Loading
رائٹر پر جذبات غالب آجائیں تو حقائق پامال ہوجاتے ہیں۔ مصنّف نے بھٹو صاحب کی عقیدت کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہاں تک لکھ دیا ہے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی پر پوری قوم اسی طرح سکتے میں آگئی جس طرح قائداعظم کی وفات پر یا سقوطِ ڈھاکہ کے وقت آئی تھی۔
بھٹو صاحب بلاشبہ بہت مقبول لیڈر تھے، وہ ہمارے نیوکلیئر پروگرام کے بانی تھے، متفقہ آئین بنوانا اور جنگی قیدیوں کو چھڑا کر لانا ان کے بہت بڑے کارنامے تھے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ جمہوری نہیں، آمرانہ اور جاگیردارانہ ذہنیّت کے حامل تھے، انھوں نے ہر مخالفانہ آواز کو دبایا اور اپنے سیاسی مخالفین پر مظالم ڈھائے، بلوچستان حکومت ختم کرکے ولی خان، عطاء اللہ مینگل، بزنجو صاحب اور دائیں اور بازو کے بے شمار لیڈروں کو جیلوں میں بند کردیا، حبیب جالب جیسے انقلابی شاعر کو بھی گرفتار کرلیا، اور تنقید کرنے والے درجنوں صحافیوں کو کال کوٹھڑیوں میں پھینک دیا، ایک بہت بڑا ظلم یہ کیا کہ ہر قسم کی انڈسٹری کو قبضے میں لے کر ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی شاندار معیشت پر ایسا مہلک وار کیا کہ وہ پھر کبھی نہ سنبھل سکی۔
غیر جانبدار مورخ اِس پر متفق ہیں کہ بھٹو صاحب نے ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، اور ان کا دور ایک جبر کا دور تھا، مگر اس کے باوجود میرے خیال میں قائداعظم کے بعد وہ مقبول ترین سیاسی راہنما تھے، ان کی پھانسی ایک بڑا ہی افسوسناک واقعہ تھا، اتنے قابل اور مقبول راہنما کا ایسا انجام ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر مصنف کی اس بات سے بہت لوگ اختلاف کریں گے کہ بھٹو صاحب کی پھانسی پر قوم کی حالت ایسی تھی جیسی قائداعظمؒ کی وفات پر یا جیسے سقوطِ ڈھاکہ پر۔ قائدؒ کی وفات پر اور سقوطِ ڈھاکہ پر بلااستشناء پوری قوم صدمے اور سکتے کی حالت میں تھی، مگر بھٹو صاحب تو ایک متنازعہ لیڈر تھے، جنھیں ناپسند کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی، بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ناگہانی موت پر پوری قوم کو صدمہ پہنچا تھا مگر بھٹو صاحب کے وقت قوم تقسیم تھی۔
مصنف نے سروس کے دوران مارشل لاء دور بھی دیکھے اور اس دور کے چند واقعات بھی تحریر کیے ہیں جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس دور میں سول اداروں کو کس طرح برباد کیا جاتا رہا، اور خاص طور پر عدلیہ کی کس طرح تذلیل کی جاتی رہی، مہدی صاحب لکھتے ہیں کہ وہ ملتان میں تعینات تھے جب جنرل ضیاء حکومت کی طرف سے انھیں احکامات موصول ہوئے کہ ہائی کورٹ کے جج صاحبان نئے سرے سے آئینِ پاکستان کی بجائے پی سی او کے تحت حلف اٹھائیں گے اور ان سے حلف صوبے کا چیف جسٹس نہیں بلکہ ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر لے گا۔ چنانچہ ملتان بینج کے دو جج صاحبان کو یہ حکمِ شاہی پہنچادیا گیا۔ خیر سے دونوں جج صاحبان حاضری کے لیے تیار ہوگئے، کچھ دیر بعد فرمانِ شاہی جاری ہوا کہ صرف ایک جج حلف اٹھائے گا، جب کہ دوسرا فارغ ہے۔ دوسرا جج ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے اپنی فراغت کی وجوہات پوچھتا رہا، بلاشبہ چمنستانِ عدل کی بربادی میں باغبان خود بھی شامل رہے ہیں۔
ایک اور جگہ مصنّف لکھتے ہیں کہ جب وہ ڈی سی میانوالی تھے تو انھی دنوں مشرقی پاکستان میں ہتھیار پھینکنے والا جرنیل امیر عبداللہ نیازی بھارت کی قید سے رہا ہوکر آیا تھا، ایک روز میانوالی کے کچھ زعماء ان کے پاس درخواست لے کر آئے کہ وہ جنرل نیازی کے استقبال کے لیے جلوس نکالنا چاہتے ہیں جس کے لیے انھیں اجازت دی جائے، مہدی صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے اُن سے پوچھا کہ "جنرل نیازی کون سا کارنامہ انجام دے کر آیا ہے کہ آپ اس کا استقبال کرنا چاہتے ہیں؟ وفد کے لیڈر نے کہا اگر وہ ہتھیار نہ رکھتا تو بہت لوگ مارے جاتے، اس پر میں نے پوچھا کہ "عزت وآبرو زیادہ اہم ہے یا زندہ رہنا؟" ان کی اس بات نے دل خوش کردیا، ایک باضمیر ڈپٹی کمشنر کو یہی کہنا چاہیے تھا۔
مصنف نے کارگل کی پہاڑیوں پر جنرل مشرف کے misadventure کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا ہے کہ منتخب وزیراعظم کو اس وقت علم ہوا جب بھارت کے وزیر اعظم نے شکایت کی کہ "آپ نے تو ہماری پیٹھ میں چھرا گھرنپ دیا ہے" اس اشو کے بارے میں اگرچہ میڈیا میں بہت کچھ چھپ چکا ہے، مگر مہدی صاحب نے یہ لکھ کر پورے اشو کا نچوڑ بیان کردیا ہے کہ مشرف نے کارگل جنگ بند کرانے کے لیے بھارتی وزیراعظم واجپائی سے بات کرنے کی تجویز دی جو پرائم منسٹر نے مسترد کردی، میاں نوازشریف اور حکومت کی خاموشی کے باعث مشرف اور اس کے ساتھی کارگل جنگ کے بارے میں بیانئے کی جنگ جیت گئے ۔
مصنّف نے ایک جگہ جسٹس فائز عیسٰی کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں ملا، یہ درست ہے کیونکہ ٹرائل کورٹ کا سربراہ جسٹس مولوی مشتاق، بھٹو صاحب کا مخالف تھا۔ اس کے بعد بھٹو صاحب کے حامیوں نے اس کیس کے فیصلے کو ’جوڈیشل مرڈر‘ کہنا شروع کردیا، سپریم کورٹ نے جوڈیشل مرڈر کا لفظ استعمال نہیں کیا مگر مصنف نے بھی جوڈیشل مرڈر کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ پھر یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا نوازشریف کو فیئر ٹرائل ملاتھا؟ اور کیا آج کے "ناپسندیدہ " لیڈروں کو فیئر ٹرائل مل رہا ہے؟
اب آخر میں کتاب کے اہم ترین پہلو پر بات کروں گا، سعید مہدی صاحب کتاب کے صفحہ نمبر 168 پر لکھتے ہیں "بدقسمتی سے ہمارے سینئرز نے ہمیں حکومت کے احکامات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرنے کی ٹریننگ دی تھی" اس کے بعد انھوں نے سوالیہ انداز میں لکھا ہے کہ "کیا ہم سرکاری ملازم ہیں یا غلام ہیں؟" انھوں نے ریاست کے انتہائی اہم ستون ایگزیکٹو یا سول بیوروکریسی کو لگے گھن کی یہ کہہ کر درست نشاندہی کی ہے کہ
"From being a public service institution, the bureacracy has been reduced to an agency of political patronage"۔۔ انھوں نے مرض کی تشخیص تو کردی مگر علاج نہیں بتایا۔
چند روز پہلے ایک تقریب میں ایک معروف یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب سے ملاقات ہوئی، انھوں نے روئیداد خان کی کتابوں اور مہدی صاحب کی اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "بیوروکریٹ آخری عمر میں بھی کتاب لکھتے وقت یہی دیکھتے ہیں کہ برسرِ اقتدار کون ہے اور وہ تحریر سے ناراض تو نہیں ہوگا، بدقسمتی سے بیوروکریٹ، "اثرات" کو پیشِ نظر رکھ کر لکھتے ہیں اور حقائق اور objectivity کو جذبات، اثرات اور مفادات کی بھینٹ چڑھا کر قارئین کو اصل حقائق جاننے کے حق سے محروم کردیتے ہیں ۔
سعید مہدی صاحب کو اپنی کتاب کے ذریعے نوجوان سول سرونٹس کو بڑا واضح پیغام دینا چاہیے تھا جو وہ نہیں دے سکے" میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ سول سروس کی بچی کھچی عزت کے تحفّظ کے لیے سول سروس کے گرو اور بزرگ کی جانب سے واضح پیغام دیا جانا چاہیے تھا، جس طرح انھوں نے ڈی سی میانوالی کے طور پر جنرل نیازی کا استقبال کرنے والوں سے کہا تھا کہ "جان بچانا اہم ہے یا عزت بچانا" اسی طرح انھیں ملک کے ہزاروں سول سرونٹس کو، جنھوں نے عہدے بچانے کے لیے حکمرانوں کے ذاتی ملازموں کا کردار اپنا لیا ہے، یہ بتانا چاہیے تھا کہ "عہدہ بچانا زیادہ اہم ہے یا عزّت بچانا"، اس کتاب کے ذریعے ملک کے سینئر ترین سول سرونٹ محمد سعید مہدی کی واضح اور دوٹوک آواز اگر ان کے کانوں میں پڑتی کہ "ہمیشہ غیر جانبداری قائم رکھنا" "ضمیر کا پرچم کبھی سرنگوں نہ ہونے دینا"
اور 'Always demonstrate courage to say No to unlawful orders',
تو شاید زوال زدہ سول سروس کے کچھ ارکان اپنا قبلہ درست کرنے اور اور طرزِ عمل بدلنے پر آمادہ ہوجاتے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل