Thursday, June 25, 2026
 

سفارت، طاقت کا توازن، اورمفاہمت کی جستجو

 



کبھی کبھی تاریخ اپنے فیصلے توپوں کی گھن گرج سے نہیں بلکہ بند کمروں میں ہونے والی سرگوشیوں، سفارتی پیغامات اور طاقت کے مراکز سے اٹھنے والے مبہم اشاروں سے سناتی ہے۔ آج مشرق وسطیٰ ایک ایسے ہی دوراہے پر ایستادہ ہے جہاں خاموشی بھی معنی رکھتی ہے اور ہر بیان اپنے اندر کسی بڑے تغیر کا پیش خیمہ محسوس ہوتا ہے۔ جنوبی لبنان سے اٹھنے والا دھواں، آبنائے ہرمز میں گردش کرتی بے یقینی، تہران اور واشنگٹن کے درمیان محتاط مکالمہ، غزہ کے ملبے پر کھڑی عالمی سیاست، اور علاقائی طاقتوں کی بدلتی ترجیحات،یہ سب محض الگ الگ خبریں نہیں بلکہ ایک وسیع جغرافیائی شطرنج کے متحرک مہرے ہیں، جہاں ہر چال آنے والے سیاسی موسم کا رنگ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔  ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، غزہ جنگ کے پس منظر میں واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں پیدا ہونے والی دراڑ، اور ان سب کے درمیان پاکستان کی متوازن مگر محتاط سفارت کاری،یہ سب مل کر ایک پیچیدہ علاقائی منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں۔ اس منظرنامے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب تنازعات صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ اقتصادی راستوں، بحری گزرگاہوں، توانائی کی ترسیل، اور سفارتی میزوں پر بھی لڑی جا رہی ہیں۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملہ اس حقیقت کی تازہ یاد دہانی ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے خواہ کتنے ہی مضبوط الفاظ میں کیوں نہ لکھے جائیں، اگر ان کے پیچھے سیاسی ارادہ کمزور ہو تو وہ کاغذ کے سوا کچھ نہیں رہتے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دینا محض ایک ردِعمل نہیں بلکہ اس وسیع تر حقیقت کی نشاندہی ہے کہ اسرائیل اپنے شمالی محاذ پر عسکری دباؤ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا یہ کہنا کہ جنوبی لبنان سے پسپائی کا کوئی سوال نہیں، دراصل تل ابیب کی اس حکمت عملی کا اظہار ہے جس کے تحت عسکری برتری کو مذاکراتی leverage میں بدلا جاتا ہے۔ اسرائیل کے لیے عسکری موجودگی صرف دفاعی ضرورت نہیں بلکہ نفسیاتی برتری کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جنگ بندی کو مکمل سکون کے مرحلے میں تبدیل ہونے نہیں دیتا۔ اس تمام تناظر میں ایران اور امریکا کے مذاکرات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیان محض دھمکی نہیں بلکہ ایک واضح سفارتی پیغام ہے کہ واشنگٹن اس آبی گزرگاہ کی آزادی کو ناقابلِ سمجھوتہ مفاد سمجھتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی شہ رگ ہے، یہاں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں کو ہلا سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ یقین دہانی کہ جہازوں سے کوئی اضافی فیس یا ٹول وصول نہیں کیا جا رہا، وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر اصل مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ امریکا اور ایران کے تعلقات میں بنیادی کمی ہمیشہ اعتماد ہی رہی ہے۔ وعدوں، یقین دہانیوں اور تکنیکی مذاکرات کے باوجود دونوں ریاستیں ایک دوسرے کے ارادوں پر مکمل بھروسا نہیں کرتیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا سخت لہجہ اس امر کا غماز ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کو دباؤ سے الگ نہیں دیکھتا۔ سفارت کاری اور دباؤ کی دہری حکمت عملی امریکی خارجہ پالیسی کا پرانا جزو ہے۔ ایک طرف مذاکراتی دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے، دوسری طرف عسکری، اقتصادی اور سیاسی دباؤ کے تمام امکانات زندہ رکھے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والا فریق اکثر خود کو مکمل مساوی حیثیت میں محسوس نہیں کرتا۔ تاہم ایرانی مؤقف بھی کم سخت نہیں۔ ایرانی قیادت نے جنگ بندی کو امریکی شکست قرار دے کر دراصل داخلی سیاسی بیانیے کو تقویت دی ہے۔ تہران کے لیے یہ دکھانا ضروری ہے کہ وہ کسی جبر کے تحت نہیں جھکا بلکہ اپنی مزاحمت کے ذریعے بہتر پوزیشن حاصل کی۔ ایران کے اندر مزاحمت کا بیانیہ محض نظریاتی نہیں، عملی سیاست کا حصہ ہے۔ محمد باقر قالیباف اور اسماعیل بقائی کے بیانات اسی داخلی بیانیے کو مستحکم کرتے ہیں۔ ایران جانتا ہے کہ خطے میں اس کی طاقت صرف عسکری صلاحیت سے نہیں بلکہ اتحادی نیٹ ورکس، مزاحمتی گروہوں اور اسٹرٹیجک جغرافیے سے بھی بنتی ہے۔ لبنان، عراق، شام اور یمن میں اثرورسوخ ایران کو محض ایک قومی ریاست نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک علاقائی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہی عنصر امریکا اور اسرائیل دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔  اس پورے بحران میں ایک نئی اور غیر معمولی جہت امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں نمایاں تلخی ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن کے اندر بھی اسرائیلی پالیسیوں پر غیر مشروط اتفاق موجود نہیں۔ دہائیوں سے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو تقریباً غیر متزلزل سمجھا جاتا رہا، مگر غزہ جنگ نے اس تعلق کے اندر موجود تناؤ کو نمایاں کر دیا ہے۔ جب امریکی صدر اپنے سب سے قریبی اتحادی کے وزیر اعظم کو اس لہجے میں مخاطب کرے کہ’’ سب آپ سے تنگ آ چکے ہیں‘‘ تو یہ محض ذاتی ناراضی نہیں بلکہ پالیسی سطح پر بڑھتے اختلافات کی عکاسی ہے۔  غزہ امن منصوبے پر اختلاف اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کے اندر موجود جنگی سوچ اور امریکا کے وسیع تر علاقائی مفادات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ امریکا کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جنگ معاشی، سیاسی اور انتخابی بوجھ بن سکتی ہے، جب کہ اسرائیلی قیادت داخلی سیاسی بقا کے لیے اکثر سخت عسکری موقف اپناتی ہے۔ نیتن یاہو پر داخلی دباؤ، عدالتی مقدمات اور سیاسی اتحاد کی نزاکت انھیں سخت گیر پالیسیوں کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس کے برعکس واشنگٹن خطے میں کم از کم ایسا استحکام چاہتا ہے جو توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارتی راستوں کو محفوظ رکھ سکے۔ پاکستان کی سفارت کاری اس بحران میں خاص توجہ کی مستحق ہے۔ وزیر اعظم شہبازشریف کے قطر اور سعودی قیادت کے ساتھ روابط اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام آباد نے محض تماشائی رہنے کے بجائے رابطہ کار کا کردار اپنانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ بحران کئی جہتوں سے اہم ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ سرحدی اور اقتصادی تعلقات ہیں، دوسری جانب سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے اسٹرٹیجک روابط۔ ایسے میں کسی ایک جانب جھکاؤ پاکستان کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان نے محتاط توازن برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کا یہ موقف کہ ایران کے ساتھ تجارت میں پیش رفت پابندیوں میں نرمی سے مشروط ہے، حقیقت پسندانہ ہے۔ پاک ایران اقتصادی تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں رہی ہیں۔ توانائی، گیس پائپ لائن، سرحدی تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبے اسی سبب تعطل کا شکار رہے، اگر مذاکرات پابندیوں میں حقیقی نرمی لاتے ہیں تو نہ صرف ایران بلکہ پاکستان بھی اقتصادی طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ صرف دوطرفہ تجارت کا معاملہ نہیں بلکہ علاقائی رابطہ کاری، توانائی سلامتی اور زمینی تجارتی راہداریوں کے مستقبل سے جڑا مسئلہ ہے۔  پاکستان نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے خلیجی تعاون کونسل کے اقدامات کی حمایت کرکے ایک بار پھر علاقائی حل کی وکالت کی ہے۔ یہ موقف سفارتی طور پر دانشمندانہ ہے کیونکہ پاکستان کسی بیرونی عسکری تصادم کے بجائے علاقائی اتفاق رائے کو ترجیح دیتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کو ایک اور سنگین مسئلے کا سامنا ہے، افغان سرزمین سے بڑھتی دہشت گردی۔ دفتر خارجہ کا یہ کہنا کہ سفارتی ذرائع سے مسائل کا حل اب مشکل ہو چکا ہے، دراصل بڑھتی تشویش کی علامت ہے۔ پاکستان کے لیے مغربی سرحد پر عدم استحکام اور مغربِ ایشیا میں بحران کا بیک وقت موجود ہونا ایک پیچیدہ سیکیورٹی چیلنج ہے۔  پاکستان کے لیے یہی وقت ہے کہ وہ اصولی سفارت کاری، علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی حقیقت پسندی کے امتزاج سے اپنا کردار مزید مضبوط کرے۔ جنگوں کی آگ میں گھرا خطہ ایسے ممالک کی طرف امید سے دیکھتا ہے جو محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کی زبان بول سکیں۔ آج ضرورت صرف جنگ روکنے کی نہیں بلکہ ایسے سیاسی فریم ورک کی تشکیل کی ہے جو پائیدار امن کو ممکن بنائے۔ بصورت دیگر مشرقِ وسطیٰ بار بار اسی دائرہ خون میں لوٹتا رہے گا جہاں ہر جنگ بندی اگلی جنگ کا محض وقفہ ثابت ہوتی ہے۔ اس نازک مرحلے پر سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کون عسکری لحاظ سے زیادہ طاقتور ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون تاریخ کے اس کڑے امتحان میں زیادہ دور اندیش ثابت ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے مسلسل بحران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ جنگیں وقتی غلبہ تو دے سکتی ہیں مگر پائیدار امن ہرگز نہیں۔ اگر علاقائی اور عالمی قوتوں نے اپنی ترجیحات میں تدبر، تحمل اور سیاسی بصیرت کو جگہ نہ دی تو آج کے محدود تنازعات کل ایک وسیع تر آتش فشاں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے میں سفارت کاری کو محض وقتی ضرورت نہیں بلکہ مستقل سیاسی حکمت کے طور پر اپنانا ہوگا، کیونکہ طاقت کا حقیقی کمال محاذ گرم رکھنے میں نہیں بلکہ بگڑتے حالات کو سنبھالنے اور آنے والی نسلوں کے لیے امن کی بنیاد رکھنے میں مضمر ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل