Loading
ہر تین یوم میں ایک بار پورا قرآن پاک لازمی مکمل پڑھنا، روزانہ کم سے کم سو نوافل پڑھنا، 25 بار حج کی سعادت حاصل کی، رمضان کے روزوں کے علاوہ پورا سال نفلی روزے رکھنا، ہمیشہ کوشش ہوتی کہ کھانا مہمان کے ساتھ کھایا جائے، اکثر رات کا کھانا دیر سے کھاتے کہ مہمان آ جائے پھر کھانا کھائیں۔
جی ہاں! ہم ذکر کر رہے ہیں نواسۂ رسولؐ عربی فرزند مولا علیؓ شیر خدا و خاتون جنت دختر رسولؐ بی بی فاطمہؓ کے لال حضرت آقا حسینؓ کا جن کی ولادت پانچ شعبان المعظم چار ہجری کو ہوئی، سرکار دو جہاںؐ کا اپنے نواسے سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب آپؐ نماز ادا فرما رہے ہوتے اور مولا حسینؓ کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر فرما دیتے اور نماز مکمل کرنے کے بعد اپنی پیاری بیٹی سے فرماتے فاطمہؓ حسین کو رونے مت دیا کرو،مجھے حسین کے رونے سے دکھ ہوتا ہے۔
اگر کبھی جناب حسنینؓ بچپن میں اپنے نانا کی خدمت میں مسجد نبویؐ میں تشریف لے جاتے تو فخر کائنات ﷺ دونوں شہزادوں کی دل جوئی میں مصروف ہو جاتے۔ حضرت اقدسؐ اگر کبھی اپنی بیٹی کے گھر قیام فرماتے تو دونوں شہزادے جناب حسنینؓ شب بھر اپنے نانا کے ساتھ سونا پسند کرتے۔ چنانچہ مولائے کائنات پوری رات شہزادوں کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے۔
ایک بار فخر انبیا مسجد نبویؐ میں دونوں شہزادوں کو کندھوں پر سوار کیے ہوئے تھے کہ حضرت عمرؓ نے عرض کی’’ حضورؐ! کیا پیاری سواری ہے‘‘ یہ سن کر فاطمہؓ کے بابا نے فرمایا’’ عمرؓ! یہ بھی تو کہو کتنے پیارے سوار ہیں‘‘ جناب حسنینؓ کے فضائل میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حبیبؐ خدا جب اپنے نواسوں سے پیار کرتے تو فرماتے’’ اے اللہ! میں ان دونوں کو پیار کرتا ہوں، تو بھی ان سے پیار کر۔ ‘‘مزید فرماتے’’ اے اللہ جو ان سے پیار کرے، تو بھی ان لوگوں سے پیار کر۔‘‘
البتہ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ جو انسان جس قدر خداوند تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے ،اس انسان کی آزمائش بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے۔ چنانچہ وقت گزرتا رہا، مولا حسنینؓ نے جوانی میں قدم رکھا اور ایک پاک باز نوجوان کی مانند ایک پاکیزہ جوانی کا وقت گزارا۔ البتہ ساٹھ ہجری میں جب آقا حسینؓ کی عمر عزیز قمری سال کے مطابق 56 برس تھی تو اب آپؓ کے لیے آزمائشوں کے دور کا آغاز ہو چکا تھا۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دمشق میں یزید نے اپنے والد کی وفات کے بعد امور مملکت اپنے ہاتھ میں لے لیے اور دمشق کے تخت پر براجمان ہو گیا۔ یہ ضرور تھا کہ یزید اس عہدے کے لیے کسی بھی طرح اہل نہ تھا، دوم یزید کے اس عمل سے ملوکیت کا آغاز ہو گیا تھا۔ یزید نے عام لوگوں سے بیعت لینا شروع کر دی، البتہ اس موقع پر جن حضرات نے بیعت سے منع فرمایا ،ان میں ابن علیؓ مولا حسینؓ سرفہرست تھے۔ آپؓ سے بھی بیعت کا مطالبہ کیا گیا، آپؓ نے فیصلہ کن رویہ اختیار کیا، فرمایا کہ’’ مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت کیسے کر سکتا ہے‘‘ جب بیعت کے لیے آپؓ پر زیادہ زور ڈالا گیا تو آپؓ نے مدینہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ آپؓ مدینہ میں کسی قسم کا فساد نہیں چاہتے تھے۔ آپؓ نے مکہ میں قیام کرنے کا فیصلہ کیا، مقصد یہ تھا کہ زندگی کے دیگر ایام خداوند کریم کی عبادت میں گزاریں گے مکہ میں آپ کا قیام تقریباً تین ماہ رہا۔ حج کے ایام شروع ہو چکے تھے، البتہ حاجیوں کے روپ میں ایسے لوگ آ چکے تھے جوکہ آپؓ کو شہید کرنا چاہتے تھے۔
فساد لازمی ہوتا لیکن آپؓ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا اور ملک عراق کا سفر اختیار کیا کیونکہ عراق میں کوفہ شہر کے لوگ بے حد اصرار کر رہے تھے کہ آقا حسینؓ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں یزید کی نہیں۔ آپؓ نے کوفہ میں اپنے چچا زاد حضرت مسلمؓ بن عقیلؓ کو بھیجا ہوا تھا۔ حضرت مسلمؓ نے آپؓ کو خط ارسال کیا تھا کوفہ والے آپؓ کے منتظر ہیں اور حقیقت میں آپؓ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت سب حالات آپؓ کے موافق تھے لیکن پھر بعدازاں ابن زیاد کو جب یزید نے کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا چنانچہ ابن زیاد نے حضرت مسلمؓ کو شہید کروا دیا اور حالات یکسر بدل گئے۔ آپؓ کو حضرت مسلمؓ بن عقیلؓ کی شہادت کی خبر مل گئی، پھر بھی آپؓ نے اپنے قافلے کے ساتھ سفر جاری رکھا اور 2 محرم 61 ہجری کو کربلا میں وارد ہوئے، اسی روز وہاں خیمے نصب کر دیے گئے۔
یزیدی فوج کی آمد بھی شروع ہو گئی، حتیٰ کہ 9 محرم کا یوم آگیا، ممکن تھا اسی روز سانحہ کربلا برپا ہو جاتا۔ آپؓ نے ایک یوم کی مہلت طلب کی جو مل گئی۔ آپؓ نے اپنے ساتھیوں کو موقعہ دیا کہ تم پر ملامت نہیں، سب چلے جاؤ۔ سب نے جانے سے انکار کر دیا، چنانچہ 10 محرم کا سورج طلوع ہو گیا۔ صف بندی شروع ہو گئی، اس کیفیت میں مولا علیؓ کے شیر حضرت حسین نے اپنے ساتھیوں کو اور تمام امت رسولؐ عربی کو یہ پیغام دیا کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔ آپؓ کے اصحابؓ آپؓ پر جانیں نثار کرتے رہے اور مقام شہادت پر فائز ہوتے رہے۔ پھر شیر خدا مولا علیؓ کے شیر میدان میں آتے ہیں جن کے بارے میں احمد رضا بریلوی صاحب نے فرمایا کہ:
علیؓ کا گھرانہ بھی کیا گھرانہ ہے
جس کا ہر بچہ جسے دیکھو شیر خدا نظر آتا ہے
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل