Thursday, June 25, 2026
 

محترم ایرانی صدر کے دَورئہ پاکستان پر چند تاثرات

 



دو دن قبل ایرانی صدر ، محترم مسعود پزشکیان ، ایک روزہ دَورئہ پاکستان پر تشریف لائے ۔ وہ وزیر اعظم پاکستان،جناب شہباز شریف، کی دعوتِ خاص پر پاکستان آئے ۔ ایرانی صدر کی پاکستان تشریف آوری واقعی معنوں میں غیر معمولی قرار دی گئی ہے ۔ عزت مآب مسعود پزشکیان ویسے تو پچھلے سال اگست میں بھی پاکستان تشریف لائے تھے ، مگر اِس بار اُن کا پاکستان آنا خاص الخاص حیثیت و اہمیت رکھتا ہے۔ دُنیا بھر میں اِس یک روزہ دَورئہ پاکستان کو خبروں کے پہلے بلیٹن میں جگہ دی گئی ۔ اِس سے بھی جناب مسعود پزشکیان کے دَورئہ پاکستان کی اہمیت اُجاگر ہو تی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر ، برگن اسٹوک، میں ایران و امریکا امن ڈِیل کے حوالے سے ایران ، امریکا اور پاکستان نے جو الیکٹرانک دستخط کیے ، اِن کے فوراً بعد ایرانی صدر صاحب نے سب سے پہلے پاکستان کا دَورہ کرنے کو ترجیح دی ۔ یہی بات خاص ہے۔ یہ دَورہ دراصل اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور ریاستِ ایران کی جانب سے پاکستان اور پاکستانی اعلیٰ ترین قیادت کا شکریہ ادا کرنے کا بہانہ تھا ۔ لاریب پاکستانی قیادت نے بڑے جوکھم کے بعد ایران و امریکا خونی تصادموں کو روکا ہے اور باہمی خونریزی کو امن ڈِیل کی شکل دے کر محیر العقول کارنامہ انجام دیا ہے۔ پاکستان کے باطنی سیاسی و سماجی حالات اور معاشی صورتحال خواہ قابلِ رشک نہیں ہے ، لیکن پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے اعلیٰ ترین سفارتی محاذ پر جو کارنامہ انجام دیا ہے ، سبھی اِسے تسلیم بھی کررہے ہیں اور اِس کی تحسین و تحریم بھی ہو رہی ہے ۔ بِلاشبہ پاکستان کو عالمی سفارتی دُنیا میں بلند رتبہ ملا ہے۔ اب اِسے سنبھالے رکھنے کی ضرورت ہے۔ 23جون2026 کی شام ڈھلے وفاقی دارالحکومت ، اسلام آباد ، میں میزبان پاکستان کے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور معزز ایرانی مہمان ، محترم مسعود پزشکیان، کے درمیان جو مشترکہ نیوز کانفرنس ہُوئی ، یہ قابلِ دید بھی تھی اور قابلِ تعریف بھی ۔ اِس نیوز کانفرنس ( جس پر عالمی میڈیا کی نظریں مرکوز تھیں) کے کئی پہلو اور نکات قابلِ ذکر ہیں ۔ جناب شہباز شریف کے عقب میںکھڑے وفاقی وزرا کی تعداد اس امر کا عکاس تھی کہ اِس مشترکہ نیوز کانفرنس کی کیا حیثیت و اہمیت ہے!معزز مہمان ایرانی صدر ، محترم مسعود پزشکیان، کے عقب میں بھی اعلیٰ ایرانی وفد کے نصف درجن ارکان کھڑے تھے ۔ اِن میں ایک خاتون بھی موجود تھیں ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ’’قدامت پسند‘‘ ایرانی صدر نے ایرانی خواتین کی عالمی حیثیت کو منہا نہیں کیا ۔ بِلا شبہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ، بعد از انقلابِ ایران، ایرانی خواتین نے ایرانی مردوں کے شانہ بشانہ اور مساوی قومی کردار ادا کیا ہے ۔ میزبان پاکستانی وزیر اعظم اور مہمان ایرانی صدر کی ڈیڑھ گھنٹہ کو محیط مشترکہ نیوز کانفرنس میں شہباز شریف صاحب نہائت جذباتی نظر آئے ۔ اُن کے مقابل محترم ایرانی صدر خاصے کمپوزڈ نظر آئے ۔ یہ محض میرا نجی احساس اور ذاتی تاثر ہے ۔ ممکن ہے دوسروں کو ایسا محسوس نہ ہوا ہو۔جناب شہباز شریف نے اِس مشترکہ نیوز کانفرنس میں ساتھ تشریف فرما آرمی چیف فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر کی بھی خوب تعریف کی اور بجا کی ۔شہباز شریف صاحب نے متصل بیٹھے نائب وزیر اعظم جناب اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کی بھی تعریفیں کیں۔ یہ تعریفیں بجا بھی تھیں اور اِس امر کا اعتراف بھی کہ ایران و امریکا امن ڈِیل میں اِن شخصیات نے زبردست کردار ادا کیا ہے ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، اور نائب امریکی صدر ، جے ڈی وینس، نے بھی پاکستان کی اِنہی شخصیات کی ، عالمی میڈیا کے رُوبرو، کھل کر تحسین و تعریف کی ہے ۔ یہ تعریف درحقیقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تعریف و تحسین ہے ۔ ایران و امریکا امن ڈِیل ( جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے موسوم کیا جارہا ہے) کو معراج تک پہنچانے کے لیے یوں تو ہمارے وزیر اعظم صاحب اور فیلڈ مارشل نے بھی ایران کے دَورے کیے ، مگر اِس پُر آزمائش پراسیس کے دوران وزیر داخلہ، محسن نقوی، نے ایران کے 6دَورے کرکے سب کو حیران کر ڈالا ۔ اسلام آباد میں پاکستانی محترم وزیر اعظم اور محترم ایرانی صدر کی مشترکہ نیوز کانفرنس میں جناب شہباز شریف نے انگریزی زبان کا سہارا لیا( جسے ایک خاتون مترجم فارسی زبان میں ڈھالتی رہیں) جب کہ محترم ایرانی صدر ، مسعود پزشکیان، نے اپنی مادری و قومی زبان( فارسی) میں گفتگو کی۔کہا جاتا ہے کہ ایک بار جدید چین کے بانی و محسن ، ماؤزے تنگ، سے غیر ملکی نیوز کانفرنس کے دوران صحافی نے سوال کیا:’’ آپ انگریزی کی بجائے چینی میں اِس عالمی نیوز کانفرنس سے کیوں بات چیت کر رہے ؟۔‘‘انگریزی زبان سے پوری طرح آشنا ماؤزے تنگ نے تاریخی جواب یوں دیا تھا:’’ چین گونگا نہیں ہے ۔‘‘ مطلب ہم چینی قیادت و شہری اپنی زبان میں دُنیا سے مخاطب ہو سکتے ہیں ۔ معزز مہمان عزت مآب ایرانی صدر ، مسعود پزشکیان، نے شہباز شریف کے ساتھ اپنی مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران دو بار اپنے مترجم (Interpreter) کو ٹوکا جو اُن کے فارسی بیان کو انگریزی میں ڈھال رہا تھا ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ محترم ایرانی صدر انگریزی زبان بھی ، ماشاء اللہ، خوب جانتے ہیں ۔ اِس کے باوصف اُنھوں نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں اپنی قومی زبان، فارسی، ہی میں بات چیت کرنے کو ترجیح دی۔یوں ہم سب پاکستانیوں کے ذہنوں میں یہ بات فطری طور پر اُبھرتی رہی کہ وزیر اعظم پاکستان کو بھی محترم ایرانی مہمان صدر کی موجودگی میں پاکستان کی قومی زبان، اُردو، ہی میں بات چیت کرنی چاہیے تھی ۔ مذکورہ مشترکہ نیوز کانفرنس میںایرانی بیلسٹک میزائلوں کا ذکر بھی خوب رہا ۔ پہلے جناب شہباز شریف نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا بالتفصیل ذکر کیا ۔ شہباز شریف نے یہ کہا:’’ بیلسٹک میزائلوں پر ایران کا حق ہے ‘‘ اوریہ کہ ’’ ایران و امریکا مفاہمتی یادداشت میں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا ذکر نہیں ہے ۔‘‘ اور پھر دونوں رہنماؤں سے سوال وجواب کے موقع پر ایک بار پھر ایرانی صحافی ( جنھوں نے اپنا تعلق ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی IRNAسے بتایا) نے بیلسٹک میزائل بارے شہباز شریف سے سوال بھی پوچھ لیا۔ شہباز شریف صاحب نے تحمل سے اطمینان بخش جواب دیا ، مگر ساتھ ہی ضمناً یہ کہنا بھی مناسب سمجھا کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کو Spoilکرنے والی عالمی قوتیں بھی کم نہیں ہیں ۔ اِس منظر سے کچھ شکوک و شبہات نے سر اُٹھایا کہ آخر جناب شہباز شریف کو کیوں ایرانی بیلسٹک میزائلوں بارے وضاحتی باتیں کرنا پڑیں؟ایرانی بیلسٹک میزائلوں بارے، جواباً، محترم و معزز مہمان ایرانی صدر صاحب نے بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھا ۔اِس یک نکاتی تکرار سے مشترکہ نیوز کانفرنس کا عجب ماحول بن گیا تھا ۔ شہباز شریف صاحب نے، کمال حکمت کے ساتھ، مگر اِس ماحول میں تلخی کے عنصر کو سر اُٹھانے نہیں دیا ۔اُنہیں بخوبی علم اور احساس تھا کہ اِس نیوز کانفرنس پر دُنیا بھر کی نظریں ٹکی ہُوئی ہیں ۔ محترم ایرانی صدر ، جناب مسعود پزشکیان، واپس اپنے وطن تشریف لے جا چکے ہیں ۔ اُن کے دَورے کے اثرات مگر ابھی سامنے آنے والے ہیں ۔ پاکستانی عوام کے سوالات بھی ہنوذ اپنی جگہ پر قائم ہیں : کہ ایران و امریکا امن ڈِیل کروانے میں پاکستانی عوام کو کیا ملا؟ اور یہ کہ ایرانی صدر کے یک روزہ دَورئہ ایران سے پاکستانیوں کے حصے میں کیا آیا؟ شہباز حکومت میں مہنگائی ، بے روزگاری اور گرانی نے اہلِ پاکستان کا جس طرح کچومر نکال رکھا ہے، ایسے میں پاکستانی عوام کے یہ سوالات نہ تو بے بنیاد و بے جا ہیں اور نہ ہی بے صبری کے مظاہر ۔ البتہ اعلیٰ پاکستانی قیادت پاکستانی مساعی جمیلہ سے مطمئن اور خورسند ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل