Thursday, June 25, 2026
 

سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور تحفظات

 



امریکا ایران جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو سخت کشیدہ کر دیا تھا بلکہ عالمی امن کو بھی نئے خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ امریکا کا پروردہ اسرائیل جو اول دن سے فلسطین، لبنان اور ایران کے خلاف جنگی ماحول کو گرم رکھنے کا آرزومند تھا اور آج بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے سینے میں یہ چنگاری سلگ رہی ہے۔ اسی کے اکسانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا۔ 39 روزہ جنگ کے بعد پاکستان کی ثالثی کی مخلصانہ کوششوں سے 9 اپریل 2026 کو امریکا ایران کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی اور اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ مبصرین و تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی و ایرانی وفود کے درمیان تقریباً 19 گھنٹے مسلسل مذاکرات ہوئے تاہم کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہ ہوا اور نہ ہی کوئی اعلامیہ جاری کیا گیا۔ البتہ یہ ضرور طے ہوا کہ مذاکراتی عمل کو آگے بھی جاری رکھا جائے گا۔ امریکی وفد کے سربراہ نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کے فوری بعد اسلام آباد سے روانہ ہوگئے، جب کہ ایرانی وفد دوسرے دن باقر قالیباف کی قیادت میں پاکستانی مذاکرات کاروں سے اہم بات کے بعد ایران واپس چلا گیا۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ امریکا ایران مذاکرات کا دوسر دور جلد اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔ اس ضمن میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے دن رات ایک کرتے ہوئے ایرانی اور امریکی قیادت سے ٹیلی فونک رابطے کیے۔ سعودی عرب، قطر، عمان اور ایران کے دورے کیے اور ایرانی تجاویز کو امریکا تک اور امریکی تجاویز کو ایرانی قیادت تک پہنچانے اور بات چیت کے ذریعے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے راہیں ہموار کرنے کی مخلصانہ کوششیں بھرپور طریقے سے جاری رکھیں جس کا امریکا و ایران سمیت پوری دنیا میں برملا اعتراف اور تحسین کی گئی اور آج بھی کی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کا میڈیا وزیر اعظم شہباز شریف بالخصوص فیلڈ مارشل کی سفارت کاری کی مہارت و ذہانت کی تعریف کر رہا ہے۔  بالآخر پاکستان کی ثالثی کی کوششیں رنگ لائیں اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد کی بجائے سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برلن استاخ میں منعقد ہوا۔ تکنیکی مذاکرات کے اس دور میں امریکا کی طرف سے وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی جب کہ ایرانی وفد کی قیادت حسب سابق اسپیکر باقر قالیباف نے کی۔ مذاکرات کا پہلا دور تقریباً 50 منٹ تک جاری رہا۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ اعلامیہ بھی اسی روز جاری کیا جائے گا۔ تاہم بعض اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی روایتی دھمکی آمیز بیان بازی کے باعث مذاکراتی عمل میں تعطل پیدا ہوا اور ایرانی وفد نے باقاعدہ امریکی وفد کے سامنے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کر دیا۔ بعدازاں پاکستان اور قطر نے جوکہ ثالثی میں پاکستان کے ساتھ قدم بہ قدم کھڑا ہوا ہے کی کوشش سے ایران اور امریکا کی رضامندی سے مذاکرات کا باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جو یقینا خوش آئند امر اور آیندہ کے لیے مذاکرات کی راہیں ہموار کرے گا۔  مذکورہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور ایران آیندہ 60 روز میں حتمی معاہدے کے روڈ میپ پر متفق ہو گئے ہیں اور ابتدائی مرحلے میں دونوں ممالک نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں بات چیت شروع کر دی ہے۔ فریقین نے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان ایک رابطہ لائن بھی قائم کی گئی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانا ہے۔ لبنان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فریقین نے ایک ڈی کنفکشن سیل بھی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاسکے۔ ادھر امریکا نے ایرانی تیل کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کے 60 روز کے لیے اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔ ایران کے کچھ اثاثے بھی بحال کر دیے ہیں جو یقیناً ایک مثبت پیش رفت کی علامت ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید کم ہو گئی ہے اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا عمل دیکھا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران امریکا امن مذاکرات کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے دیرپا امن کے لیے ثالثی کے کردار کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ قطر اور پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے ہرمز ناکہ بندی اور پابندیاں ختم، منجمد اثاثے بحال اور لبنان جنگ بندی کی جانب پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے معائنے پر راضی ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے پھر دھمکی دی کہ اگر تہران معاہدے پر قائم نہیں رہتا تو پھر میں وہ کروں گا جو مجھے کرنا ہے۔ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اس قسم کے منفی، اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سے ایران امریکا امن معاہدے پر سبوتاژ کے خدشات و خطرات کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل