Wednesday, June 24, 2026
 

فاتح ایران اور پاکستان

 



ایرانی صدر مسعود پزشکیان پاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس جا چکے ہیں۔ ایران اور امریکی جنگ کے خاتمے کے بعد ایرانی صدر کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران کہا کہ پاکستان اور ایران یک جان دو قالب ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان قربتیں پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ کچھ ممالک اس قربت سے خوش ہیں جب کہ کچھ ممالک کے لیے یہ بڑھتی قربت خطرہ کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔ امریکا اور ایران جنگ پر دفاعی تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر امریکا کو مکمل جیت حاصل نہیں ہوئی تو امریکا ہار گیا ہے اور اگر ایران کو مکمل ہار نہیں ہوئی تو ایران جیت گیا ہے۔ امریکا کو جیت نہ ملنا اس کی ہار ہے اور ایران کا ہار سے بچ جانا اس کی جیت ہے۔ اسی فارمولہ کے تحت دنیا ایران کو فاتح قرار دے رہی ہے۔ جیسے معرکہ حق کے بعد عالمی برادری نے پاکستان کو فاتح قرار دے دیا تھا۔ ایسے ہی ایران امریکا جنگ کے بعد عالمی برادری ایران کو فاتح قرار دے رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ بہت کوشش کر رہے ہیں کہ بیانات اور ٹوئٹ سے اپنی جیت ثابت کر دیں لیکن ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا۔ بلکہ ہر گزرتا دن ایران کی جیت پر مہر ثبت کر رہا ہے۔ ایک سوال سب پوچھ رہے ہیں کہ اگر ساٹھ دن میں ایران امریکا مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو کیا ایران امریکا جنگ کے دوبارہ امکانات ہیں۔ میری ر ائے میں مذاکرات کے ناکام ہونے کے تو کافی امکانات ہیں۔ معاہدہ نہ ہونے کے بھی کافی امکانات ہیں لیکن دوبارہ جنگ کے امکانات بھی نہیں ہیں۔ امریکا دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائے گا۔ اس کے لیے بس بہت ہوگئی والی بات ہے۔ مزید بمباری سے بھی امریکا کو کوئی خاص عزت نہیں ملے گی۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ اب دوبارہ امریکا ایران پر حملہ کرے گا۔ ویسے تو امریکی کانگریس نے بھی قرارداد پاس کر لی ہے کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر دوبارہ ایران جنگ شروع نہیں کی جا سکتی۔ جو یقیناً ٹرمپ کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔ لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں ایران جنگ کے حق میں رائے عامہ نہیں ہے۔ لوگ ایران سے جنگ نہیں چاہتے۔ اسی لیے کانگریس ارکان بھی اس کے خلاف ووٹ دے رہے ہیں۔ یہ ایران کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو مشرق وسطیٰ میں کویت بحرین اور متحدہ عرب امارات کے دورہ پر ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کے لیے ایک مضبوط ایران بہت بڑا خطرہ بن گیا ہے۔ جو اب ایران سے بہت خوفزدہ ہیں۔ ایرانی میزائل نے ان کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ اور نئے معاہدہ کے تحت ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے کی کھلی اجازت ہے۔ اس لیے یہ ممالک کافی ناراض بھی ہیں۔ بظاہر یہ امن معاہدہ کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اندر سے یہ ناراض ہیں۔ انھیں ایران کی مکمل شکست چاہیے تھی جو ممکن نہیں ہو سکی۔ امریکا ان کو حوصلہ دینا چاہتا ہے، ان کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ ان کے لیے کوئی خطرہ والی بات نہیں۔ لیکن یہ تینوں ملک جانتے ہیں کہ ان کے لیے ایران اب بہت بڑا خطرہ ہے۔ انھیں ایران سے بچنا ہے اور اس کے لیے انھیں ایران سے اس کی شرائط پر صلح کرنی ہے۔ متحدہ عرب امارات جس پر ایران نے سب سے زیادہ میزائل مارے ہیں۔ تہران پہنچ چکا ہے باقی بھی تہران جانے کے لیے تیار ہیں۔ تہران ان کے لیے اب امریکا اور اسرائیل سے بڑی طاقت ہے۔ ان کا آبنائے ہرمز کے بغیر بھی گزارہ نہیں اور ایران سے خوفزدہ بھی ہیں۔ یہ ممالک جنگ سے پہلے امریکا اور اسرائیل کو بڑی طاقت سمجھتے تھے اب ایران کو بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ بھارت میں تو ماتم چل رہا ہے۔ پہلے پاکستان کی ثالثی کی وجہ سے وہاں ماتم تھا۔ اب ایرانی صدر کے دورہ پاکستان نے بھی بھارت میں ماتم کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ بہت عرصہ تک بھارت اور ایران کے بہترین تعلقات رہے ہیں۔ بھارت نے تہران کو بھی اسلام آباد کے خلاف استعمال کیا ہے۔ لیکن آج دہلی گیم سے باہر ہے، دہلی کہیں نظر نہیں آرہا، مودی گیم سے آؤٹ ہے۔ تہران اور دہلی کے درمیان فاصلے بہت بڑھ چکے ہیں۔ دہلی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ تہران جیت جائے گا۔ دہلی تو اسرائیل کے ساتھ تھا۔ وہ تو اسرائیل کی فتح کی امید لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ دہلی کے بھی تمام اندازے غلط ہو گئے ہیں۔ دہلی کو دو غم ہیں، ایک تہران سے دوری کا غم ہے، دوسرا اسلام آباد کے چھا جانے کا غم ہے۔ دوہرے غم نے دہلی کو ہلکان کر دیا ہے۔ پریشانی نے مزید حالت خراب کر دی ہے اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ جہاں تک پاکستان اور ایران کی بات ہے تو کھیل ابھی شروع ہوا ہے۔ اگر ایران سے پابندیاں مستقل ہٹ جاتی ہیں تو پاکستان ایران گیس پائپ لائن بن جائے گی۔ پھر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن ابھی اس ضمن میں جو تنازعہ موجود ہے پاکستان ایران کے ساتھ اس کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے۔ اس قدر قربت کے بعد دونوں عالمی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بازی کرتے اچھے نہیں لگتے۔ اس لیے اس دورے کے دوران بند دروازوں کے پیچھے پاکستان نے تہران کو معاملے کو حل کرنے کی تجویز دی ہے۔ جرمانے اور تنازعہ کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ دیکھتے ہیں ایران کیسے آگے بڑھتا ہے۔ ایک دوست نے سوال کیا کہ ایرانی صدر کے دورہ کے دورران کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ میں نے کہا بات چیت بند دروازوں میں ہوئی ہے۔ نتائج ساٹھ روز میں آئیں گے۔ اس دورہ نے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ عرب دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اور ایران اکٹھے ہیں۔ یہ عربوں کے لیے آسان پیغام نہیںہے۔ چین کے دو اتحادی بہت قریب آگئے ہیں۔ جو چین کے لیے بہت اچھا ہے۔ چین اس قربت کو آگے بڑھائے گا۔ ایک سوال سب پوچھ رہے ہیں کہ کیا ایران کے ساتھ دفاعی تعاون آگے بڑھ سکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر امریکا والا معاملہ حل ہو جائے تو پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون بھی بڑھ سکتا ہے۔ دونوں ملک معاشی کے ساتھ دفاعی تعاون بھی بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان اورایران کا اتحاد خطہ میں طاقت کا توازن تبدیل کر دے گا۔ جیسے پاکستان ترکی، سعودی عرب اور مصر غیر محسوس طریقہ سے قریب آرہے ہیں۔ چاروں اسلامی ملک آہستہ آہستہ ایک اتحاد کی طرف جا رہے ہیں۔ دنیا اس کو اسلامی نیٹو بھی کہہ رہی ہے۔ ایک دن ایران بھی اس میں شامل ہو جائے گا۔ کیونکہ ایران کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوگا۔ اسی لیے ایران کے لیے پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر سب نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایرانی صدر نے پاکستان کے دورے کے دوران ان ممالک کے لیے اچھے کلمات ادا کیے ہیں۔ اس لیے اسرائیل کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اب اسلامی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے راستے کھل گئے ہیں۔ جو اس کے لیے خطرناک ہیں۔ ایران جنگ میں اسرائیل کی ہار اس کے لیے آٓگے بہت مسائل پیدا کرے گی۔ اس کی دھاک بھی ختم ہو گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل