Wednesday, June 24, 2026
 

کرپشن ختم کرانے کا مطالبہ

 



سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کرپشن ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایران امریکا جنگ ختم کرانے میں واقعی فیلڈ مارشل کا سب سے اہم کردار ہے، جس کی تعریف صدر ٹرمپ ایرانی قیادت سمیت دنیا کے ممالک نے کی ہے اور پاکستان کی پارلیمان اور سندھ اسمبلی سمیت دیگر اسمبلیوں میں بھی فیلڈ مارشل کی کوششوں پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے حق میں تقاریر ہوئیں اور امن معاہدے پر انھیں اور میاں شہباز شریف کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ ملک سے کرپشن ختم کرنا حکومتوں اور حکومتی اداروں کا کام ہی نہیں بلکہ فرض ہے مگر بدقسمتی سے تمام وفاقی اور صوبائی ادارے جن کا کام ہی کرپشن کو روکنا ہے وہ اپنی یہ ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے ایک سابق سینیٹر کے مطابق ملک میں سب سے زیادہ کرپشن ایف بی آر میں ہے ،جو وفاقی ادارہ ہے۔ سندھ حکومت کے مخالفین کے مطابق سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہے جہاں سب سے بڑی کرپشن سندھ سروس کمیشن میں قرار دی جا رہی ہے۔ بلوچستان اور کے پی میں سیاسی کرپشن سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے مگر پنجاب کے سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ویسے بھی ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی حکومتیں بھی کرپشن سے پاک نہیں تھیں۔ کرپشن کے خاتمے اور بیرون ملک خاص کر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں جمع ملک کی دولت واپس لانے کے دعویدار پی ٹی آئی کے چیئرمین اسی بنیاد پر اقتدار میں لائے گئے تھے جن کے دور میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے جتنے زیادہ مقدمات بنائے گئے تھے دونوں پارٹیوں کے خلاف اتنے مقدمات تو دونوں پارٹیوں کے مخالف جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی نہیں بنائے گئے تھے مگر کچھ ہوا نہ ان کی کرپشن عدالتوں میں ثابت کی گئی اور دونوں پارٹیوں کے گرفتار تمام رہنما عدالتوں کے ذریعے جیلوں سے باہر آ گئے تھے اور دونوں پر کرپشن کے سنگین الزامات لگا کر بڑی تعداد میں مقدمات بنوانے والے بانی پی ٹی آئی ماضی کے حکمرانوں کی طرح آج خود جیل میں ہیں۔ ان پر بھی کرپشن کے متعدد سنگین الزامات ہیں جن کو ثابت کرکے انھیں عدالتوں سے سزائیں بھی دلوائی گئی ہیں مگر یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ صدر آصف زرداری سب سے زیادہ عرصہ قید میں رہے مگر طویل عرصہ میں ان پر کرپشن ثابت نہ کی جا سکی تھی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دور میں دونوں پر ایک دوسرے پر لاتعداد مقدمات انتقامی اور سیاسی مخالفت کے باعث بنائے گئے مگر عدالتوں میں ثابت کچھ نہ کیا جاسکا تھا۔پہلے یہ دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف کرپشن کے الزامات عائد کرتی رہیں پھر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار میں آ کر دونوں پارٹیوں کی قیادت پر کرپشن کے مقدمات بنائے اور پہلی بار دونوں سابق حکمران پارٹیوں کو کرپشن کے الزامات بھگتنا پڑے جب کہ پہلے دونوں ایک دوسرے پر کرپشن کے مقدمات بنواتے تھے مگر کبھی الزامات کے ثبوت نہیں دیے گئے۔ میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور میں کہا تھا کہ پی پی حکومتوں میں منظم طور پر انجینئرنگ کرپشن کی جاتی تھی جس کے ثبوت نہیں چھوڑے جاتے تھے۔ کرپشن کے ایسے ہی الزامات پی پی حکومت میں (ن) لیگ حکومت پر لگائے گئے اور جنرل پرویز مشرف حکومت سمیت (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی پر لگائے جاتے رہے اور کہیں ثابت نہ ہوئے۔ 2008 کے بعد دونوں پارٹیاں پانچ پانچ سال اقتدار میں آئیں جن کی مبینہ کرپشن کے چرچے بانی پی ٹی آئیکرتے رہے مگر اپنی حکومت میں وہ انھیں ثابت نہ کر سکے تھے اور جنرل پرویز کو یو اے ای جا کر بے نظیر بھٹو سے ملنا پڑا تھا۔ پی ٹی آئی کے حامیوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت میں انھیں پی پی اور (ن) لیگی حکومتوں کی کرپشن کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں اور بعد میں دونوں پارٹیوں نے مل کر اقتدار حاصل کیا اور دونوں پارٹیوں کا مشترکہ اقتدار چار سال سے قائم ہے اور دونوں پر ہی کرپشن کے الزامات اب بھی لگ رہے ہیں۔ اب سندھ اسمبلی میں کسی پارٹی کا نام لیے بغیر کرپشن کے خاتمے کا مطالبہ ہوا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے مطالبات اور الزامات لگانا سب سے آسان مگر عدالتوں میں کرپشن کے الزامات پاکستان میں تو اب تک ثابت نہ کیے جا سکے ہیں اور نہ ہی اب بھی ممکن ہے۔ کرپشن کے الزامات جن پارٹیوں کی حکومتوں پر ہیں ،وہی تینوں پارٹیاں اب بھی صوبوں کے اقتدار پر حاوی ہیں، اس لیے کرپشن کا خاتمہ بھی انھی تینوں پارٹیوں کی ذمے داری ہے مگر کرپشن تسلیم کوئی نہیں کرے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل