفارتکاری اور بھارت سے تعلقات

 



تاریخ عالم میں پہلی دفعہ پاکستان کا دنیا بھر میں وقار بلند ہوگیا۔ اب بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے پاکستانی قیادت انتہائی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل نے جب ایران پر حملہ کیا تو صرف چند ممالک ایران کے ساتھ تھے، بیشتر عرب ممالک کی ترجیحات مختلف تھیں۔ ایران، امریکا ، اسرائیل جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو متاثر کیا ۔ امریکا اور اسرائیل کی بمباری سے بچوں کے اسکول اور سپتال بھی محفوظ نہ رہے۔جب امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دھمکی دی تھی کہ ایران نے ان کی شرائط کے مطابق معاہدے پر دستخط نہ کیے تو ایران کو ملیامیٹ کردیں گے اور ایرانی تہذیب کو ختم کردیا جائے گا تو دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویش ناک تھی۔  ایران ، امریکا، اسرائیل جنگ کے اثرات صرف ایران اور خلیجی ممالک پر ہی نہیں پڑے بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی۔ اس جنگ سے پاکستان براہ راست متاثر ہوا۔ ملک میں این ایل جی کی قلت پیدا ہونے سے سی این جی اور سوئی گیس کی قلت پیدا ہوگئی تھی۔ پیٹرول اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کا سارا بوجھ عام آدمی پر پڑا۔ حکومت کے بچت اور سادگی کے اعلانات محض نمائشی ثابت ہوئے۔ گزشتہ دنوں جاری ہونے والے اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال میں وزیر اعظم میاں شہباز شریف، فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک نئی سفارتکاری کا آغاز کیا۔  پاکستان سے قریبی تعلقات رکھنے والے ممالک ایران کے لیے کسی قسم کی مصالحتی کوششوں کے حق میں نہیں تھے مگر پاکستان کی قیادت نے انتہائی مشکل صورتحال میں ایران اور امریکا کی قیادت سے رابطے کیے۔ صدر ٹرمپ کی ہر لمحہ بدلتی ہوئی شخصیت، صیہونی لابی کا امریکی انتظامیہ کے فیصلوں پر اثر اور ایران کے رہبر ِ اعلیٰ آیت اﷲ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کی بکھری ہوئی قیادت سے رابطے، اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے تہران کے دورے اور ایرانی قیادت کو معاہدہ پر تیار کرنا انتہائی مشکل کام تھا۔ اسلام آباد مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے بارے میں خارجہ امور کے کئی ماہرین گو مگو کی کیفیت میں تھے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بات چیت شروع کرانے اور اسرائیل کے ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے لیے لبنان پر حملوں کے ماحول میں پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت ہونا سفارت کاری کے مضمون میں ایک نئے روشن باب کا اضافہ ہے۔ تاریخ کا یہ بھی واقعہ ہے کہ ایران میں آیت اﷲ خمینی کے انقلاب کے بعد پہلی دفعہ امریکا میں فیفا ورلڈ کپ کے دوران ایران کا قومی ترانہ پڑھا گیا اور ایرانی پرچم لہرایا گیا، اگرچہ آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا ہے کہ خلیج میں صورتحال معمول پر آنے کے باوجود تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہونے والی مہنگائی کے کم ہونے کے فوری طور پر امکانات نہیں ہیں مگر پاکستانی قیادت نے پوری دنیا کو پرامن مذاکرات کے ذریعہ امن قائم کرنے کا ایک روشن راستہ دکھایا۔ پاکستان اور بھارت پڑوسی ملک ہیں۔  دونوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر نہ ہونے کی بناء پر منقسم خاندانوں کا مسئلہ، بحیرئہ عرب میں ماہی گیری کرنے والے دونوں ممالک کے ماہی گیروں کی گرفتاریاں، کشمیر میں جنگجو گروہوں کی مداخلت اور بلوچستان میں بھارت کی مداخلت سمیت کئی مسائل دونوں ممالک کے درمیان زیرالتواء ہیں۔ بھارت اس سندھ طاس معاہدہ سے انکاری ہوگیا۔ گزشتہ سال پلوامہ میں بھارتی سیاحوں پر دہشت گردی کی واردات اور دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان Dog War کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے ہائی کمشنر اپنے ممالک کو جاچکے ہیں اور دونوں ممالک کے ہائی کمیشن میں انتہائی محدود عملہ تعینات ہے جس کی بناء پر منقسم خاندانوں اور علاج کے لیے بھارت جانے والے بیمار شہریوں کو محدود ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہے، خاص طور پر ادویات اور کتے کے کاٹے کے مرض کے خاتمہ کے لیے بھارت سے ویکسین نہیں آتی جس کی بناء پر ملک میں یہ ویکسین مشکل سے دستیاب ہے اور کتوں کے کاٹنے سے اموات بڑھ رہی ہیں۔ پاکستان کی کھجوروں کی بھارت میں بڑی مارکیٹ ہے۔ اب کچھ تاجر دبئی کے راستے یہ کھجور بھارت برآمد کرتے ہیں جس سے اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ڈاک بھی بند ہے۔ وزارت تجارت نے بھارت سے کتابوں کی درآمد پر بھی پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ بھارت نے گزشتہ سال سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ بھارت پاکستان میں آنے والے دریاؤں کے پانی کا رخ موڑنے کی کوشش کررہا ہے۔ گزشتہ سال کلائمیٹ چینج کے اثرات کی بناء پر پاکستان کی سرحد سے منسلک بھارتی ریاستوں میں شدید بارشوں سے بند ٹوٹ گئے تھے اور اس پانی نے جنوبی پنجاب میں بڑی تباہی مچائی تھی۔ بھارت میں جب کسان فصلوں کی باقیات کو نذرِ آتش کرتے ہیں تو لاہور اور اطراف کے شہروں میں لوگوں کے لیے سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں اس خطے میں کلائمیٹ چینج کے مزید خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔  دونوں ممالک نے ہوائی کمپنیوں کی ایک دوسرے کی حدود میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی مگر جب بھی موسم خراب ہوتا ہے دونوں ممالک کے مسافر طیارے بین الاقوامی سرحد پار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگرچہ بھارت میں اس وقت ایک انتہاپسند حکومت قائم ہے مگر برسرِ اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدر جماعت آر ایس ایس کے سربراہ نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لیے مذاکرات کا عمل شروع ہونا چاہیے۔ بھارت کے کئی سیاست دانوں نے اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ اب جب پاکستان کا ساری دنیا میں کامیاب سفارتکاری کے ذریعہ نام روشن ہوگیا ہے تو اس سفارت کاری کو بھارت سے تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ اور امریکی حکومت پر زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی حکومت نے گزشتہ دنوں اپنے بعض چھپے ہوئے مفادات کے لیے پاکستان اور چین کی بی ایل ایف کو بلیک لسٹ قرار دینے کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کردیا تھا۔ پاکستان کی قیادت جب یہ کوشش شروع کرے گی تو چین، روس، امریکا اور یورپی ممالک اس موقف کی حمایت کریں گے۔ پاکستان کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور بھارت سے مذاکرات شروع کرنے کی پیشکش کرنی چاہیے۔ بھارتی حکومت کو اس کوشش کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ ایران امریکا تنازع میں پاکستان کے موقف سے ثابت ہوگیا ہے کہ مسئلہ کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ یہی مسئلہ کا حل ہے۔ بھارت کی قیادت کو بھی عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان پرامن تعلقات قائم ہونے چاہئیں۔ دونوں ممالک غربت کے خاتمہ کے لیے مشترکہ حکمت عملی سے ہی اس مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل