Thursday, June 25, 2026
 

بلوچی و براہوی زبان و ادب، ایک جائزہ

 



رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں عمومی طور پر تین زبانیں بولی جاتی ہیں۔یہ تین زبانیں بلوچی،براہوی اور پشتو ہیں۔پشتو پر اس سے پہلے بہت تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔زبان ابلاغ کا سب سے موئثر ذریعہ ہوتی ہے۔ ہر زبان کی طرح بلوچی زبان بھی ہزاروں سالوں سے پروان چڑھ رہی ہے لیکن تحریری صورت میں بہت زمانہ نہیں گزرا کہ سامنے آئی۔مہر گڑھ کی زبان ابھی دریافت و عدم دریافت کے چلمن کے پیچھے رقصاں ہے، اس لیے ہم آج بلوچی زبان کو اکھڑی جڑواں زبان قرار دے کر اس پر بات کرنے پر مجبور ہیں۔جس زبان میں مختلف لہجوں کی تعداد کم ہو اس زبان کو عظیم بننے اور کہلوانے میں مشکل پیش آتی ہے۔بلوچی زبان بولنے والے ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔بلوچستان کا کل رقبہ 347190مربع کلومیٹر ہے۔ بلوچی پاکستان کے ہر صوبے میں بولی جاتی ہے۔بلوچستان تو اس زبان کی جائے پیدائش ہے، مگر پنجاب میں ڈیرہ غازی خان،راجن پور،ملتان اور مظفر گڑھ میں بھی بولی جاتی ہے۔سندھ میں جیکب آباد،میر پور خاص،نواب شاہ اور کراچی میں جب کہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں بلوچ اکثریت میں رہتے ہیں جو بلوچی یا سرائیکی بولتے ہیں۔ بلوچی تقریباً تمام بلوچی زبان بولنے والے علاقوں میں ابھی ماضی  قریب تک ایک غیر تحریری زبان رہی ہے مگر اس کے باوجود بلوچوں نے اپنی زبان کو برقرار و محفوظ رکھا۔بلوچی زبان کے بڑے مسائل میں سے ایک مسئلہ اس کا رسم الخط ہے جو اب تک یکساں نہیں رہا۔یہی مسئلہ پنجابی زبان کا بھی ہے۔ہمیں نہیں معلوم کہ نو ہزار سال قبل مہر گڑھ کا بلوچ کیا بولتا تھا اور کیا وہ لکھتا بھی تھا یا صرف اپنی یادداشت پر ہی بھروسہ کرتا تھا۔ بلوچی ادب ابتدا میں لوک کہانیوں کو لے کرآگے بڑھا۔بلوچی لوک کہانیاں اپنی لطافت،تغزل اور بُنت میں ادب کا حسین ترین حصہ ہیں۔یہ لوک کہانیاں بہت مشہور ہیں اور قصہ گو ان کو بہت چاشنی اور انتہائی مہارت سے سنا کر لوگوں کی توجہ مبذول کرواتے ہیں۔بلوچوں کے ہاں کہانی اور شاعری بہت قدیم ہے لیکن دونوں ایک ساتھ چلتے چلتے اب بالکل الگ پہچان بنا چکی ہیں۔ان دونوں کی بنیاد ایک ہی ہے۔شاعری میں کہانی بیان ہوتی ہے اور کہانی کو شاعری میں خوبصورت اور دلچسپ بنا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح پہیلیاں اور ضرب المثال بھی بلوچی ادب کا حصہ ہیں۔بلوچی ادب کی کئی اصناف ہیں جیسے شفلی، ڈوؤ، نڑوسر،بین،شینزار،چنگ اور نیجو وغیرہ۔دنیا کی دیگر زبانوں کے قدیم ادب کی طرح بلوچی ادب کی ساری قدیم تاریخ میں زندگی کے ہر موڑ،ہر موسم کی عکاسی کرتا ہے۔اس کے آغاز سے ہی اس میں مقصدیت کا پہلو نمایاں رہا ہے۔بلوچی ادب راست بازی،غیرت ، محبت،مہمان نوازی،ہمسائے اور مہمان کی حفاظت،قول و قرار کی پابندی اور اخلاص عمل کی تعلیم دیتا ہے۔ میر مٹھا خان مری کہتے ہیں کہ اس اعتبار سے قدیم بلوچی ادب،ادب برائے زندگی کے مسلک پر کاربند رہا ہے۔بلوچی زبان کے ادب کو ہم تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا دور قدیم کلاسیکی ادب کا دور ہے۔دوسرا دور خوانینِ قلات کے زمانے کے ادب کا دور ہے اور تیسرا جدید بلوچی ادب کا دور ہے۔ جدید بلوچی ادبی دور کو ہم پھرتین ادوار میں بانٹ سکتے ہیں۔ 1940تک لکھے گئے ادب کا جدید دور، 1940 سے 1950کے درمیان لکھے گئے ادب کا دور اور 1950سے لیکر اب تک لکھے گئے جدید ادب کا دور۔ جدید بلوچی ادب میں شعری ادب کے ساتھ نثری ادب کی کئی اصناف جیسے ناول،ڈرامہ،افسانہ اور اخبارات و رسائل میں لکھے گئے مضامین شامل ہیں۔جدید ادب نے بلوچی ادب کی ترویج اور ترقی پر گرانقدر نقوش چھوڑے ہیں۔ بلوچی زبان کے ممتاز شعرا میں قدیم دور کے شعرا کے علاوہ محمد حسین عنقا،گل خان نصیر،ظہور شاہ ہاشمی،کریم دشتی،اکبر بارکزئی،آزاد جمالدینی،عطا شاد،مراد ساحر، بشیر بیدار، منظور بسمل، مبارک قاضی وغیرہ شامل ہیں۔نثری ادب میں بلوچی زبان کی ترویج و ترقی میں عبداﷲ جان جمالدینی،ظہور شاہ ہاشمی، مٹھا خان مری، غوث بخش صابر،پروفیسر غنی،عزیز بگٹی،ڈاکٹر نعمت گچکی،ایوب بلوچ،واحد بزدار،ڈاکٹر فضل خالق،امان اﷲ گچکی،ملک توقی وغیرہ شامل ہیں۔ تقسیمِ ہند سے پہلے جنگِ عظیم دوم کے دوران کوئٹہ یا بولان سے شائع ہونے والے جریدوں میں بلوچی زبان کے مضامین دیکھے جا سکتے ہیں۔اسی طرح اسی زمانے میں کراچی سندھ مدرسۃ الاسلام کے ایک سالنامے یعنی کرانیکل میں بھی ایک مضمون بلوچی زبان میں چھپا ہے۔19ویں صدی کی ابتدا میں مکتبہ درخانی نے بھی بلوچی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس ادارے سے مولوی حضور بخش نے مذہبی کتب بلوچی میں شائع کروائیں۔اس نے عربی زبان کی تدریسی کتب کا ترجمہ بھی بلوچی زبان میں کروایا۔ بلوچی ادب کے جدید دور کا شعوری اور عملی آغاز انیسویں صدی کی پانچویں دہائی سے تیز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔کراچی اور کوئٹہ ریڈیو پاکستان سے بلوچی زبان میں نشریات کا آغاز،بلوچی زبان و ادب کے لیے تنظیموں کا قیام اور بلوچی رسالوں کے اجرا نے بلوچی زبان کے نثری ادب کو نئی جہت عطا کی۔کراچی میں اسی دور میں بلوچی ادب،بلوچی بزمِ ادب،بلوچی مجلس، سرچمگ، بلوچی ادبی بورڈ اور بلوچی اکیڈمی جیسی ادبی تنظیموں کے قیام سے یہ سفر آگے بڑھا۔پھر کراچی ریڈیو پاکستان سے بلوچی نشریات نے ان ادبی تنظیموں کو مزید تقویت دی۔ اس وقت محسوس کیا گیا کہ ریڈیو کے پروگراموں کے لیے ترتیب دئے گئے پروگراموں خصوصی طور پر ڈراموں کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ اس ماحول میں نئے اور جدید بلوچی ادب کو خاصا فروغ ملا اور یوں نثر اور نظم میں نئی اصناف کا اضافہ ہوا مثلاً غزل ،رباعی،افسانہ اور مزاحمتی ادب وغیرہ ۔کراچی سے ہی بلوچی دیوان کے نام سے ایک اور ادبی ادارہ بنایا گیا۔اس ادارے نے بلوچی زبان کے نامور نقاد و شاعر گل خان نصیر کا شعری مجموعہ شائع کیا۔اس کے ساتھ ساتھ رسائل کے اجرا کا سلسلہ جاری رہا۔1958میں واجہ عبدالقیوم کی جدو جہد سے بلوچی اکیڈمی قائم ہوئی۔ان کے پابندِ سلاسل ہونے کے بعد 1961میں بلوچی اکیڈمی کوئٹہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔یہ بلوچی اکیڈمی کو ئٹہ بلوچی زبان و ادب و ثقافت کے فروغ کا سب سے بڑا اور موئثر ادارہ ہے۔اس نے قیام سے لے کر اب تک 350سے اوپر کتب شائع کی ہیں۔ایک اندازے کے مطابق تین درجن سے زائد ادارے اور بارک سوشل ویب سائٹ بلوچی زبان و ادب و ثقافت کے فروغ کے عمل میں شامل ہیں اور یوں جدید بلوچی ادب کا سفر جاری و ساری ہے۔ براہوی اس خطے میں بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک قدیم زبان ہے۔اس زبان کے بولنے والے زیادہ تر بلوچستان میں ہی سکونت پذیر ہیں۔بلوچستان میں یہ زبان زیادہ تر کوئٹہ ، مستونگ،چاغی،نوشکی اور لسبیلہ میں بولی جاتی ہے۔ ماہرینِ لسانیات کے مطابق براہوی،دراوڑی زبانوں کے خاندان سے ہے۔عمومی طور پر براہوی اور بلوچ قبائل کی شناخت بالکل ایک جیسی ہے۔دیگر زبانوں کی طرح براہوی ادب کا آغاز بھی لوک ادب سے ہی ہوا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل