Thursday, June 25, 2026
 

بھارتی پروپیگنڈا اور آزاد کشمیر میں عدم استحکام کا بیانیہ

 



جنوبی ایشیا کی سیاست میں کشمیر ہمیشہ ایک حساس اور اہم مسئلہ رہا ہے لیکن گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اس تنازع کو صرف سفارتی اور سیاسی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اطلاعاتی جنگ، پراپیگنڈے اور نفسیاتی دباؤ کے ایک نئے محاذ میں تبدیل کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال اور اس پر بھارتی وزارت خارجہ کے بیانات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کیا ہے کہ نئی دہلی محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق کے طور پر پاکستان کے داخلی معاملات میں دلچسپی لے رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ ایک خودمختار ریاست کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف بھی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور عوامی بے چینی پر تبصرے درحقیقت کشمیری عوام کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ مودی حکومت گزشتہ کئی برسوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی پالیسیوں پر ہونے والی بین الاقوامی تنقید کا سامنا کر رہی ہے۔ 5 اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ وادی میں سیاسی آزادیوں کی پابندی، سیاسی قیادت کی گرفتاریاں، ذرائع ابلاغ پر قدغنیں اور آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق اقدامات عالمی سطح پر سوالات کو جنم دیتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی قسم کی بے چینی بھارت کے لیے ایک ایسا موقع بن جاتی ہے جسے وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔بھارت کا رویہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کو محض ایک مقامی مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے پاکستان کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جب بھی آزاد کشمیر میں کوئی احتجاج، انتظامی مسئلہ یا سیاسی اختلاف سامنے آتا ہے تو بھارتی میڈیا اور سرکاری حلقے غیر معمولی سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان واقعات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جاتا ہے، انھیں بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے اور پھر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف ایک منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ اطلاعات، بیانیوں اور عوامی رائے کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ بھارت گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کے خلاف اسی نوعیت کی اطلاعاتی جنگ میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں کسی بھی احتجاجی سرگرمی کو فوری طور پر بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی فورمز پر اٹھانا اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عدم استحکام موجود ہے، جب کہ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جاری حقائق کو پس منظر میں دھکیل دیا جائے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاجی سلسلے نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں احتجاج ایک بنیادی حق ہے اور عوام کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے تاہم جب حکومت کی جانب سے متعدد مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہوں اور اس کے باوجود احتجاج کا دائرہ وسیع ہوتا چلا جائے تو یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ آیا اس تحریک کے مقاصد وہی ہیں جو ابتدا میں بیان کیے گئے تھے یا اس کے پیچھے کوئی اور سیاسی محرکات بھی کارفرما ہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے حالات میں بیرونی عناصر کے لیے داخلی اختلافات سے فائدہ اٹھانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دشمن قوتیں اکثر داخلی مسائل کو بیرونی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں معاشی مشکلات، سیاسی اختلافات یا انتظامی کمزوریاں موجود ہوں تو مخالف ریاستیں انھیں پراپیگنڈے کے ذریعے بڑھا کر پیش کرتی ہیں اور پھر انھیں عدم استحکام کے ایک بڑے بیانیے میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی منظرنامہ دکھائی دیتا ہے۔ پہلے احتجاجی سرگرمیوں کو نمایاں کیا جاتا ہے پھر انھیں ریاستی ناکامی قرار دیا جاتا ہے اور بعد ازاں انھی واقعات کو عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف سفارتی مہم کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے معاملات پر مسلسل تبصرے اس لیے بھی قابلِ اعتراض ہیں کہ خود مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال عالمی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ جس ریاست پر سیاسی آزادیوں کو محدود کرنے، اظہارِ رائے پر پابندیاں عائد کرنے اور آبادیاتی تبدیلیوں کے الزامات لگتے رہے ہوں اس کے لیے پاکستان کو حکمرانی اور انسانی حقوق کے حوالے سے لیکچر دینا اخلاقی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال کا جواب صرف ردِعمل کی سطح پر نہیں بلکہ ایک مؤثر سفارتی اور اطلاعاتی حکمت عملی کے ذریعے دینا ہوگا۔ دنیا کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل کے حل کے لیے سیاسی اور آئینی راستے موجود ہیں، جب کہ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام بنیادی سیاسی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اس فرق کو واضح کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح داخلی سطح پر بھی عوامی شکایات کے بروقت ازالے اور مؤثر حکمرانی کے ذریعے ان تمام دروازوں کو بند کیا جا سکتا ہے جنھیں بیرونی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ آج جب دنیا اطلاعاتی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے تو قومی سلامتی کا مفہوم بھی تبدیل ہو چکا ہے۔ سرحدوں کا دفاع جتنا ضروری ہے، اتنا ہی اہم قومی بیانیے اور داخلی استحکام کا تحفظ بھی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ حالات نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت ہر ایسے موقع کو استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا جا سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں، سیاسی عمل میں حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے نمائندوں سے جواب طلبی کر سکتے ہیں، جب کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی بنیادی سیاسی آزادیوں کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان داخلی استحکام، عوامی اعتماد اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دے۔ کیونکہ مضبوط ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد، سیاسی بصیرت اور قومی یکجہتی سے مضبوط ہوتی ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقت اور پروپیگنڈے کے درمیان واضح فرق قائم رکھا جا سکے اور خطے میں امن و استحکام کے راستے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل