Loading
پاکستان کی تاریخ سیاست و ریاست پر گہری اور دیانتدارانہ نظر دوڑائی جائے تو سماجی اور اخلاقی گراوٹ کی ایک ایسی روح فرسا حقیقت دل کو چیرتی ہوئی سامنے آتی ہے جسے جھٹلانا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔ ہم پاکستانی ایک ایسی بدقسمت قوم کے روپ میں ڈھل چکے ہیں جو الفاظ کے سحر انگیز محل تعمیر کرنے میں تو یدِطولیٰ رکھتی ہے مگر جب تپتے ہوئے میدان عمل میں اترنے کا وقت آتا ہے تو ہمارے ہاتھ بالکل خالی اور پاؤں شل دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلیے خوبصورت اور دل فریب نعروں کا سہارا لیا، بلند و بانگ دعوے کیے مگر پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ سے شروع ہونے والا سفر منزل کی طرف چلا نہیں ۔
یہ ملک، یہ ارضِ پاک، کسی جغرافیائی حادثے کا نام نہیں، یہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرہ مستانہ کا کرشمہ، کروڑوں مسلمانوں کی امنگوں، قربانیوں اور سجدوں کے عوض اللہ رب العزت کی عطا ہے جو نظام مصطفیٰ کے نفاذ اور اسلام کے نشاط ثانیہ کے لیے ایک لیبارٹری کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا یہ وہ سچائی ہے جو ہماری تاریخ کے ماتھے پر لکھی ہے اور اس سے کوئی مفر نہیں لیکن آج ستر سے زائد بہاریں اور خزائیں دیکھنے کے بعد اگر ہم اپنے معاشرے کا ایک کڑا اور بے لاگ احتساب کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ یہاں سیمنٹ اور کنکریٹ کی بلند و بالا عمارتیں، چوڑی سڑکیں، چمکتے دمکتے شاپنگ مالز اور دنیاوی آسائشوں کا ایک ہجوم تو نظر آتا ہے مگر وہ روح، وہ اخلاق اور وہ تڑپ یکسر غائب ہے جسے اسلام کہتے ہیں۔
ضابطہ الٰہی تو یہ ہے کہ جن کاموں کی بنیاد خالص اخلاص اور اللہ کے پاک نام پر رکھی جائے ربِ کائنات اپنی لاریب حکمت اور لازوال برکت کے دروازے اس پر کھول دیتا ہے مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اللہ کی نعمتیں وبرکتیں تو صبح و شام بغیر کسی حقیقی شکر گزاری کے سمیٹ رہے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کا مادہ ہمارے اندر سے بالکل مفقود ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ کی پوشیدہ حکمت کے تحت اب اس ہولناک اور کٹھن امتحان میں داخل ہو چکے ہیں جس کا ذکر قرآنِ حکیم نے متعدد مقامات پر لرزہ خیز انداز میں کیا ہے یہ "مترفین" کا امتحان ہے، یعنی ان خوشحال اور غافل لوگوں کا امتحان جن پر اللہ نے اپنی نعمتوں کی بارش کر دی تھی جن کیلیے آسائشوں کے تمام راستے کھلے تھے مگر وہ نعمتیں پا کر اپنے منعم حقیقی کو ہی بھول بیٹھے اور یزیدی طرزِ زندگی کے خوگر ہو گئے۔
فلسفۂ شہادتِ امام حسینؓ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جب معاشرہ مجموعی طور پر بے حسی، ظلم، مصلحت پسندی اور غفلت کی چادر اوڑھ کر سو جائے تو اس وقت زبانی دعوے نہیں بلکہ مادی آسائشوں کو ٹھکرا کر عمل کے میدان میں نکلنا ہی اصل دین ہے لیکن ہمارا کردار کیا ہے؟ سارا دن ہمارا یہ قیمتی وجود اللہ کی راہ میں اس کے بندوں کی فلاح کے لیے کیا کر رہا ہوتا ہے؟ چلیے، اللہ کی راہ تو بہت بلند اور ارفع بات ہے ہم ویسے ہی اپنی عام زندگی میں کیا گل کھلاتے ہیں؟ ہماری صبحیں اور شامیں شکوے شکایتوں، باہمی گلے شکوؤں، غیبت کی گرم بازاری، چغل خوری اور سوشل میڈیا کے بند کمروں میں بیٹھ کر کھوکھلی بڑھکیں مارنے اور اپنی نام نہاد شان درازی قائم کرنے میں گزر جاتی ہے۔
ہماری پوری دینداری، ہمارا پورا تقویٰ اب صرف اس بات تک سمٹ کر رہ گیا ہے کہ محلے کے 2 - 3 فیصد لوگ دن میں دو چار یا پانچ مرتبہ رسمِ دنیا نبھاتے ہوئے مسجد کا چکر لگا لیتے ہیں، محفلوں میں بیٹھتے ہیں تو بالکل درست مواقع پر انتہائی تقدس کے ساتھ "سبحان اللہ" اور"الحمدللہ" کہہ کر اپنی پارسائی کا ایک جھوٹا رعب جما دیتے اور معاشرے میں مخلوق خدا کی خدمت میں حقیقی طور پر مگن اور قرآن و حدیث کی ترویج میں مصروف علمائے کرام و اکابرین اور چند معاشرہ دوست مخلص لوگوں کی دور کھڑے ہو کر تعریف کر دی کہ "اللہ انھیں مزید توفیق عطا فرمائے"۔ گویا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین کا کام کرنے اور باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا ٹھیکہ صرف چند مخصوص لوگوں نے لے رکھا ہے اور ہمارا کام صرف اسٹیج کے سامنے بیٹھ کر تالیاں بجانا، یا نعرے لگانا یا تماشائی بن کر تنقید کرنا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم سب مل کر اس قومی اور اخلاقی جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور غالب کا یہ مصرعہ ہماری موجودہ حالتِ زار پر بالکل صادق آتا ہے کہ "حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا"۔اگر ہمارے دلوں میں غیرتِ ایمانی کی کوئی رمق باقی ہے اگر ہم نواسہ رسول کے حسینی مشن کے دعویدار ہیں اور ہم واقعی اپنی اس ذلت آمیز حالت کو بدلنے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں تو ہمیں اس کا آغاز کسی بڑے انقلاب کے انتظار میں وقت ضایع کیے بغیر اپنے اردگرد کے ماحول سے کرنا ہوگا اور خود سے یہ چبھتا ہوا سوال کرنا ہوگا کہ کیا اس پوری سوئی ہوئی قوم میں کوئی ایک بھی ایسا حسینی کردار موجود ہے جو کھڑا ہو اور خود آگے بڑھ کر اپنے محلے کی مسجد کی ذمے داری اپنے سر لے؟ میدانِ کربلا میں امام حسینؓ نے نماز کی حفاظت کے لیے تیروں کی بارش میں سجدہ کیا تھا مگر ہم نے اپنے ہاتھوں سے مساجد کے حقیقی منصب کو مسخ کر دیا ہے، ہم نے انھیں صرف ایک گھنٹے کے لیے کھولنے، نماز پڑھنے (نعوذ باللہ اکثریت تو مسجد کے واش روم استعمال کرنے مسجد جاتے ہیں مگر نماز کی توفیق نہیں ہوتی) کے بعد پھر بھاری تالے لگا کر بند کر دینے سے بے جان و ویران جگہیں بنا دیا ہے، حالانکہ عہدِ رسالت مآبﷺ اور حقیقی ریاستِ مدینہ میں مسجد صرف ایک روایتی عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ وہ پورے معاشرے کی دھڑکن اور روح تھی۔ وہیں سے سماجی، تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے چشمے پھوٹتے تھے۔ اگر ہم واقعی "ریاستِ مدینہ"، "نظام مصطفی" اور شریعت مطہرہ کے ساتھ عاشقان مصطفی کے دعوے میں سچے اور مخلص ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنی ہر مسجد کو دوبارہ فلاح و بہبود کا مرکز بنانا ہوگا۔ ایک ایسا مرکز جہاں محلے کے غریب اور یتیم بچوں کو نہ صرف مفت تعلیم دی جائے بلکہ ان کی شان مسلم کے مطابق فولادی تربیت کی جائے، جہاں ایک ایسا فلاحی ڈیسک قائم ہو جس کے پاس محلے کے ہر مستحق، ہر بیوہ اور ہر بے سہارا کا ڈیٹا موجود ہو تاکہ رات کی تاریکی میں سفید پوشوں کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر ان کی کفالت کا سامان کیا جا سکے، اور ایک ایسا حسینی دارالعدل ہو جہاں محلے کے چھوٹے موٹے جھگڑے اور خاندانی رنجشیں تھانوں اور کچہریوں کی ذلت کے بجائے باہمی محبت اور اخوت سے امام و خطیب مسجد اور محلے کے بڑوں کی سرپرستی میں حل کیے جائیں۔
کیونکہ نعمتوں اور برکتوں کے سمندر میں غرق ہونے کے بعد سارا دن زبانی جمع خرچ کرنے، بڑکیں مارنے اور کوفیوں جیسا طرزِ زندگی اپنانے سے کبھی قوموں کی تقدیریں نہیں بدلا کرتیں کیونکہ ربِ کائنات کا یہ ازلی و ابدی قانون ہے کہ وہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ اس قوم کے افراد خود اپنے اندرونی وجود اور اپنی حالت کو بدلنے کی سچی تڑپ اور عملی کوشش نہ کریں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سوشل میڈیا کی لایعنی بحثوں، سیاسی بتوں کی اندھی وفاداریوں اور کھوکھلے مذہبی نعروں کے حصار سے باہر نکلیں۔ اپنے گریبانوں کو چاک کریں، اپنے دل کی عدالت میں کھڑے ہوں اور گریہ و زاری کرتے ہوئے خود سے سوال کریں کہ "میں نے اس ملک کے لیے، اللہ کی مخلوق کے لیے عملاً کیا قربانی دی؟" مدینے کی وہ پاکیزہ ریاست نعروں کی گونج سے نہیں بلکہ مدینے والے تاجدارﷺ کے اسوۂ حسنہ اور کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں دی گئی لازوال عملی قربانی کے فلسفے کو اپنے خون میں شامل کرنے سے بنتی ہے۔ اگر آج بھی ہم اپنی اس گہری اور غفلت شعار نیند سے نہ جاگے اور ہم نے اپنی مساجد اور محلوں کو نہ سنبھالا تو آنے والی تاریخ ہمیں ایک ایسی بدبخت اور رائیگاں قوم کے طور پر یاد رکھے گی جو بولتی تو بہت خوبصورت تھی مگر جب عمل کا وقت آیا تو تاریخ کے صفحات پر اپنا کوئی نقش نہ چھوڑ سکی اور کوفہ والوں کی طرح صرف مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر تماشائی بنی رہی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل